Get Adobe Flash player

February 2017

01 March 2017

دہشت گردی کی شاخیں اورتنے۔۔۔وثال خان

ویسے تووطن عزیزکے باشندے تب سے سکون کی سانس کوترس گئے ہیں جب سے سوویت یونین افغانستان پرحملہ آورہوا1979سے لیکرتاحال پاکستان میں بم دھماکوں کاایک نہ رکنے والاسلسلہ چل رہاہے ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ دھماکے اب تک ایک لاکھ افرادکی جان لے چکے ہیں مساجد، مدرسوں،بازاروں، امام بارگاہوں ،چر چوں اوردیگرعبادتگاہوں سمیت سکول کا لجز  اوریونیورسٹیاں تک بارودکی گونج گرج سے محفوظ نہ رہ سکیں اورجن درودیوارنے بچوں کے قہقہوں سے گونجنا تھا انہی بچوں کے خون سے رنگین ہوگئے ہزاروں بوڑھے کندھوں نے اپنے جوان بچوں کے جنازے اٹھائے اورلاتعدادمائیں اپنے جگرگوشوں کی راہیں تکتی رہ گئیں اوربے وقت موت کایہ مجنونانہ رقص ابھی جاری ہے دنیاکی تقریباتمام جنگوں میں بیگناہ اورمعصوم شہری ہی نشانہ بنتے ہیں یہی پاکستانی باشندوں کے ساتھ بھی ہورہاہے سوویت یونین کے افغانستان پرحملے سے قبل اگرچہ پاکستان بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑچکاتھامگران جنگوں میں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہوتی تھیں اوراگرہندوبنیااپنی سازشوں کے ذریعے عوام کوان جنگوں کاایندھن نہ بناتاتوان روایتی جنگوں سے عوام کاکوئی جانی نقصان نہ ہوتادنیاکی تقریباہرسازشی اورطاغوتی قوت کانشانہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں سوویت یونین کے افغانستان پرحملہ آورہونے کے بعدجب پاکستان اس جنگ میں چاروناچارکودپڑاتوہندونے اپنے آقاسوویت یونین کی خوشنودی اورجھوٹی اناکی تسکین کیلئے پاکستان کے اندرپرامن شہریوں کوبم دھماکوں کانشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی 80کی دہائی میں پاکستان کے اندرجتنے بم دھماکے ہوئے ان میں افغان اورپاکستانی باشندے بلاامتیازمارے گئے ان سب کی منصوبہ بندی راء اورکے جی بی کرتے رہے جن کے جواب میں پاکستان نے خالصتان تحریک کی حمایت کی اوریہاں ہونے والے دھماکوں کاجواب بھارت کے اندرملتارہاسردجنگ کے اس زمانے میں بھارت اسقدرشیرنہیں تھااوراسے کسی کارروائی کاجواب اسی اندازمیں مل جانے پروہ کافی عرصے تک اپنی چوکڑی بھول جاتاتھاامریکہ کے افغانستان پرچڑھ دوڑنے کے بعدجب پاکستان خودکش دھماکوں کی زدمیں آیاتوابتدامیں یہ حملے طالبان کے کھاتے میں ڈالے جاتے رہے مگرآہستہ آہستہ جب امریکہ نے افغانستان سے واپسی کی راہ لینی شروع کی افغانستان میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی اوراس کٹھ پتلی کے دھاگے بھارت کے ہاتھ میں تھمادئے توبھارت کوافغانستان اورپاکستان میں کھل کرکھیلنے کاموقع میسرآیاآج پاکستان کے اندرہونے والے ہردھماکے اوردہشت گردی کی کارروائی کواگرچہ سابقہ جہادی تنظیمیں اپناتی ہیں مگرساری دنیاکومعلوم ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے بھارت کاہاتھ ہے بھارت ان نام نہادجہادی تنظیموں کوفنڈزفراہم کرتاہے اس نے افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کے توسط سے جہادی تنظیموں کے ساتھ روابط استوارکئے ہیں جسکے نتیجے میں بھارت کوافغانستان اورپاکستان میں کھل کرکھیلنے کے مواقع مل رہے ہیں پاکستان کے مفرورسابقہ جہادیوں کی ضروریات بھارت کی جانب