Get Adobe Flash player

July 2017

31 July 2017

سری لنکن کرکٹ میں ایک اور فکسنگ اسکینڈل سامنے آگیا

سری لنکن کرکٹ میں ایک اورفکسنگ اسکینڈل سامنے آگیا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایک غیرمعروف کرکٹر اسمپتھ ہیٹاراچی کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔سری لنکا کے 2 سینئر کھلاڑیوں کی جانب سے دورہ زمبابوے کے دوران ایک غیرمعروف کرکٹر کے رویے پر شکوک کا اظہار کیا گیا جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے معاملے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کو متحرک کیا، جس نے ڈریسنگ روم کے ٹوائلٹ سے ایک ڈیوائس بھی برآمد کی، اس واقعے کو مقامی میڈیا میں ٹوائلٹ گیٹ قرار دیا جارہا ہے۔سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایشلے ڈی سلوا کا کہنا کہ ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اس طرح کی تحقیقات آزادانہ طور پر آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ ہی کرتا ہے۔واضح رہے کہ جس کھلاڑی پر الزام عائد کیا جارہا ہے وہ اسمپتھ ہیٹاراچی ہیں جنہوں نے زمبابوے کے ٹور کے دوران ٹیم میٹنگز میں بھی شرکت کی اور بعد میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ انہیں میٹنگز میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔  یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں جب بنگلا دیش سے سری لنکا ہوم ٹیسٹ میچ ہارا تھا تب بھی ایک میزبان کرکٹر سے اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

Read more

ڈی آئی جی گلگت کیخلاف سابق بیوی کی نازیباتصاویرانٹرنیٹ پراپ لوڈکرنے پر مقدمہ

ڈی آئی جی گلگت بلتستان سید جنید ارشد کے خلاف سابقہ بیوی کی نازیبا تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے اور بلیک میلنگ کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے ڈی آئی جی گلگت بلتستان سید جنید ارشد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ بااثر ملزم پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اپنے دوست دانش کے ساتھ مل کر اپنی سابقہ بیوی کو بلیک میل کیا اور اس کی نازیبا تصاویر فیس بک پر اپ لوڈ کیں۔ملزم کی سابق بیوی کی درخواست پر ایف آئی اے سائبر کرائم نے تحقیقات کرنے کے بعد ایف آئی ار درج کی۔ ایف آئی اے کی جانب سے بار بار سمن جاری کیے جانے کے باوجود ڈی آئی جی جنید ارشد نہ پیش ہوئے اور نہ ہی ایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کرایا ۔ ایف آئی اے نے جنید ارشد کو گرفتار کرنے کے لیے آئی جی گلگت بلتستان کو بھی خط لکھا مگر اس کا بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ ڈی آئی جی جنید ارشد گلگت ٹرانسفر سے قبل ایس ایس پی مانیٹرنگ ایلیٹ فورس بھی رہے ہیں۔

Read more

این اے 120ضمنی الیکشن میں بائیو میٹرک مشینیں استعمال کرنے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں بائیو میٹرک مشینوں کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔الیکشن کمیشن نے این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں بائیو میٹرک مشینوں کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق 150 کے قریب الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں الیکشن کمیشن کو موصول ہوچکی ہیں تاہم ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نادرا سے ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کرے گا اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ کس پولنگ اسٹیشن پر مشینیں نصب کی جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل کیے جانے بعد لاہور کے حلقہ این اے 120 کی سیٹ خالی ہوگئی تھی جب کہ اب آئندہ ضمنی الیکشن میں(ن) لیگ کی جانب سے شہباز شریف جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے یاسمین مدمقابل ہوں گی۔

Read more

پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بھارت میں لہرایا جانے والا ترنگا باعثِ شرمندگی بن گیا

بھارت کی جانب سے پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے سرحد کے قریب نصب کیا جانے والا 360 فٹ بلند ترنگا خود بھارت کیلئے باعث شرمندگی بن گیا۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست امرتسر میں اٹاری کے مقام پر 360 فٹ کی بلندی پر بھارتی جھنڈا (ترنگا) لہرا گیا تھا، اتنی بلندی پر جھنڈا لہرانے کے پیچھے بھارتی حکام کی نیت یہ تھی کہ ان کا پرچم پاکستان سے بھی صاف نظر آ سکے تاہم بھارت کا یہ مذموم مقصد پورا نہ ہوسکا اور تند و تیز ہوا نے بھارتی ترنگے کو تار تار کردیا جس کی وجہ سے ریاستی حکام کو جھنڈا وہاں سے ہٹانا پڑا۔افتتاح کے بعد سے اٹاری کے مقام پر لگایا جانے والا جھنڈا تیز ہواں کی وجہ سے تین بار پھٹ چکا ہے اور آخری بار ریاستی حکام نے رواں برس اپریل میں یہاں سے جھنڈا ہٹایا تھا جسے اب تک دوبارہ نہیں لگایا جا سکا۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی کے موقع پر بھی اس مقام پر جھنڈا نہیں لہرائے گا جو کہ بھارتی شہریوں کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔امرتسر کے ڈپٹی کمشنر کمال دیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار وزارت داخلہ اور وزارت بلدیات کو لکھ چکے ہیں کہ یہ جھنڈا پاکستان سے بھی نظر آتا ہے اور جب یہ پھٹ جاتا ہے تو شرمندگی پورے بھارت کو اٹھانی پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کی وزارت داخلہ اب تک کوئی حل نکالنے میں ناکام ہے کہ بار بار جھنڈے کو پھٹنے سے کیسے بچایا جائے اور عین ممکن ہے کہ اس بار 15 اگست پر اس مقام پر پرچم کشائی بھی نہ ہو سکے۔


