Get Adobe Flash player

June 2017

30 June 2017

عالمی رینکنگ میں پاکستانی یونیورسٹیزکامقام۔۔۔تنویر اعوان

بین الاقوامی ادارے کیوایس یونیورسٹی رینکنگ نے 18/2017کے لئے دنیا بھر کی بہترین جامعات کی فہرست جاری کردی ہے ،جس میں دنیا کی بہترین یونیورسٹی امریکہ کی ایم آئی ٹی ہے، جب کہ دوسرے،تیسرے اور چوتھے نمبر پر بالترتیب امریکی یونیورسٹیز سٹینڈفورڈ ، ہارورڈاور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہے جبکہ پانچویں نمبر پر برطانوی کیمبرج یونیورسٹی ہے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کی طرح اس سال بھی پاکستانی یونیورسٹیز خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں اور پاکستان دیگر ایشیائی اور اسلامی ممالک سے پیچھے رہ گیا۔ کیو ایس 2017/18کی عالمی درجہ بندی کے مطابق 500بہترین جامعات میں پاکستان کی صرف ایک یونیورسٹی کے مقابلے میں بھارت کی 8، چین کی 21، تائیوان کی 11، سعودی عرب کی 4، قازقستان کی4، تر کی کی5، انڈونیشیا کی 3، ملائیشیا کی 5، جنوبی کوریا کی 14جامعات شامل ہیں جب کہ کیو ایس درجہ بندی کے مطابق امریکا کی 5جامعات اور برطانیہ کی 4 جامعات دنیا کی10 بہترین جامعات میں شامل ہیں یاد رہے کہ پاکستان کی صرف نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نسٹ دنیا کی500جامعات کی فہرست میں 431ویں پوزیشن کیساتھ شامل ہے جبکہ قائداعظم یونیورسٹی 651-700، لمز لاہور 710-750 کی پوزیشن پر ہیں جبکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف کراچی اور یونیورسٹی آف لاہور نے 801-1000 نے پوزیشن حاصل کی۔ تین مزیدپاکستانی جامعات یو ای ٹی لاہور، یونیورسٹی آف کراچی اور یونیورسٹی آف لاہور701ویں پوزیشن سے اس سال 801-1000پوزیشن پرآگئی ہیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی 800بہترین جامعات میں 6پاکستانی جامعات شامل تھی اور سال 1000بہترین جامعات میں بھی 6ہی پاکستانی جامعات شامل ہیں جن میں سے 4جامعات کی درجہ بندی میں تنزلی ہوئی ہے جبکہ پچھلے سال کی گلو بل کمپیٹنس رپورٹ کے مطابق پاکستان اعلی تعلیمی میدان میں 140میں سے 124ویں نمبر پر تھا ۔بلاشبہ عالمی ادارے کی رپورٹ پاکستانی یونیورسٹیز کے حوالے سے انتہائی مایوس کن ہے ،جس کے اسباب ان اداروں میں تحقیق و ریسرچ کا عالمی معیار پر نہ ہونے سمیت متعدد ہیں ،قابل تشویش امر یہ ہے کہ وسسائل کی فراوانی سمیت سالانہ اربوں روپے کے فنڈز اور مواقع ہونے کے باوجودیہ تعلیمی ادارے عالمی سطح پر اپنا مقام بنانے میں کیوں ناکام ہیں ؟یونیورسٹیز کی یہ حالت زار جہاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کے علاوہ یونیورسٹیز انتظامیہ کی اہلیت پر بھی نقطہ اعتراض ہے؟ آخر کب تک نوجوانوں کوصرف اسناد کے چند اوراق تھما کراپنے پر عائد ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی خود فریبی میں مبتلا رہیں گے؟ وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے ہماری تعلیم گاہیں نسلی ،گروہی و صوبائی عصبیت کا شکار ہوچکی ہیں، ان سے چھٹکارا کب ملے گا؟ کب ہماری نسل نو تحقیق و ریسرچ کے نئے دور کا آغاز کرے گی ؟ کب ہماری دانش گاہیں غیر ملکی طلبہ کے لیے علمی معراج کی حیثیت اختیار کریں گی ؟ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تعلیم برائے تحقیق و ریسرچ ہمارا ماٹونہیں بن جاتا ، جب تک ایجوکیشن ریفارمز کے ذریعے نظام تعلیم کی ابتری کو ختم نہیں کیا جاتا ۔