سے پوری ہورہی ہیں جن کے بدلے وہ پاکستان میں بے گناہ اورنہتے عوام کاخونِ ناحق بہارہے ہیں پاکستانی عوام کے گرنے والے خون کاہرقطرہ بھارت ،امریکہ اورنام نہادجہادی تنظیموں کے سرہے ان جہادی تنظیموں کی پیٹھ پراگرامریکہ اوربھارت نہ ہوتے توانہیں پاکستانی فوج کے سامنے ٹھہرنے کی جرات نہ ہوتی آج پاکستان میں دہشت گردی کی جس لہرنے سراٹھایاہے اسکے پیچھے بڑی طاقتیں نہ ہوتیں تو اکیلے جہادی تنظیموں میں یہ دم خم نہیں کہ وہ پاک فوج کوللکارسکے اس کامظاہرہ ہم ملاکنڈ ڈویژن ،شمالی اورجنوبی وزیرستان ،خیبرایجنسی اوردیگرعلاقوں میں ملاحظہ کرچکے ہیں جہاں پاک فوج کی ہلکی سی ضرب سے قابض دہشت گردبھاگنے کی راہیں تلاش کرتے رہے پاکستان کی موجودہ بدامنی جن قوتوں کے مفادمیں ہے ان میں بھارت اسرائیل اورامریکہ شامل ہے حالیہ حملوں کی ٹائمنگ اورمنصوبہ بندی چیخ چیخ کریہ اعلان کررہی ہے کہ ان میں امریکہ کی نئی انتظامیہ کاعمل دخل موجودہے اسرائیل اورامریکہ کی گٹھ جوڑنے مشرق وسطی کے متعددہنستے بستے ممالک کوتاخت وتاراج کیاجوباقی بچتے ہیں ان پربھی ان کی نظرکرم ہے مگرکچھ ممالک ایسے ہیں جنہیں اگرعدم استحکام کاشکاربنایاجاتاہے توپاکستان کاخاموش رہناممکن نہیں اسی لئے اسرائیل اورامریکہ کی نئی انتظامیہ پاکستان کواندرسے توڑپھوڑکرمشرق وسطی کے باقی ممالک کوبھی عراق،شام،لبنان اورلیبیاکے طرزپر ملیامیٹ کرناچاہتے ہیں اس سے ایک توانکے اسلحے کی ٹیسٹنگ ہوتی رہے گی دوسرے اسرائیل اورامریکہ کے اسلحے کے جوانبارگوداموں میں پڑکرگل سڑرہے ہیں اسکی اچھی قیمت بھی مل رہی ہے امریکہ جس نے حقانی نیٹ ورک کے نام پر پاکستان کی زندگی اجیرن کررکھی ہے اپنے زیرکنٹرول افغانستان میں بیس سے زائدتنظیموں کابال بھی بیکانہیں کرسکاافغانستان کے اندرحملے افغانستان کی ہی سرزمین سے ہورہے ہیں جہادی تنظیموں کے تمام سرخیل افغانستان میں محفوظ بیٹھے ہوئے ہیں وہ جیسے ہی پاکستان میں داخل ہوتے ہیں مارے جاتے ہیں اسامہ بن لادن سے لیکرملامنصورتک افغانستان میں زندہ وسلامت رہے مگرپاکستان کی سرزمین انکے لئے موت کاپیغام بن گئی پاکستان نے اپنی سرزمین سے جن دہشت گردتنظیموں کاصفایاکیاوہ امریکہ کے زیرتسلط افغانستان میں دوبارہ جمع ہوئے امریکہ نے اگرافغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلئے ہیں توبیس سے زائددہشت گردتنظیموں کے ہیڈکوارٹروہاں کیوں موجودہیں؟ کیاامریکہ کے یہی اہداف تھے کہ افغانستان میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے اور تمام دہشت گردوں کوافغانستان میں جمع کرکے انکی کمان بھارت کے حوالے کی جائے اگرامریکہ کے یہی اہداف تھے تووہ اس کے حصول میں واقعی کامیاب رہاہے۔ پاکستان کواب امریکہ سے کسی بھلائی یاخیرکی توقع نہیں رکھنی چاہئے ریاست پاکستان نے اگرخودکومحفوظ رکھناہے توافغانستان سے سعودی عرب ،ترکی یاچین کی طرح خلوص کی توقع نہ رکھے افغانیوں کواپنی روایات کے مطابق ایک تورابورا کی ضرورت ہے جووہ پاکستان کوسمجھتے ہیں پاکستان نے ابھی اس کیلئے اپنے ایک لاکھ لوگ قربان کئے ہیں اگرپوراپاکستان بھی قربان ہوجائے توافغانستان کوپاکستان کے خلوص کایقین دلاناممکن نہیں افغانستان پاکستان کے ساتھ روزاول سے کینہ رکھتاہے اوریہ تاقیامت رہے گامگرافغانستان پاکستان