Read more

نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلیے قومی اسمبلی کا اجلاس کل ہوگا

قومی اسمبلی کا اہم اجلاس کل ہوگا جس میں نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس کل ہو گا۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہونے والی اجلاس میں قائد ایوان منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ ہو گی۔حکومت کی جانب سے مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہد خاقان عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے جب کہ حکومت کو جمعیت علمائے اسلام (ف)حمایت بھی حاصل ہے۔پیپلزپارٹی کی جانب سے 2 نام دیئے گئے ہیں جن میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور سید نوید قمر شامل ہیں، دیگر امیدواران میں جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، ایم کیو ایم پاکستان کی کشور زہرا شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا نام دیا گیا ہے جس کو (ق) لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔واضح رہے قومی اسمبلی میں 342 کے ایوان میں وزارت عظمی کا انتخاب جیتنے کے لیے سادہ اکثریت یعنی کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت ہو گی جب کہ مسلم لیگ (ن) کے  پاس 188 ووٹ ہیں اور ںہیں اپنے اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹ بھی تقسیم ہوں گے۔اس سے قبل وزارت عظمی کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے چیمبر میں اپوزیشن پارلیمانی رہنماں کا اجلاس ہوا جو بے نتیجہ رہا اور اجلاس کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔


Read more

عمران خان کی کامیابی میں 70فیصد حصہ پیپلز پارٹی کا ہے، خورشید شاہ

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جس کو کامیابی سمجھ رہے ہیں اس میں 70 فیصد حصہ پیپلز پارٹی کا ہے۔چیر مین تحریک انصاف عمران خان کی تنقید پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے رد عمل  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کا اپنا ظرف ہوتا ہے، عمران خان جس کو کامیابی سمجھ رہے ہیں اس میں 70 فیصد کام پیپلز پارٹی کا ہے، اگر عدالت جانے کا کریڈٹ دینا ہے تو سراج الحق کو دیں جو پہلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان ایسی باتیں شروع کریں گے تو بہت سی خطرناک باتیں نکلیں گی جب کہ ان کے بیانات سے اپوزیشن اتحاد خطرے میں پڑسکتا ہے۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں اپوزیشن کا اتحاد قائم رہے، تحریک انصاف کو چاہیے عمران خان کو سمجھائیں کہ سیاست کیا ہوتی ہے، اگر عمران خان سوچتے ہیں کہ وہ (ن) لیگ سے اکیلے مقابلہ کر سکتے ہیں تو انہیں اس سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے ابھی تک نئے قائد ایوان کا اعلان نہیں کیا، عمران خان نے شیخ رشید کا نام دینے میں جلدی کی جب کہ شاہ محمود کے ساتھ طے ہوا تھا کہ مل کر فیصلہ کریں گے تاہم تحریک انصاف مل کر چلنا چاہتی ہے تو ٹھیک، نہیں تو وہ اپنا امیدوار کھڑا کر لیں جب کہ متحدہ اپوزیشن اپنے امیدوار کا اعلان اپنے اجلاس میں کرے گی۔

