Get Adobe Flash player

کلبھوشن یادیو کا فیصلہ ،ماہرین قانون کی عالمی عدالت پر کڑی تنقید

 بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکے عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے حوالے سے پاکستانی حکام قدرے پر اعتماد نظر آ رہے ہیں مگر اس کے برخلاف عدالت کی جانب سے بھارتی جاسوس کی سزائے موت پر عملدرآمد کو ملتوی کئے جانے بعد ملکی ماہرین قانون نے عالمی عدالت انصاف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان بار کونسل کے سابقہ وائس چیئر مین ڈاکٹر فروغ نسیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر اپنے 29مارچ2017کے اس اعلامیے کو واپس لے لینا چاہیے جس میں پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار کو منظور کیا تھا۔عدالت میں جانے کے بجائے پاکستان کو یہ اس سے پہلے ہی حل کر لینا چاہیے تھا جب بھارت کلبھوشن یادھو کا معاملہ عدالت میں لے کر گیا۔فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کیس کواس کے مضبوط ہونے کی حقیقت کے باوجودعالمی عدالت میں اس لئے لے کر نہیں گیا کیوں کہ بھارت نے اس معاملے پر عالمی عدالت کے دائرہ کار کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔بین الاقوامی قوانین کے ماہر اور سابق اٹارنی جنرل طارق کھوکرنے بھی پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت کے دائرہ کار کو منظور کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس سے اسی وقت دستبردار ہو جانا چاہیے تھا جب کہ پاکستان کو معلوم تھا کہ بھارت عالمی عدالت کے دائرہ کار کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کے فورم کی حیثیت سے فریق ممالک کو عالمی عدالت انصاف میںاپ منتخب کردہ فرد کو بطورایڈہاک جج نامزد کرنے کا اختیار حاصل تھا۔اس حوالے سے بھارت نے اپنا ایک جج عدالت میںنامزد کیا مگر بد قسمتی سے پاکستان نے ایسا کچھ بھی نہیںکیا جبکہ پاکستانی وکیل نے عدالت کی جانب سے دئیے گئے مقررہ وقت سے بھی کم وقت میں اپنے دلائل مکمل کئے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جبکہ اپنے ملک کے دہشت گردوں کو آئے دن پھانسیاں دی جا رہی ہیں اور اس دوران بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے دہشت گرد کو پھانسی نہ دی جائے ۔ انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر اس حوالے سے کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف میں اس کی سماعت کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے ہم سب کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ اب آگے اس کیس کو کس طرح لے کر چلنا ہے۔عاصمہ جہانگیر نے استفسار کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یادھو کو کونسل رسائی نہ دینے کا مشورہ کس نے دیا تھا اور آیا کہ یہ ملکی مفاد میں کیا گیا فیصلہ تھا۔کیا ایسا کرنے سے بھارت میں موجود قیدیوں کیلئے خطرہ پیدا نہیں ہو گا اور کیا کوئی بین الاقوامی قوانین کو تبدیل کرسکتا ہے؟بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس کیس کے دوسرے مرحلے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ یہ مرحلہ اس لئے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس مرحلے میںدلائل میرٹ پر مبنی ہوں گے اور پاکستان یادھو کے ذریعے بھارت کی پاکستان میں مداخلت کو بھی ثابت کر پائے گا۔ثابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عالمی عدالت نے کیس کو سمجھے بغیریادھو کی پھانسی کو روکنے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا پاکستان اپنے قانونی حکمت عملی کو تبدیل کر کے دہشت گردی کے نقطے پرمرکوز رہتے ہوئے اس کیس کو آگے لیکر چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو کہ بین الاقوامی کمیونٹی میں بھارت کے اثرورسوخ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