پربراہ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اورجب بھی افغانستان پربراوقت آئے اس نے اپنے تربوریعنی پاکستان کی جانب ہی دیکھناہے پاکستان کوافغانستان کے ساتھ لگنے والی طویل سرحدپرکڑی نگرانی رکھنے کاانتظام کرناہوگااب یہ مشکل ہے یاناممکن مگرکرناضروری ہے بھارت کی پراکسی وارکامقابلہ 80کی دہائی کی طرح پراکسی وارسے ہی کرناہوگااسرائیل اورامریکہ جس زبان کوسمجھتے ہیں اسی میں بات کرنی ہوگی پاکستان اگرچہ ان ممالک کے مقابلے میں بظاہر کافی کمزورنظرآرہاہے مگرمحل وقوع،مضبوط دفاع اورسی پیک نے اسکی اہمیت کودوچندکردیاہے پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کامنہ توڑجواب دینے کی صلاحیت سے مالامال ہے بس اسکے کرتادھرتائوں کواپنامقام پہچان کرقدم اٹھانے ہونگے اسے دہشت گردی کی شاخوں کے ساتھ ساتھ ان تناوردرختوں کے تنے کاٹنے اورہواپانی وآکسیجن کے راستے بندکرنے ہونگے ۔

Read more

آپریشن رد الفساد ، عوام اور فوج شانہ بشانہ ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  وزیر اعظم محمد نواز شریف ترکی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ آپریشن ردالفساد شروع کرنے کا فیصلہ چند روز قبل وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا ۔ دہشت گردی کیخلاف ڈٹ کر لڑیں گے ۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔ بعض قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں ۔ اس آپریشن کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد سے حکومت ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ ترقی مخالف قوتوں میں غیر ملکی شامل ہو سکتے ہیں ۔ بدقسمتی سے افغانستان میں بیٹھے دہشت گرد ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔ افغانستان کو بھی چاہیے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ان کا خاتمہ کرے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل، ای سی او اجلاس مقررہ وقت پر ہونگے، قوم حوصلہ رکھے۔ دہشت گردوں کو پی ایس ایل پر اثر انداز نہیں ہونے دینگے ۔ حکومت دہشت گردی سے نہیں گھبرائے گی۔ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور تجارت بھی بڑے پیمانے پر کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں رینجرز تعیناتی کا فیصلہ وزیر اعظم ہاؤس میں کیا گیا۔  خدا کے فضل سے ہم مسائل پر قابو پا رہے ہیں۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کام کیا ہے۔ افغانستان کو بھی چاہیے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغانستان بھی دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہیں۔ ہم نے ساڑھے تین سال پہلے امن دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ امن و امان کے قیام کیلئے کیے گئے اقدامات کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔ بچ جانے والے مٹھی بھر شر پسند عناصر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ شرپسند عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے۔پاک فوج نے وزیر اعظم کے حکم پر ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ''ردالفساد'' شروع کر دیا۔اس آپریشن کا مقصد ملک سے بچے کھچے دہشت گردوں کا بلا تفریق خاتمہ کرنا ہے اور اس سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ ان کارروائیوں میں پنجاب میں رینجرز بھی حصہ لیں گے۔ ان کوششوں میں ملک کو اسلحے سے پاک کرنا اور آتشیں مادے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا اور ماضی میں کئے گئے آپریشن میں حاصل کامیابیوں کو مستحکم کرنا ہے۔ پنجاب میں رینجرز کے بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشن بھی اس کا حصہ ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف آپریشنز سے صورت حال کو کنٹرول کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اس آپریشن کا طرہ امتیاز ہو گا۔آپریشن ''ردالفساد'' آپریشن ضرب عضب کے ڈھائی سال بعد شروع کیا جا رہا ہے۔ بلاامتیاز آپریشن سے شدت پسندی، دہشت گردی کے خطرے کو ختم کیا جائے گا۔  وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا اختیار فوجی قیادت کو دے دیا گیا ہے۔ حکومت کا واضح فیصلہ ہے کہ کسی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ہم اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ بہتر ہے کہ وہ ممالک دہشت گردوں کے خلاف خود ایکشن لیں۔ کارروائی نہ کی تو پاکستان اپنی سیکیورٹی کے لیے مجبوراً کارروائی کرے گا۔  ہمارے پاس معتبر شواہد ہیں کہ دوسرے ممالک پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ بیرون ملک سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فنانس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو ملوث افراد کی فہرست دی ہے۔ ہم نے تمام چیلنجز کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں۔ پاکستان کے اندر جو بھی تنظیمیں ریاست کے اندر ریاست بنائے ہوئے ہیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہیں ریاست کے سامنے سرنڈر کرنا ہو گا ورنہ اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پچاس مفتیان کرام نے بھی آپریشن رد الفساد کے حق میں فتوی دیدیا۔ فتوے میں کہا گیا ہے کہ بدامنی پھیلانے والے فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اہل وطن کی حفاظت اسلامی مملکت اور فوج کی ذمہ داری ہے۔ مفتیان کرام نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفساد میں فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔

Read more

پاکستانی معاشرہ میں ساختی تبدیلیاں۔۔۔پروفیسر جمیل چوہدری

دنیا کے تمام معاشرے وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔پاکستان بننے کے بعد جاگیر داروں کا بڑا اثرورسوخ تھا۔مڈل کلاس جو کسی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔شروع میں اس کی تعداد بہت ہی کم تھی۔اب آکر ایک بڑی مڈل کلاس ابھر چکی ہے۔یہ کلاس سندھ،پنجاب،خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات سے لیکر کراچی اور مکران کے ساحلوں تک ایک نمایاں حیثیت سے وجود میں آچکی ہے۔اسکی سب سے بڑی نشانی پائیدار صرفی اشیا کی خریداری کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے۔بڑے بڑے شہروں میں ہی یہ رجحان پیدا نہیں ہوا۔بلکہ چھوٹے ٹائونز میں بھی یہ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔Consumer Durables بہت بڑی مقدار میں خریدے جارہے ہیں۔