Read more

جشن فتح۔۔۔ضیاء الرحمن کشمیری

پورابھارت اپنی کرکٹ ٹیم کی پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں عبرت ناک اور تاریخی شکست پر سوگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ بھارتی کھلاڑیوں کے پتلے اور پوسٹر جلائے جا رہے تھے۔ جگہ جگہ ٹی وی سیٹ ٹوٹ رہے تھے ۔ بھارت کے ہر دوسرے گھر سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ انڈین ٹی وی چینلز پر '' موقع موقع '' کی جگہ ماتم کا سماں تھا، ایسے میںمقبوضہ کشمیر کے تمام شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں جشن منایا جا رہا تھا، رقص کیا جا رہا تھا، آتش بازی اور چراغاں کے ساتھ ہوائی فائرنگ کر کے پاکستان کی جیت کی خوشی منائی جا رہی تھی۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر ہونے والا یہ جشن بھارت کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزارتِ داخلہ اور ''را''سمیت دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارتی ٹیم کی ہار پر مقبوضہ کشمیر میں برپا ہونے والے جشن کا سخت نوٹس لے لیا ہے ۔ 19مئی کو دہلی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس ''گستاخی اور بغاوت'' پر مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ وہاں ایسی حرکت کی کسی کو جرأت نہ ہو سکے۔اس فیصلے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے کے اندرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے12بے گناہ نہتے کشمیریوںکو شہید اور ایک سو سے زائد کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ دوسری جانب اس تاریخی فتح کے موقع پر یقینا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جشنِ فتح نے جہاں پاکستانیوں کی خوشیوں کو دوبالا کیا ہے، وہاں اب بھارت حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر مظالم کی نئی سیریز شروع کرنے کی اطلاعات نے پوری پاکستانی قوم کے اندر تشویش اور اضطراب کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت ، مقبوضہ کشمیر کے اندر پاکستان کی جیت پر ہونے والے جشن پر جمہوری انداز میں سوچتا کہ جو لوگ اس کے ساتھ رہنے پر خوش نہیں ، جو لوگ اس کی غم و الم کی گھڑی میں شریک ہونے کی بجائے پاکستان کی جیت پر شاداںہیں ، ان کو اپنے ساتھ زبردستی ریاستی طاقت کے زور پر چمٹائے رکھنے کی بجائے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ''استصوابِ رائے'' کرواکر سامنے آنے والے نتائج کا احترام کیا جائے اور اپنے سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کے دعوے کی لاج رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے لیکن مقامِ افسوس ہے کہ بھارت سرکار نے ایک مرتبہ پھر اپنے جمہوری ملک ہونے کی نفی کر دی ہے اور مثبت رُخ پر سوچنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف پہلے سے جاری بد ترین مظالم میں مزید اضافہ کرکے کشمیریوں کو سزا دینے کا شرمناک فیصلہ کیا ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کے علاوہ خاص طور پر حکومت ِ پاکستان کو بھارتی سرکار کے ان گھنائونے اقدامات کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے خلاف ریاستی طاقت کے اندھا دھند استعمال بند کروانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانا چاہئیں۔ بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ ریاستی طاقت استعمال کر کے کشمیریوں کی آواز خاموش کر لے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی قوم کو طاقت اور جبر کے ذریعے زیادہ عرصہ تک زیر تسلط نہیں رکھا جا سکتا ۔ بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی متعدد تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں ، جن میں انہوںنے کشمیری قوم سے اس وعدہ کا متعدد مرتبہ اعادہ کیا کہ '' کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیا جائے گاکہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ ۔ ''لیکن آج 70سال کاعرصہ گزر چکا ہے اور اسی طرح تشنہ پڑا ہوا یہ وعدہ بھارتی حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد کی داستان سنا رہا ہے۔بالکل ایسا ہی ایک وعدہ مکار بھارتی حکمرانوں نے سکھوں کے ساتھ بھی کیا تھا۔ 1947ء سے قبل جب پاکستان اور ہندوستان کی الگ الگ مملکتوں کے قیام کا ایشو گرم ہوا تو کانگریس نے سکھوں کو آزادی دینے اور علیحدہ سکھ ریاست کے قیام کا وعدہ کیا۔مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو نے سکھوں سے وعدہ کیا تھا کہ '' آپ ہمارا ساتھ دیں ، اس کے بدلے ہم ہندوستان کے استحکام کے بعد آپ کو ایک الگ قطعہ ارضی دیںگے جہاں سِکھ قوم اپنی حکومت قائم کر کے آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ کے ثمرات سے مستفید ہو سکے گی۔'' یہی وجہ تھی کہ 1947ء میں سِکھوں نے کانگریس یعنی ہندوؤں کا بھر پور ساتھ دیا لیکن تقسیم سے لے کر آج تک 70سال گزرنے کے باوجود ہندو لیڈروں کا سکھوں سے کیا ہوا یہ وعدہ ایفاء نہ ہو سکا۔ہندو لیڈروں کی نیتوں کا کھوٹ اچھی طرح محسوس کر کے80ء کی دھائی میں جب سکھوں نے اپنے الگ وطن کے لئے خالصتان کی مسلح تحریک شروع کی تواس وقت ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر سکھوں کے خلاف ملک بھر میں بد ترین آپریشن لانچ کر دیا گیا، جس کے دوران ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے شہرامرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹمپل پر فوجی آپریشن سے بھی دریغ نہ کیا گیا۔