Read more

ملک تب چلے گا جب تمام ادارے ایک پیج پر ہوں گے، مولانا فضل الرحمان

جے یوآئی ( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی امیدوار شاہد خاقان عباسی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ رہیں گے جب کہ ملک تب چلے گا جب تمام ادارے ایک پیج پر ہوں گے۔اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ زیر غور آیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات  کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارٹی اجلاس میں نئی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا  اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی امیدوار شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنائیں گے اور مشکل وقت میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ رہیں گے جب کہ میرے خیال میں نئی کابینہ میں بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جنگ تو صرف عنوان ہے جب کہ آڑ میں سیاسی جنگ لڑی جارہی ہے اور اس غلاف کے نیچے اصل عزائم کیا ہیں اس کا پتا نہیں جب کہ نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوچکا ہے۔جے یو آئی (ف)کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم ساری دنیا اور اداروں کو پیغام دینا چاہتے ہیں ایسے نہیں چلے گا، ملک تب چلے گا جب سب ایک پیج پر ہوں گے جب کہ عالمی سطح پر گریٹ گیم کا ایجنڈا ترقی پذیر اور مسلم دنیا کو غیرمستحکم کرنا ہے لیکن ہمیں تدبر سے کام لینا ہے ، ملک کو بحران کی طرف جانے نہیں دینا۔ انہوں نے  کہا کہ نیب کے حوالے سے تحفظات ہیں، یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے کیوں کہ اصل مسئلہ62  اور63 کا نہیں بلکہ نیب کا ہے جو ایک آمر کا لایا گیا ہے جب کہ 62،63  کے تحت ایک فیصلہ آگیا مگر دفعہ 6 پرکوئی بات نہیں ہورہی۔


Read more

شہباز شریف کو وزارت عظمی سے حلف سے قبل ہی ناک آٹ کردیں گے، عوامی تحریک

پاکستان عوامی تحریک کی سینٹرل کور کمیٹی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شہباز شریف کو وزارت عظمی کا حلف اٹھانے سے قبل ہی ناک آٹ کر دیں گے۔لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں پی اے ٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی 8 اگست کو وطن واپسی کے اعلان کی توثیق  کی گئی۔سینٹرل کور کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف سانحہ ماڈل ٹان کے ماسٹر مائنڈ اور 14 بے گناہ افراد قتل میں ملوث ہیں، شہباز شریف خود سنگین انسانی حقوق خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں ایسے میں وہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی وکالت کیسے کریں گے، انہیں وزارت عظمی کا حلف اٹھانے سے قبل ہی ناک آٹ کر دیں گے۔واضح رہے کہ جون 2014 میں ماڈل ٹان میں واقع منہاج القرآن کے مرکز کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کے معاملے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی جس میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے مہناج القرآن کے 14 کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔


Read more

پیپلز پارٹی کا پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ

پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نامزد کرد امیدوار شیخ رشید کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کل وزیراعظم کے امیدوار کے لئے حتمی نام کا فیصلہ کرے گی۔اس موقع پر بلاول بھٹو زردای کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت نہیں کی جائے گی اور پیپلز پارٹی اپنیامیدوار کے ساتھ وزیراعظم کا انتخاب لڑے گی جب کہ حتمی امیدوار کا فیصلہ کل ہو گا۔واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے لئے نوید قمر اور خورشید شاہ نے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ہیں۔

Read more

اپوزیشن جماعتیں وزارت عظمی کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے میں ناکام

اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے عہدے پر متفقہ امیدوار نامزد کرنے میں ناکام ہوگئیں۔وزارت عظمی کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماں کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی ہوگیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے کمرے میں اپوزیشن پارلیمانی رہنماں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کے امیدوار کے لیے مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں خورشید شاہ، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید ، پرویز الہی ، طارق بشیر چیمہ، آفتاب شیر پا، شیخ صلاح الدین اور شیریں رحمان بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر صحافی نے اپوزیشن رہنماں سے سوال کیا کہ کیا ایک امیدوار پر اتفاق ہوجائے گا یا اختلاف برقرار رہیں گے اور اپوزیشن کے دو امیدوار سامنے آئیں گے۔ خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی نے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا جب کہ شیخ رشید نے مبہم جواب دیتے ہوئے کہا کہ دیکھیں جو اللہ کو منظور۔اپوزیشن رہنماں کے اجلاس سے قبل خورشید شاہ سے شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید نے علیحدگی میں ملاقات  کی جس کے دوران عمران خان کی جانب سے شیخ رشید کی وزارت عظمی کے لیے نامزدگی اور زرداری کے خلاف تقریر پر بات ہوئی تاہم ملاقات میں تحفظات دور نہ ہو سکے۔ ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی نے خورشید شاہ سے استفسارکیا کہ کیا ہم چلے جائیں؟ تاہم خورشید شاہ  نے انہیں جانے سے روک دیا اور اپوزیشن پارلیمانی رہنماں کے اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی۔پرویز الہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے اپوزیشن میں اتفاق رائے پیدا ہوجائے، انشا اللہ اپوزیشن کو اکٹھا رکھیں گے، عوامی مسلم لیگ ایک جماعت ہے اور شیخ رشید اس کے امیدوار ہیں۔واضح رہے کہ  پیپلز پارٹی کی جانب سے خورشید شاہ، پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ کی جانب سے شیخ رشید جب کہ ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔


Read more