مواصلات کی جدید ترین سہولیات سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔رسل ورسائل کے ذرائع نے نہ صرف پوری پاکستانی سوسائٹی کو ہم آہنگ کردیا ہے۔بلکہ غیر ممالک میں بیٹھے ہوئے اپنے عزیزوں سے ہروقت رابطہ بہت آسان ہوگیا ہے۔کیا غریب کیا امیر اس سے تمام طبقات مستفید ہورہے ہیں۔پاکستانی مڈل کلاس زیادہ تر Jobکرتی ہے۔کچھ عرصہ پیشتر اس مڈل کلاس کا اندازہ 7۔کروڑ لگایا گیا تھا۔اور تب پاکستان کی%40 آبادی کو اس میں شامل کیاگیا تھا۔اندازہ لگانے والوں میں ایشیائی ترقیاتی بنک جیسے معروف ادارے شامل تھے۔بنک کے اندازے کے مطابق بھارت کے صرف%25لوگ مڈل کلاس میں شامل تھے۔گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان میں آنے والی یہ بڑی تبدیلی تھی۔یہ بڑی تبدیلی اس حقیقت کے باوجود آئی کہ ریاست پاکستان اپنے باشندوں کو کئی بڑی سماجی خدمات فراہم کرنے سے قاصر تھی۔مڈل کلاس نے ایسی سماجی خدمات کے لئے خود ہی آگے بڑھ کر انتظامات کئے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ شعبہ تعلیم میں بڑے بڑے ادارے معرض وجود میں آچکے ہیں۔انہی اداروں کی وجہ سے پاکستانی تعلیم کا معیار بھی کافی بہتر ہوا ہے۔یہی صور ت حال صحت کی بھی ہے۔سستے اور مہنگے ہسپتالوں کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔دونوں شعبوں میں پبلک اور پرائیویٹ اداروں کی وجہ سے ملک میںFair Competitionکا ماحول پیداہو چکا ہے۔ریاست کی ایک اہم ذمہ داری جان ومال کا تحفظ ہوتا ہے۔اس ذمہ داری سے بھی ریاست پہلوتہی کرتی رہی۔لوگوں نے خود ہی سیکیورٹی ایجنسیوں کا سسٹم بنا لیا ہے۔پبلک اداروں کے ساتھ ساتھ یہ پرائیویٹ ایجنسیاں بھی بڑی خدمت سرانجام دے رہی ہیں۔پرائیویٹ پولیس کے تصورکو لوگ بہت عرصہ پہلے ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔اب ہم اپنے چاروں اطراف صبح سے شام تک ایسے ادارے معاشرے کی خدمت کرتے دیکھتے رہتے ہیں۔مڈل کلاس نے ابھرکر اپنے آپ کو منوایا ہے۔کیا اس طرح کی کلاس کے ابھرنے سے انہیں سیاسی قیادت بھی ملنے کا امکان ہے؟۔ابھی تک ایسی صورت حال نہ ہے۔اگرووٹروں پر سرمایہ داروں،جاگیر داروں،بیوروکریٹس اور برادری ازم کے اثرات نہ ہوں تو لوگ آزادانہ ووٹ دے سکتے ہیں۔پنجاب میں تو دیکھا جاتا ہے کہ پڑھی لکھی خواتین اکثر اوقات اپنے مردوں سے آزاد ہو کر ووٹ کا استعمال کرتی ہیں۔جب ووٹرز طاقتور اور موثر گروہوں سے آزاد ہونگے تو ملک میں جمہوری سسٹم میں بھی بہتری آئیگی۔ہماری مڈل کلاس میں اب چھوٹے سرمایہ دار بھی پیداہوچکے ہیں۔جو عوام کے لئے ذریعہ روزگار بن رہے ہیں۔ہم مڈل کلاس کے بارے کہہ سکتے ہیں کہ ابھی ہماری مڈل کلاس Matureنہیں ہوئی۔اس لئے جمہوریت میں بھی استحکام نہیں آیا۔مڈل کلاس کے ابھرنے کو ہم ایک بڑی ساختی تبدیلی کہیں گے۔پاکستانی معاشرے میں دوسری بڑی تبدیلی دیہاتیوں کا شہری بن جانا ہے۔دیہاتوں نے اب اپنی پرانی شکل تبدیل کرلی ہے۔شہروں اور دیہاتوں میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔اب ہر ضلع میں بڑے شہر،چھوٹے ٹائونز اور حسین بستیاں بن چکی ہیں۔شہروں اور دیہاتوں میں رہتے والے اب کئی طرح کے رشتوں میں بندھ چکے ہیں۔سیاسی،معاشی اور ثقافتی روابط میں اب اضافہ ہوا ہے۔محقق محمد قدیر کے مطابق اب56.5فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں شہری ہے۔سیالکوٹ سے ملتان تک شہرہی شہر ہیں۔