گولڈن ٹمپل کے اوپر حملے کے رد عمل میں 1984ء میں خالصتان کی جلا وطن حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد دنیا بھر کے سکھوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے ہندوستان سے آزادی حاصل کرنا اور ''آزاد خالصتان '' کے قیام کو یقینی بنا نا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب آزاد خالصتان کا قیام دنیا بھر کے سکھوں کی سب سے بڑی تمنا اور خواہش بن چکی ہے ۔ہندو رہنمائوں کی بے اعتنائی اور بے وفائی کے ردعمل میں ہندوستان میں نہ صرف تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور تحریکِ آزاد خالصتان موومنٹ عروج پر ہیںبلکہ تامل ناڈو تحریک ، آسام کی تحریک ِ علیحدگی ، تری پورہ کی تحریک اور پروفیشنل فرنٹ کی میزو رام تحریک بھی دن بہ دن اپنے منطقی انجام کی طرف کامیابی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ تمام تحریکیں ہندوستان کے ''سب سے بڑی جمہوریت ''ہونے کے دعوے کی اصل حقیقت کو طشت از بام کرنے کے لئے کافی ہیں ۔ہندوستان کی حکومت کے برعکس حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے جذبات کا احترام کیا اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی مدد کرنے میں پیش پیش رہی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ، یورپی یونین ، او آئی سی سمیت دنیا کے ہر بڑے پلیٹ فارم پر مقبوضہ کشمیر میںجاری مظالم کے خلاف بھر پور آوازِ احتجاج بلند کی ۔اب جب کہ مقبوضہ کشمیر میں' پاکستان زندہ باد' کے نعرے ہر گلی کوچے میں بلند ہو رہے ہیں۔ کرکٹ چمپیئن ٹرافی جیتنے پر میر واعظ عمر فاروق سر عام اہلِ پاکستان کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔ اوراپنے ٹویٹر اکائونٹ پر بتا رہے ہیں کہ پورا کشمیر آج پاکستان کی جیت پر عید سے پہلے عید منا رہا ہے۔پاکستان کے قومی پرچم کے کفن میں لپیٹ کر کشمیری شہداء کے جنازے دفنائے جا رہے ہیں۔ 'کشمیر بنے گا پاکستان 'کا نعرہ کشمیری اکثریت کی شناخت بن چکا ہے، ایسے وقت میںضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ِ پاکستان پہلے سے بڑھ کر کشمیریوں کے حق میں آوازِ حمایت بلند کرے اور اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین ، او آئی سی سمیت تمام اقوام عالم کو کشمیر میںجاری بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ظلم و ستم سے آگاہ کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی مظالم اور ایل او سی پر ہونے والی بھارتی فورسز کی جارحیت کی تصاویر ، ویڈیوز اور دستاویزی ثبوت حاصل کر کے مؤثر انداز سے عالمی عدالت انصاف میں ایک جاندار مقدمہ کی صورت میں بھی پیش کیے جانا چاہئیں۔ بھارت اگر عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کمزور ترین مقدمہ بہتر طریقے سے پیش کر کے ریلیف حاصل کر سکتا ہے تو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کھلے عام جاری بھارتی مظالم اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا مضبوط ترین کیس عالمی عدالت انصاف میں بہترین طریقے سے پیش کر کے اپنے اورمقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ریلیف کیوں نہیںحاصل کرسکتا'یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کا کڑا امتحان ہے۔جس طرح وزیر اعظم پاکستان میاںمحمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں کے دوران جاندار انداز میں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی اور عالمی راہنمائوں کے سامنے احسن طریقے سے کشمیریوںکا مقدمہ پیش کیا ، اسی انداز میں سفارتی محاذ پر دنیا کے ہر ملک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کو بھی فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنے اپنے متعلقہ ممالک میں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ میڈیا اور پروپیگنڈے کا دور ہے۔ بھارت اگر اس میڈیا کے ذریعے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے تو حکومتِ پاکستان اسی میڈیا اور پروپیگنڈہ وار کے ذریعے اصل حقائق دنیا پر آشکارکیوں نہیںکر سکتی ۔واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے حالیہ مضامین میں عالمی تجزیہ نگاروں نے کھُل کر بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی ہے اوربھارتی سرکار کو کشمیریوں کے قتلِ عام میں موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔اسی تناظر میں پاکستانی قلم کاروں کی بھی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ایشو پر اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کریں اور دنیا کو اپنی تحریر کی طاقت سے دکھا دیں کہ بھارت' بغل میں چھری ،منہ میں رام رام 'کی پالیسی اختیار کر کے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق غصب کر رہا ہے بلکہ قتل عام کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے فلم انڈسٹری کو سپورٹ دینے کے لیے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات ، جہاںبحرانوں میں پھنسی فلم انڈسٹری کے لیے حوصلہ افزاء ہیں، وہاں حکومتِ پاکستان کی طرف سے ملنے والے ریلیف کے بعد فلم انڈسٹری کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کے سلگتے ایشو پر مضبوط سکرپٹ کے ساتھ فلمیںبنائیں تاکہ اس میڈیم کو بھی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے ۔کشمیریوں کے حقوق کی سیاسی ، سفارتی ، اخلاقی جدوجہد کرتے ہوئے ہمیں اپنے اسلاف کے ان اقوال کو ہر وقت اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ '' کشمیر ہماری شہ رگ ہے ۔ '' اور '' اس کی آزادی کے لیے ہمیں ہندو سے ہزار سال لڑنا پڑا تو ہم لڑیں گے ۔ ''