ایسے ہی گجرات سے لاہور اور گجرات سے ملتان پورا علاقہ شہرہی لگتا ہے۔چھوٹے ٹائونز اور دیہاتوں میں بھی شہری کلچر کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔اگر کسی دیہات میںWI-FIلگا ہوا ہے تو وہاں شہری کلچر تو آگیا۔پشاور کے ارد گرد بھی چھوٹے چھوٹے شہر ہی ہیں۔حتی کہ پشاور سے سوات تک رہائشوں کو ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں۔ایسے ہی سندھ میں کراچی سے حیدر آباد تک کا ماحول شہری ہی نظر آتا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب دیہاتی اقلیت میں ہیں۔اب ملک پاکستان کے لئے دیہاتی کا لفظ استعمال کرنا درست نہ ہے۔بعض T.Vپر بیٹھے ہوئے لوگ اب بھی پاکستان کو%70 دیہی کہتے رہتے ہیں۔یہ باتیں مشاہدہ اور مطالعہ نہ کرنے والے لوگوں کی ہیں۔لوگوں نے50سال پہلے اپنے سکولوں میں جو باتیں پڑھی تھیں۔ان کے ذہنوں میں ابھی تک وہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ70سالوں میں دیہی اور شہری کی تقسیم میں ساختی تبدیلی آچکی ہے۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں ابھی بھی دوردراز دیہات بہت زیادہ ہیں۔اور دیہی آبادی بھی کافی ہے لیکن تبدیلی کا رجحان تو وہاں بھی موجود ہے۔چھوٹے سرمایہ دار اور تاجروں کے اثرات بھی دیہاتی علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔مڈل مین کی ایک طاقتور کلاس بھی دیہاتوں میں ابھر چکی ہے۔پاکستان کو ہم اب ایسا ملک کہہ سکتے ہیں جہاں شہری لوگوں کا غلبہ ہے۔دیہی پاکستان کم ہورہا ہے۔فیوڈل ازم کی اہمیت اور اثرات اب وہ نہیں ہیں۔جیسے70کی دہائی کے شروع میں تھے۔سندھ کے کچھ اضلاع میں البتہ اب بھی جاگیر داروں کے اثرات شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔اندرون سندھ کے عوام اپنے آپ کو شاید تبدیل کرنے کے لئے مناسب جدوجہد نہیں کررہے۔ہر تبدیلی میں مڈل کلاس کا رول نتیجہ خیز ہوتا ہے۔اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان پر شہری مڈل کلاس کا غلبہ ہے۔یہاں معاشی،سیاسی،معاشرتی اور ثقافتی رجحان شہری ہے۔شہروں میں جدیدیت محسوس ہورہی ہے۔ان دونوں بڑی تبدیلیوں کے باوجود پاکستانی معاشرہ کوترقی پسند نہیں کہاجاسکتا۔ابھی بھی بڑی آبادی ایسی ہے جو اپنے مسائل کے حل کے لئے عقل وفکر کا استعمال بہت کم کرتی ہے۔رسم وروایات،ٹونے ٹوٹکے،جھوٹے پیروں اور عاملوں کے شکنجے ابھی بھی بہت مضبوط ہیں۔پاکستانی معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی وجہ سے ہے۔گزشتہ50اور 60کی دہائیوں میں بھی لوگ کافی برطانیہ اور امریکہ گئے۔لیکن اس شعبہ میںBoom ۔70۔کی دہائی کے وسط سے آیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مشرق وسطی کے کئی ممالک سے پاکستانی کارکنوں کے لئے معاہدے کئے۔تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ لاکھوں لوگ باہر گئے۔دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے ان لاکھوں پاکستانیوں نے پاکستان کو بہت کچھ دیا۔اب یہی پاکستانی سالانہ20۔ارب ڈالر ترسیلات زر کے ذریعے ارسال کرتے ہیں۔اب جبکہ پاکستان کی برآمدات 25۔ارب ڈالرسے کم ہوکر 19۔ارب ڈالر تک آگئی ہیں۔ترسیلات زر خسارہ پوراکررہی ہیں۔دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے زر مبادلہ کے ذخائر میں ایک بڑا رول اداکیا ہے۔آپ تصور کریں اگریہ لوگ رقومات ارسال نہ کریں تو پاکستانی معیشت مکمل طورپر خسارے کا سودا بن جاتی۔تارکین وطن کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں تبدیلی ہرطرف دیکھی جاسکتی ہے۔آخری اعدادوشمار کے مطابق85۔لاکھ پاکستانی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔U.N.Oکے مطابق کسی ایک ملک کے لحاظ سے یہ چھٹی بڑی تعداد ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،برطانیہ اور متحدہ امریکہ میں سب سے زیادہ پاکستانی محنت کرکے پاکستان کو زرمبادلہ روانہ کررہے ہیں۔صرف اکیلے سعودی عرب میں22۔لاکھ پاکستانی ہیں۔تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ دونوں طرح کے پاکستانیوں نے دنیا میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔2008 میں ان کے مسائل کو دیکھنے کے لئے مرکز میں علیحدہ وزارت قائم کردی گئی تھی۔دوسرے ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لئے فائونڈیشن بھی بن گئی ہے۔اور یہ24سکولز چلارہی ہے۔اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کے باہر جانے سے پاکستانی معاشرہ میں بڑی ساختی تبدیلی آئی ہے۔اسکی وجہ سے غربت بہت کم ہوئی ہے۔روزگار میں اضافہ ہوا ہے۔ان پاکستانیوں نے اپنے اپنے گائوں اور ٹائونز خوبصورت گھر اور بستیاں بنائی ہیں۔انکے بچوں نے اچھے معیاری سکولوں سے تعلیم حاصل کرکے شرح خواندگی میں اضافہ کیا ہے۔اگر یہ85۔لاکھ پاکستانی باہر نہ جاتے تووہاں پاکستانی تہذیب یا کلچر کا تعارف بھی نہ ہوتا۔اب تو برطانیہ ،کینیڈا اور امریکہ سے لیکر آسٹریلیا تک مشاعرے اور ادبی نشستیں منعقد ہوتی ہیں۔ہمارے لئے یہ تمام لوگ معاشی اور ثقافتی لحاظ سے اثاثہ ہیں۔ابھرتی ہوئی مڈل کلاس،ابھرتی ہوئی شہری آبادی اور ابھرتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی تارکین وطن کی تعداد نے پاکستانی معاشرے میں ساختی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔

Read more

پاک چین روس اشتراک سے بھارت خوفزدہ۔۔۔سمیع اللہ ملک

روس، چین اور پاکستان جس تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں وہ بھارت کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ تینوں ممالک بہت سے معاملات میں ہم آہنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ معاشی اورسفارتی سطح پریکساں سوچ کاحامل ہوناکسی بھی تیسرے ملک کے لیے پریشانی کاباعث ہوسکتاہے اورہورہا ہے ۔دراصل ان تینوں ممالک کے درمیان بڑھتاہواتعاون اورسفارتی امورمیں ہم آہنگی بھارت کیلئے پریشانی کاباعث بن رہی ہے۔ بھارت کے مقامی ذرائع ابلاغ میں جوکچھ شائع ہورہاہے اس سے تویہی تاثرملتا ہے کہ روس،چین اورپاکستان مل کربھارت کیلئے مشکلات پیداکرنے کی راہ پرگامزن ہیں اورخطے میں اس کی برترحیثیت کوختم کرنے کی بھرپور،شعوری کوشش کی جارہی ہے۔پاکستان اورچین توہرحال میں ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں۔ ان کی دوستی ایسی ہے کہ جس کے بارے میں کسی کیلئے شک وشبہے کی گنجائش نہیں رہی، مگرروس؟وہ توبھارت کادیرینہ رفیق رہاہے۔روس نے جس تیزی سے پاکستان سے اپنے تعلقات بہتربنائے ہیں اسے دیکھ کربھارت میں خارجہ پالیسی اور تزویراتی امور کے حوالے سے سوچنے والوں کی نینداڑگئی ہے۔