Read more

ایتھلیٹکس ۔۔۔رفیع عباسی

پاکستان نے تین عشرے تک ایشیئن اور کامن ویلتھ گیمز سمیت دوسرے یورپی مقابلوں میں اپنی برتری قائم کی پاکستان کے مرد ایتھلیٹ عبدالخالق کو فلائنگ برڈ آف ایشیا ،خاتون کھلاڑی نسیم حمید کو ایشین اسپرنٹر کوئین کا خطاب ملاپاکستان نے تین عشرے تک ایشین اور کامن ویلتھ گیمز سمیت دوسرے یورپی مقابلوں میں اپنی برتری قائم کی'ایتھلیٹکس1300قبل مسیح میں ایجاد ہوا، اس کھیل میں تیز دوڑنا، لمبی، اونچی چھلانگ لگانا اور جویلین تھرو، شاٹ پٹ، ٹریک ریس اور کنٹری کراس ریس جیسے ایونٹ شامل ہوتے ہیں۔ 776ق م میں پہلے اولمپکس مقابلوں میں اسے بھی شامل کیا گیا تھا۔ 1880 تک یہ کھیل دنیا کے کئی ممالک میں مقبول ہوا، وہاں اس کھیل کے انعقاد کے لیے متعدد ایسوسی ایشنز وجود میں آئیں۔ 1912 میں انٹرنیشنل ایتھلیٹکس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا جو اس کھیل کی نگرانی کرنے والی عالمی تنظیم ہے۔ سویڈن میں ہونے والے اس کے پہلے اجلاس میں 17ممالک نے شرکت کی تھی۔ اکتوبر 1993 میں اس کا ہیڈکوارٹر مناکو میں قائم کیا گیا، اس وقت تک یہ تنظیم انٹرنیشنل ایمیچرایتھلیٹکس فیڈریشن کے نام سے جانی جاتی تھی۔2001 میں اس کا نام تبدیل کرکے انٹرنیشنل ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن فیڈریشن کردیا گیا۔ اس کے زیر اہتمام ایتھلیٹک کی عالمی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایتھلیٹک کا کھیل 1948 سے شروع ہوا،1951 میں ایتھلیٹک فیڈریشن آف پاکستان کا قیام عمل میں آیا، جسے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فیڈریشن کی طرف سے منظوری دی گئی۔ 1962 میں اس کی مجلس منتظمہ کے پہلے انتخابات کا انعقاد ہوا جن میں جسٹس اے آر کارنیلس پہلے صدر اور اے یو ظفر سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اب موجودہ صدر میجر جنرل محمد اکرم ساہی ہیں۔ مذکورہ تنظیم ایشین ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن اور آئی اے اے ایف سے الحاق شدہ ہے۔ پاکستان ایتھلیٹکس نے 50سے 70کی دہائی میں عالمی سطح پر نمایاں کارنامے انجام دیئے۔1970 سے 1977 تک محمد یونس نے جرمنی میں 1500,3000اور 5000میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغے اور اعزازات جیتے، وہ ایشین چیمپئن بھی رہے۔ ماضی میں اس کھیل کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی لیکن حالیہ برسوں میں اسے نظر انداز کیا گیا، باصلاحیت کھلاڑیوں کو اولمپکس اور عالمی چیمپئن شپ جیسے اہم ٹورنامنٹس کے لیے تیار کرنے کی بجائے ان کی اس حد تک حوصلہ شکنی کی گئی کہ انہوں نے اس کھیل سے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی۔ نسیم حمید کو 2010 ساوتھ ایشین گیمز میں جنوبی ایشین گیمز میں جنوبی ایشیا کی تیز دوڑنے والی خاتون ایتھلیٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، لیکن ملکی سطح پر پذیرائی نہ ہونے کے باعث انہوں نے اس کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ ماضی میں کئی ایتھلیٹس نے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شہرت حاصل کی لیکن گزشتہ ایک عشرے سے یہ کھیل زبوں حالی کا شکار ہے۔ 50,60اور 70 کی دہائیوں میں پاکستان کے ایتھلیٹس کامیابیوں کے باب رقم کرتے رہے جب کہ ایشین ایتھلیٹکس پر پاکستان کی مدتوں حکم رانی قائم رہی۔1948 میں پاکستان کی ایتھلیٹکس ٹیم نے لندن میں 14ویں اولمپکس گیمز میں حصہ لے کر اپنے بین الاقومی سفر کا آغاز کیا۔ 1952 میں برسلز میں ہونے والی کراس کنٹری ملٹری ریس میں پاکستان کے پانچ رکنی دستے نے شرکت کی۔ اس ریس میں 9ممالک کے ایتھلیٹس نے شرکت کی اور پاکستان نے اس میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ 1952 میں ہیلسنکی میں ہونے والے 15ویں اولمپکس گیمز میں پاکستان کے 18رکنی دستے نے شرکت کی جس میں 4آفیشل بھی شامل تھے۔ پاکستانی ایتھلیٹس دوسرے مرحلے سے آگے نہیں جاسکے۔ 1952 میں لندن میں سہ ملکی مقابلے منعقد ہوئے جن میں پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا اور ان میں ان کی کارکردگی بہتر رہی۔1954 میں منیلا ، فلپائن میں ہونے والے دوسرے ایشین گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس نے اولمپکس تجربوں کو بروئے کار لاکر کر مہارت کا مظاہرہ کیا۔ 1954 میں وینکوور میں منعقدہ چیمپئن شپ میں پاکستانی ایتھلیٹس کے 9رکنی دستے نے شرکت کی اور پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں 4تمغے حاصل کیے۔ 1955 میں انٹرنیشنل ملٹری ایتھلیٹ چیمپئن شپ مقابلوں میں پاکستان آرمی کے ایتھلیٹس نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں پاکستان نے کئی تمغے اور اعزازات حاصل کیے۔ پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے ایتھلیٹک کے کھیل میں عالمی شہرت حاصل کی، ان میں سے چند کا تذکرہ نذر قارئین ہے۔صوبیدار عبدالخالق:پاکستان کے برق رفتار ایتھلیٹ عبدالخالق کا تعلق پاکستان آرمی کی ایتھلیٹک ٹیم سے تھا، جنہوں نے اپنے ایتھلیٹک کیرئیر کے دوران 36طلائی،15نقرئی اور 12کانسی کے تمغے جیتے۔ انہوں نے 1956س میں میلبورن اولمپکس،1960 میں روم اولمپکس اور 1954 کے ایشین گیمز میں شرکت کی اور اپنی کارکردگی سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔ ان کا شمار اولمپکس کے ایتھلیٹک کھلاڑیوں میں ساتویں نمبر میں ہوتا تھا۔ 1954 میں دہلی میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں انہوں نے 100میٹر کی دوڑ میں بھارت کے لیوی پنٹو کا ریکارڈ توڑا، جس پر انہیں دنیا کے تیز رفتار انسان کا خطاب دیا گیا، جب کہ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، جو اس کھیل کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے،انہوں نے ان کے دوڑنے کا انداز دیکھ کر، انہیں ایشیاء کے اڑنے والے پرندے کا خطاب دیا، اس وقت ان کی عمر صرف 21برس تھی۔ انہوں نے ان مقابلوں میں 13تمغے حاصل کیے۔ 1955 میں انہوں نے ایتھنز میں ورلڈ ملٹری گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1956 میں انہوں نے دہلی میں منعقد ہونے والے ایتھلیٹکس مقابلوں میں 100اور 200میٹر کے ایونٹس میں ایشیا کا نیا ریکارڈ قائم کیا، انہوں نے اس موقع پر دو طلائی تمغے جیتے۔ برلن میں ورلڈ ملٹری گیمز میں حصہ لے کر تین کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ 1956 میں میلبورن میں منعقد ہونے والے اولمپکس گیمز کے موقع پر ان کا کھیل عروج پر تھا۔ وہ ان مقابلوں میں 100اور 200میٹر کی دوڑ میں سیمی فائنل مرحلے تک پہنچ گئے تھے لیکن فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے چوتھی پوزیشن حاصل کی اور تمغے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ 1958 میں ٹوکیو میں ایشین گیمز کے موقع پر انہوں نے ایک طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ ڈبل ایمپائر گیمز میں وہ تیسرے نمبر پر رہے اور انہوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ قاہرہ میں ہونے والے ایتھلیٹ مقابلوں میں بھی ان کی کارکردگی بے مثال رہی اور انہوں نے ان مقابلوں میں دو طلائی تمغے حاصل کیے۔ 1962 میں ہالینڈ میں منعقد ہونے ولے ورلڈ ملٹری گیمز میں انہوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اپوہ ملائشیا میں بین الاقوامی ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں انہوں نے ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ 1962 میں جکارتہ میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں عبدالخالق سیمی فائنل مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن فائنل میں ہار گئے۔ ان کا شمار پاکستان کے ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ایتھلیٹکس کے کھیل میں پاکستان کو نمایاں مقام دلوایا۔ لیاقت علی:لیاقت علی کا شمار بھی پاکستان کے با صلاحیت ایتھلیٹس میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی جانب سے ایتھلیٹک مقابلوں میں شرکت کرتے رہے اور اپنے ملک کو اس کھیل میںعالمی مقام دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کی ابتدا قومی ایتھلیٹک چیمپئن شپ کے مقابلوں سے کی اور2009 میں قومی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔2010 میں سائوتھ ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2012 میں لندن میں سمر اولمپکس کے مقابلوں میں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی اور انہیں وائلڈکارڈ کا اعزاز ملا۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں مردوں کی 100میٹر کی دوڑ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔وہ 2009اور 2013میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ 2013 کے سیف گیمز میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔حیدر علی شاہ:پاکستان کے مایہ ناز ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے 2016 کے ریو اولمپکس میں پاکستان کے لیے واحد جب کہ کسی بھی اولمپک مقابلے کا پہلا تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نے 2008 بیجنگ میں پیرا لمپکس کے موقع پر ایتھلیٹک کی نئی تاریخ مرتب کی۔ انہوں نے ان مقابلوں میں نہ صرف چاندی کا تمغہ جیتا بلکہ 6.44میٹر طویل چھلانگ لگا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ 2010میں کوانگزہو، چین میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز کے مقابلوں میں انہوں نے لانگ جمپ میں طلائی اور 100میٹر کی دوڑ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2006میں انہوں نے کوالالمپور میں منعقد ہونے والے FESPICگیمز میں لانگ جمپ ایونٹ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 2016 کے ریو اولمپکس میں حیدر علی نے لانگ جمپ کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیتا اور یہ واحد تمغہ تھا جو اس عالمی ٹورنامنٹ میںجیتا گیاتھا۔صدف صدیقی:صدف صدیقی نے پاکستان کی جانب سے کئی بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔2008 کے بیجنگ اولمپکس کے موقع پر انہوں نے خواتین ایتھلیٹکس ٹیم میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 100میٹر کی دوڑ میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔2008 میں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 2010 میںسائوتھ ایشیئن گیمز میں انہوں نے نسیم حمید، جویریہ حسن اور نادیہ نذیر کے ساتھ حصہ لیا اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ 2010 میں ان پر چند دیگر خاتون کھلاڑیوں کے ساتھ ڈوپنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کردی گئی۔نسیم حمید:نسیم حمید کا شمار پاکستان کی مایہ ناز خاتون ایتھلیٹ میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کھیل میں اپنے کیریئر کا آغاز اپنے اسکول کی طرف سے چھٹی کلاس سے کیا، بعد میں علاقے کے اسکول اور کالج کے مقابلوں میں حصہ لے کر مقامی سطح پر کامیابی حاصل کی۔2003 میںپاکستان ریلویز کی ایتھلیٹک ٹیم میں کھیلنے کا کنٹریکٹ سائن کیا۔ 2004 میں آرمی کے شعبہ کھیل سے وابستہ ہوگئیں جس کے بعد انہیں کورنگی میں آرمی گراونڈ اور کھیلوں کی دیگر سہولتوں سے استفادہ کرنے کے مواقع مل گئے۔ وہ2011تک آرمی کی ایتھلیکٹ ٹیم سے وابستہ رہیں۔ 2004 میں ہونے والی نیشنل چیمپئن شپ میں آرمی کی طرف سے شرکت کی اور ایک طلائی، دو نقرئی اور دو کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ 2005 میں پاکستان ایتھلیٹک فیڈریشن کی جونیئر چیمپئن شپ جیتی اور جونیئر چیمپئن کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 4طلائی تمغے بھی جیتے۔ 2005 میںسائوتھ ایشین گیمز میں جونیئر ایتھلیٹ کی حیثیت سے شرکت کی۔ 2006 میں پاکستان اسٹیل ملز میں منعقد ہونے والی ڈے اینڈ نائٹ قومی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 2005 میں ایران میں ہونے والے اسلامک گیمز میں پاکستان آرمی کی نمائندگی کی اور 60میٹر کی دوڑ میں ریکارڈ قائم کیا جو اب تک برقرار ہے۔ 2012 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک قومی چیمپئن شپ کے مقابلوں میں ہر سال حصہ لیا اور پہلی و دوسری پوزیشن حاصل کرتی رہیں۔ جب پاکستان ایتھلیٹک فیڈریشن نے 2010 میں ڈھاکا میں ہونے والے سیف گیمز کے لیے خواتین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تو ان کی نظر آرمی کی ایتھلیٹ اور ویمن قومی چیمپئن، نسیم حمید پر بھی پڑی، اور انہیں ساوتھ ایشین گیمز کے لیے خواتین ایتھلیٹس کے دستے میںشامل کرلیا گیا۔ سیف گیمز میں ان کی کارکردگی بے مثال رہی اور انہوں نے 100میٹر کی دوڑ جیت کر نہ صرف طلائی تمغہ حاصل کیا بلکہ انہیں ایشین ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی جانب سے اسپرنٹر کوئین آف ایشیاء کا خطاب بھی دیا گیا۔ پاکستان واپسی پر اس وقت کے صدر سید آصف علی زرداری نے ان سے ایوان صدر میں ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے نسیم حمید کو پاکستان کے کھیلوں کی سفیر کی حیثیت سے تعیناتی ، دس لاکھ روپے نقد انعام اورکراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں ایک فلیٹ دینے کا بھی اعلان کیا جب کہ اس وقت کے وزیر اعظم ، یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بھی 10لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا۔ وہ اس پذیرائی سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے اپنی نگاہیں 2012 کے اولمپک گیمز کی طرف مرکوزکردیں۔ صدر پاکستان کے اعلانات میں سے انہیں طلائی تمغے  کے عوض دس لاکھ روپے تو ادا کردیئے گئے لیکن صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے کیے جانے والے دیگر اعلانات بیوروکریسی کی تنگ نظری کا شکار ہوگئے، نہ توان کی کھیلوں کے سفیر کی حیثیت سے تعیناتی کا پروانہ جاری کیا گیااور نہ ہی نقد انعام اور رہائشی فلیٹ ملا۔2012 میں پشاور میں منعقدہونے والے قومی کھیلوں میں انہوں نے 100میٹر کی دوڑ جیت کر طلائی تمغہ حاصل کیا، اسی سال انہوں نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ صرف ایتھلیٹک کے کھیل بلکہ آرمی کی ٹیم سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ایتھلیٹ، اندرون و بیرون ملک بے شمار تمغے اور اعزازات جیتنے والی نسیم حمید کو اسپرنٹر کوئین کی حیثیت سے ملنے والی شہرت کے باعث کھیلوں کی سرپرستی کرنے والی مخیر شخصیات سے اتنا مالی تعاون حاصل ہوگیا کہ انہوں نے اپنے علاقے میں غریب بچوں کی ایتھلیٹک و دیگر کھیلوں میں تربیت کے لیے نسیم حمید اکیڈمی کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے اور ایک رفاہی ادارے میں معذوروں کے ایتھلیٹک کوچ کے فرائض انجام دینے کے علاوہ کھیلوں کے ایونٹس بھی آرگنائز کرتی ہیں جب کہ ایک ویلفیئر فائونڈیشن کی جانب سے 2018میں اسٹریٹ چلڈرن ورلڈ کپ کے لیے کھلاڑیوں کو تربیت دے رہی ہیں۔



Read more

ہاشمی کا بیان نواز شریف کی حمایت۔۔۔سید انور محمود

ملتان سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے اکیس جون 2017 کو ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک طویل بیان دیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی بدعنوانیوں کا ذکر کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پٹواریوں کو 15,20 کروڑ روپے میں پارٹی ٹکٹ بیچے، شوکت خانم اسپتال کا پیسہ تھائی لینڈ میں سرمایہ کرکے ڈبونا نوازشریف کے جرم سے زیادہ بڑاجرم ہے۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے سپریم کورٹ اور فوج کو بھی للکارا ہے، جاوید ہاشمی نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا قاتل سپریم کورٹ اور جنرل ضیاء کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے ہی نظریہ ضرورت کے تحت ڈکٹیٹروں کو مواقع فراہم کیے، بھٹو کی پھانسی پر جسٹس نسیم حسن شاہ نے کہا کہ ان پر دبائو ہے ضیاء الحق نے برملا کہا کہ اگر ججز بازنہ آئے تو ہم اپنی ملٹری کورٹ لگائیں گے۔بھٹو کو ہر قیمت پر پھانسی دینگے، ہمارے ادارے اور بیورو کریسی نے بہت ناانصافیاں کی ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی سپریم کورٹ نے دی اور انہیں قتل کیا۔ جاوید ہاشمی نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کو یہ حق کس نے دیا کہ کسی کو گارڈ فادر اور سیسلین مافیا کہے۔ متنازع جے آئی ٹی سے انتقام ہوجائیگا احتساب نہیں، یہ کہنا کیا طریقہ ہے کہ مشرف کو نہ بچایا تو تم بھی نہیں بچو گے۔ نوازشریف، حسین نوازسمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے لیکن یکطرفہ معاملات کی بو نہیں آنی چاہئے۔جاوید ہاشمی جس سپریم کورٹ کو رو رہے ہیں وہ تو ہمیشہ سے ہی نظریہ ضرورت کے تحت ڈکٹیٹروں کو مواقع فراہم کرتی رہی ہے، لیکن یہ ہی سپریم کورٹ اپنے پسندیدہ سول حکمران نواز شریف کو بھی سپورٹ کرتی رہی ہے۔ بینظیر بھٹوکی حکومت تو بحال نہ ہوپائی کیونکہ سپریم کورٹ اور فوج کی منشا نہیں تھی لیکن اسی سپریم کورٹ نے نواز شریف کی پہلی حکومت کو بحال کیا تھا، اس وقت سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس نسیم حسن شاہ تھے جو بھٹو کو پھانسی دلوانے میں بھی شریک تھے اوراس وقت مرحوم بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ یہ سب چمک کا کمال ہے ۔حال ہی میں ایک جے آئی ٹی بنائی گئی اس میں نواز شریف اور انکے دونوں بیٹے پیش ہوئے، انکے بڑے بیٹے حسین نواز جو جے آئی ٹی کے سامنے پانچ مرتبہ پیش ہوئے انہوں نے اور ان کے درباریوں نے جے آئی ٹی کے خلاف ایک طوفان کھڑا کردیا ہے اور اب جے آئی ٹی متنازع ہوچکی ہے۔ سرکاری ادارے جے آئی ٹی سے تعاون نہیں کررہے ہیں۔ لہذا دس جولائی کے بعد سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ متنازع ہوگا۔مخدوم جاوید ہاشمی تین سیاسی جماعتوں اور ایک ظالم فوجی آمر کی محبوبہ رہے ہیں لیکن وفا وہ کسی سے نہ کرسکے۔ جاوید ہاشمی نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی عملی سیاست کا آغاز 1978 میں فوجی آمریت کے سائے میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور نوجوانان کی حیثیت سے کیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی لازمی ہے کہ اس وقت جاوید ہاشمی پرقتل کے الزامات کی خبریں بھی اخبارات میں آرہی تھیں۔ جاوید ہاشمی کی آخری جماعت جس کے وہ صدر بھی رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف ہے، اس جماعت کے سربراہ عمران خان ہی وہ شخصیت ہیں جو نواز شریف اور انکے بچوں کو پاناما پیپرزکیس میں سپریم کورٹ میں  لائے ہیں۔ 25 دسمبر 2011کو جاوید ہاشمی نے ن لیگ سے بغاوت کی اور تحریک انصاف کو جوائن کرلیا۔یکم اکتوبر 2014 کو جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کی صدارت اور بنیادی رکنیت سے استعفی دیدیا تھا۔ تحریک انصاف کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جاوید ہاشمی نے کہا تھاکہ عمران خان کرپشن کے خلاف جنگ کررہے ہیں اور وہ جمہوریت کے استحکام کی اس جنگ میں ان کے شانہ بشانہ ہیں لیکن آج وہی جاوید ہاشمی عمران خان کو نواز شریف سے بڑا مجرم کہہ رہے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے اپنے ایک بیان سے عمران خان، عدلیہ اور فوج کے علاوہ پرویز مشرف کو بھی ڈرانے کی کوشش کی ہے ، جبکہ پیپلزپارٹی سے حمایت حاصل کرنے کیلئے بھٹو کی پھانسی کا ذمہ دار سپریم کورٹ اور فوج کو کہہ رہے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جاوید ہاشمی کو بھٹو کی پھانسی کا تذکرہ کرتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہ ہوئی ، ان کو یہ ضرور یاد ہوگا کہ جب فوجی آمرجنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی تو جاوید ہاشمی فوجی آمر کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ قوم نے انہیں گیارہ مرتبہ منتخب کیا ہے، جاوید ہاشمی کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس قوم نے ان کو گیارہ مرتبہ منتخب کیا تھا اسی قوم نے ملتان کے حلقے این اے 149 جس سے وہ ہمیشہ جیتے تھے 16 اکتوبر 2014 کے ضمنی انتخاب میں ان کو بارویں مرتبہ مسترد کردیا اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کو کامیاب کروادیا۔ مخدوم جاوید ہاشمی ایک بات یاد رکھیں کہ انہوں نے اپنے تازہ بیان میں جو الزامات عمران خان پر لگائے ہیں،یہ تو مستقل عمران خان پر لگتے رہے ہیں۔،اس لیے عوام کی نظر میں ان الزامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔



Read more

مودی ٹرمپ ملاقات اور امریکی تضادات۔۔۔ضمیر نفیس

مودی ٹرمپ ملاقات سے کس کے مفادات پورے ہوئے امریکہ کے یا بھارت کے اس پر سنجیدہ حلقوں میں بحث جاری ہے۔بظاہر بھارت نے یہ کامیابی حاصل کی کہ امریکہ نے کشمیری لیڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے دیا اور پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے استعمال نہ ہو مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ وہ پاکستان میں سرگرم جیش محمد اور لشکرطیبہ سمیت شدت پسند تنظیموں سے لاحق خطرات کے خلاف تعاون میں اضافہ کریں گے۔لیکن یہ ملاقات کا ایک پہلو ہے درحقیقت امریکہ کی ٹرمپ حکومت کی یہ پالیسی  ہے کہ وہ دنیا بھر کے دوروں سے امریکہ کے لئے معاشی مفادات حاصل کرے اس سے سینکڑوں امریکیوں کو ملازمتیں بھی ملیں گی' حال ہی میں ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران ایک سو بیس ارب ڈالر کے دفاعی سامان کے معاہدے کئے جبکہ قطر کے خلاف امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ جاری کرنے کے فوراً بعد قطر سے چودہ ارب ڈالر کے معاہدے کئے اسی طرح اس نے مودی کے دورے کے دوران بھی معاشی مقاصد حاصل کئے بھارت امریکہ سے اپنی ائیر لائن کے لئے ایک سو کے لگ بھگ طیارے خرید رہا ہے جبکہ امریکہ اسے ڈرون فروخت کرنے کے لئے بھی تیار ہے گویا امریکہ نے بھارت کے ساتھ کاروبار کرکے اسے خوش کرنے کے لئے کشمیری لیڈر کو دہشت گرد قرار دے دیا  مگر بھارت کی ناکامیوں  پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ سی پیک ہے لیکن اس کی مخالفت میں وہ امریکہ سے حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا مودی ٹرمپ  ملاقات سے  یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ چین کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے امریکہ کا رویہ اب چین کے  معاملے میں جارحانہ نہیں رہا چنانچہ بھارت کی خواہش کے باوجود امریکہ اس معاملے میں لاتعلق رہا ' بھارت کی بڑی سفارتی شکست ہے۔امریکہ نے مذاکرات سے قبل سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا مگر امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے جو بیان دیا وہ تضادات کا مجموعہ ہے یہ کہا گیا امریکہ اور اس کے عوام کی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے کو عالمی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے مگر حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر  صلاح الدین کبھی بھی امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ نہ تھے ان کی جدوجہد صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کے گرد گھومتی ہے امریکہ کے پاس بظاہر انہیں عالمی دہشت گرد قرار دینے کا کوئی جواز نہیںہے۔بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے امریکہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کر دیا دنیا بھر میں انسانی حقوق کا چرچا کرنے والے امریکہ کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم یاد نہیں آئے جس طرح بھارتی فوجی پیلٹ گن کے ذریعے کشمیری نوجوانوں اور معصوم بچوں کو بینائی سے محروم کر رہے ہیں امریکہ نے اس کا ذکر بھی نہ کیا حالانکہ اس معاملے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے واضح طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے اس کی ٹیم کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی جارہی مگر امریکہ نے اقوام متحدہ کے اس اہم ادارے کی تشویش کو بھی نظرانداز  کر دیا' امریکہ نے بھارت کی زبان بول کر اسے خوش کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ضروری نہیں کہ امریکہ جو کہتا ہے وہی سچ ہے دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان نے کتنی قربانیاں دیں اور اس کے خاتمہ کے لئے کتنی کامیابیاں حاصل کیں بھارت تو وہ ہے جس نے افغانستان میں موجود پاکستان مخالف دہشت گردوں کی پشت پناہی کرکے انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کیا' پاکستان کے دفتر خارجہ نے صلاح الدین کے بارے میں امریکی فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی' سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا' وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے بجا طور پر کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی وائٹ ہائوس یاترا کے بعد امریکی حکومت کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک معصوم کشمیریوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے یہ انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی قوانین کا کشمیر میں اطلاق نہیں ہوتا۔


Read more

قطر سے عرب ممالک کے مطالبات اس کی خودمختاری کے منافی

سعودی عرب قطر تنازعہ میں سعودی عرب نے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے عرب ممالک کی جانب سے قطر سے کئے گئے 13مطالبات کے بعد خلیجی ممالک کے سفارتکاروں کی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے اور انہوں نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کی ہیں جبکہ قطر کے وزیر خارجہ نے بھی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے اگرچہ کویت  اس تنازعہ میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اب تک اس کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوسکیں ادھر سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹوئٹر  پیغام میں کہا ہے کہ قطر سے ہمارے مطالبات پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں اب یہ قطر پر منحصر ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت نہ کرے۔یہ امر غور طلب ہے کہ قطر سے مطالبات میں ٹی وی  چینل الجزیرہ کی بندش' ایران سے  تعلقات میں سرد مہری لانا اور قطرمیں ترکی کے فوجی بیس کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ اور قطر کے داخلی اور خودمختاری کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں الجزیرہ چینل کی بندش کا مطالبہ بھی ایک ایسا ہی مطالبہ ہے اگر اس کی نشریات کے کسی پہلو پر کسی کو اعتراض ہے تو اس کے اعتراضات کو رفع کیا جاسکتا ہے اس امر کی جانچ پڑتال کی جاسکتی ہے کہ مذکورہ ٹی وی چینل دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پرچار اور اس کے فروغ میں کوئی کردار ادا نہ کرے مگر اس کی بندش کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی ملک کو اگر بی بی سی کی چند خبروں پر اعتراض ہے تو وہ سرے سے ہی برطانیہ سے اس کی بندش کا مطالبہ کر دے غلط خبر کی تردید کی جاسکتی ہے یا متعلقہ فریق اس پر قانونی کارروائی کر سکتا ہے لیکن سرے سے متعلقہ چینل کی بندش کا مطالبہ مضحکہ خیز اور غیر حقیقی ہے۔اسی طرح یہ مطالبہ بھی بے معانی اور مضحکہ خیز ہے کہ قطر ایران کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پیدا کرے گویا ایک خودمختار ملک کو خارجہ پالیسی کے معاملے میں ڈکٹیشن دی جارہی ہے کہ اسے کس کے ساتھ تعلقات کو دوستانہ رکھنا ہے اور کس کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنی اور سرد مہری لانی ہے۔ قطر' سعودی عرب یا کسی عرب ملک کی  نو آبادی نہیں ہے کہ اپنی خارجہ پالیسی کو اپنے آقا کے اشارے پر مرتب کرے وہ نیپال بھی نہیں ہے کہ جس طرح بھارت اسے ڈکٹیشن دیتا ہے اسی طرح کوئی عرب ملک اسے ڈکٹیٹ کرے یہ مطالبہ بھی سراسر اس کی خودمختاری کو ختم کرنے کے مترادف ہے کہ وہ ترکی کے فوجی بیس کو ختم کرے قطر ترکی کے ساتھ اپنے معاہدوں سے کیسے انحراف کر سکتا ہے اور جن معاہدوں کا اس کی سلامتی سے تعلق ہو انہیں ختم کرنے کا مطلب اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دفاع کے لئے جو بھی اقدامات کرے اور کسی بھی دوست ملک سے دفاعی تعاون کے معاہدے کرے اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ معاہدوں کے لئے دوسروں سے مشورے نہیں کرتے جس طرح سعودی عرب نے امریکہ سے 120ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں کے ضمن میں کسی سے مشورہ نہیں کیا' سعودی عرب سمیت ہر خلیجی ملک اپنے دفاع اور سلامتی کے بارے میں جس قسم کے اقدامات کرتا ہے قطر کو بھی اس نوعیت کے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے سعودیعرب سمیت بعض ممالک کی طرف سے تمام کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قطر ان کا تابع فرمان بن کر رہ جائے قطر اس تصور کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

Read more

چین کے علاقے میں دراندازی' آخر بھارت کیا چاہتا ہے؟

چین نے سکم کے علاقے ڈونگ لونگ میں بھارتی دراندازی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اسے62ء کی شکست سے سبق سیکھنا چاہیے بھارتی فوج کے یہاں سے نکلنے تک سرحدی مسائل کے حل کے لئے بامقصد مذاکرات نہیں ہوسکتے یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کو بھارتی فوج کی مذکورہ علاقے میں کارروائیوں کی تصاویر بھی دکھائیں ترجمان کا کہنا تھا کہ سکم بارڈر پر بھارتی فوج نے سڑک کی تعمیراتی کام کو روکا اور اس میں رکاوٹیں پیدا کیں چنانچہ یہ مسئلہ دونوں ملکوں کی افواج میں محاذ آرائی کا سبب بن رہا ہے ترجمان نے کہا کہ صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بھارت اپنے فوجیوں کو واپس بلائے ترجمان نے میڈیا کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ سچائی کو نہیں چھپایا جاسکتا جب سے غیر قانونی دخل اندازی کی گئی ہم نے نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان سنجیدہ اقدامات کئے ہیں سفارتی رابطے بحال ہیں اور ہم نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ فوراً علاقے سے فوج نکالے یہ اس کے حل کے لئے پیشگی شرط ہے۔ادھر چین کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چینی فوج اپنے علاقے میں ہے بھارت اپنی غلط کاریوں کو درست کرے ہمارا یہ ردعمل علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے ہے وزارت دفاع کے ترجمان نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ بھارتی فوج تاریخ سے سبق سیکھے گی اور بھارت جنگ کے حق میں بولنا بند کر دے گا یہ امر غور طلب ہے کہ بھارتی آرمی چیف نے کہا تھا کہ بھارت چین' پاکستان اور اندر  سے لاحق سیکورٹی خطرات سے  نمٹنے کے لئے تیار ہے انہوں نے کہا کہ بھارت جنگ کی رٹ لگانا چھوڑ دے اس قسم کا بیان سراسر ناقابل قبول ہے ترجمان نے بھوٹان کے الزامات کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ چین کے فوجیوں نے اس کی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کی۔اردناچل پردیش کے علاوہ سکم کے متنازعہ علاقے میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ ہیں بھارت کے ساتھ 4057کلو میٹر طویل معمالیائی سرحدوں میں سے چین 206کلومیٹر سکم تبت سرحد کو غیر متنازعہ اور آباد علاقے تسلیم کرتا ہے جس کے بارے میں 1890 میں اینگلوسکم کنونشن میں طے کیا گیا تھا سکم 1975ء سے پہلے ایک آزاد ملک رہا بعدازاں چین نے سکم کے آزاد ملک ہونے کے دعوے کو چیلنج کیا تھا۔مبصرین کے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ بھارت نے سکم کے علاقے میں دراندازی کیوں کی اور سکم بارڈر پر سڑک کے تعمیراتی کام میں رکاوٹیں کیوں پیدا کیں شاید بھارتی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کا خمار تھا کہ بھارتی فوج نے دراندازی کی چین نے اس کی دراندازی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ بھارت اپنے فوجیوں کو واپس بلائے' ابھی تک چین نے بھارتی دراندازی کا عسکری انداز سے جواب نہیں دیا اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اگر بھارت نے اپنے فوجی واپس نہ بلائے تو اس امر کے امکانات موجود ہیں کہ چین کی طرف سے بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا' بھارتی رویہ اور عمل خطے میں کشیدگی کا باعث ہے' وہ کبھی پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی کرتا ہے کبھی چین کے ساتھ' یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ اس نے ورکنگ بائونڈری اور ایل او سی پر کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور ماحول میں کشیدگی پیدا کی ہے اب اس نے چین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے اس کا یہ طرز عمل خطے کے امن و استحکام کے لئے خطرہ ہے پاکستان اور چین کی طرف سے جس  تحمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس پر نئی دہلی کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اسے ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے عوام و خطے کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ امریکی شبہ پر عملدرآمد  سے اس کا ہی نقصان ہوگا امریکہ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔


Read more

معروف اینکر رابعہ انعم کی منگنی ہو گئی، دولہا کون ہے اور کیا کرتا ہے؟ آپ بھی جانئے

پاکستان کی ایک اور معروف و خوبصورت اینکر رابعہ انعم کی منگنی ہو گئی ہے جس کی تصدیق انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکانٹ پر اپنے منگیتر کیساتھ لی گئی تصویر شیئر کر کے کی۔ یہ خبر سامنے آتے ہی جہاں ان کے مداح خوش ہو گئے ہیں وہیں ان سے شادی کے خواہشمند افراد پر مایوسی چھا گئی ہے۔رابعہ انعم آر وائی نیوز میں کام کرتی تھیں اورگزشتہ چند سالوں سے وہ جیو نیوز کیساتھ منسلک ہیں۔ان کی منگنی کی تصویر شیئر ہونے کے بعد بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر وہ کو ن ہے جو رابعہ انعم کا دل چرانے میں کامیاب ہوا۔ تو جناب! ان کے منگیتر کا نام عبید ہے جو دبئی میں مقیم ہیں اور امارات ائیرلائنز میں کام کرتے ہیں۔ایک جانب جہاں ان کے مداح منگنی کی خبر پر خوش ہیں اور مبارکباد پیش کر رہے ہیں تو وہیں بہت سے ایسے لوگ جو رابعہ انعم سے شادی کے خواہشمند تھے، وہ مایوس اور غمگین ہیں۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تو جب مومنہ مستحسن کی منگنی کی خبر سامنے آئی تھی، تب بھی مداحوں اور چاہنے والوں کی جانب سے ایسا ہی ردعمل دیکھنے کو ملا تھا۔

Read more

روسی باڈی بلڈر کا4200ٹن وزنی بحری جہاز کھینچنے کا عالمی ریکارڈ

طاقت اور مہارت کا حیرت انگیز مظاہرہ کرتے ہوئے روسی باڈی بلڈر نے4200ٹن وزنی بحری جہاز کھینچ کرعالمی ریکارڈ قائم کردیا۔جسم کو تندرست و توانا رکھنے کیلئے باڈی بلڈنگ تو کئی لوگ کرتے ہیں لیکن ان صاحب کا جسم تو شاید فولادی ہے جب ہی تو ایسا ہمت والا کام کر ڈالا ہے۔روس سے تعلق رکھنے والے باڈی بلڈر ایوان سیوکن نامی باڈی بلڈر نے 4200ٹن وزنی بحری جہاز کو مضبوط رسیوں کی مدد سے2 اعشاریہ 5میٹر تک کھینچ کر یہ ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ریکارڈ قائم کرنے کے بعدایوان کا کہنا تھا کہ یہ کام مشکل ضرور تھا لیکن میں نے ہار بالکل نہیں مانی اور اسے زندگی کا ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایوان کئی بھاری مشینیں کھینچ کرعالمی ریکارڈ قائم کرچکا ہے۔

Read more

ملکی بڑی سیا سی شخصیت معروف پشتوگلوکارہ گل پانڑا کے عشق میں مبتلا

عوامی نیشنل پارٹی کا صوبائی رہنمامعروف پشتوگلوکارہ گل پانڑا کے عشق میں مبتلاہوگیا اور اپنے عشق کی نشانی کے طورپر پشاور کینٹ میں موجود کروڑوں روپے کا بنگلہ بھی تحفے میں دے دیا، یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دونوں کے درمیان 2013یا اس سے بھی پہلے کا تعلق ہے ۔ اے این پی کے صوبائی رہنماگل پانڑا کے عشق میں مبتلاہیں اور دونوں کے درمیان یہ سلسلہ اس وقت شروع ہواتھا جب اے این پی کے دور حکومت میں گل پانڑا نشترہال میں کلچر ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام ایک شومیں پرفارمنس کرنے آئی تھیں ، جبکہ موصوف مہمان خصوصی کے طورپر ایک پروگرام میں شریک ہوئے تھے ، شو کے اختتام پر دونوں میں ملاقات ہوئی اور تب سے یہ سلسلہ چل پڑا۔



Read more