ان کیلئے یہ سب کچھ انتہائی حیران کن ہی نہیں،مایوس کن بھی ہے۔ وہ اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ پاکستان اورروس مل کربھارت کے خلاف جارہے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ روس،چین اورپاکستان کے بڑھتے ہوئے اشتراکِ عمل کے بارے میں غلط تاثرکون پیداکررہاہے؟ یہ کام وہ لوگ کررہے ہیں جوچاہتے ہیں کہ نریندر مودی کی حکومت پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات سے خوفزدہ ہوکرروس سے بھی ہتھیارخریدناترک کردے اورچین کوقابو کرنے کے حوالے سے کی جانے والی امریکی کوششوں کاحصہ بن جائے۔کبھی انہوں نے سوچابھی ہے کہ ایساکرنے کاعام بھارتی پرکیااثرمرتب ہوگا؟ بھارت میں سرگرم امریکانوازلابی چاہتی ہے کہ بھارت خطے کی صورت حال سے مکمل بے نیاز ہوکر،تمام زمینی حقائق کونظراندازکرکے امریکاکادامن تھام لے اورتمام امیدیں اسی سے وابستہ کرلے۔ ہم آئے دن ایسی خبروں سے دوچارہوتے ہیں کہ مالیاتی بحران سے دوچارروس مجبورہوکرپاکستان کوانتہائی خطرناک نوعیت کے ہتھیار فروخت کررہاہے مگراب تک صرف اس بات کی تصدیق ہوسکی ہے کہ اس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے کیلئے پانچ ایم آئی تھرٹی فائیوایم ہیلی کاپٹرزفروخت کیے ہیں۔ پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مختلف کردارادا کرنے کی صلاحیت اورسکت رکھنے والے روس کے جدید ترین سخوئی لڑاکاطیاروں کے حصول کی خواہش ظاہر کی تھی۔ یہ ایسی بات تھی جس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی صفوں میں ہلچل مچادی۔یہاں مجھے روس کے سابق وزیراعظم ییوگینی پریماکوف کی کتاب ایئرزاِن بگ پالیٹکس یاد آرہی ہے جو  میں شائع ہوئی تھی۔ سابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سے لے کر میں وزیراعظم بنائے جانے تک ییوگینی پریماکوف نے روسی خارجہ خفیہ سروس(ایس وی آر)کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا۔ اپنی کتاب میں پریماکوف نے لکھا ہے کہ پاکستان نے روس سے سخوئی ایس یو لڑاکا طیارے خریدنے کی خواہش ظاہرکی تھی۔ تب یہ طیارے ٹیکنالوجی کے اعتبارسے سب سے بہترتھے۔ اس وقت کے وزیراعظم کو زیریف نے اس سودے کو حتمی شکل دے دی تھی اورپھرمعاملہ ایس وی آرکے سپردکردیاگیا۔پریماکوف لکھتے ہیں،ہم نے پاکستانی حکام سے پوچھاکہ کیا آپ لوگ اس سودے کی پوری ادائیگی کرنے کی پوزیشن میں ہیں توانہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ ان کا سعودی عرب سے معاہدہ ہے۔ شائدانہی وجوہات کی بنا پربھارت کوخدشہ ہے کہ روس اوربھارت کے درمیان کہیں دفاعی اشتراک عمل خطرے میں نہ پڑجائے۔نزنی تیگل میں اسلحے کی حالیہ نمائش کے حوالے سے روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کے بیان نے نئی دہلی میں اس قدر تشویش پیدا کی کہ بھارت میں روسی سفارت خانے کوباضابطہ بیان جاری کرناپڑاکہ روس ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے اس کے اپنے دیرینہ تزویراتی شراکت دار بھارت سے تعلقات متاثر ہوں یااس کے مفادات کونقصان پہنچے۔ ساتھ ہی ساتھ بیان میں یہ بھی کہاگیا کہ پاکستان کے وزیردفاع اورآرمی چیف کے دورے پر بھارت میں جوردعمل سامنے آیاہے وہ کچھ زیادہ ہے۔ یعنی ایسی کوئی بات نہیں جس پرزیادہ تشویش کااظہارکیاجائے،خواہ مخواہ ایسی باتوں کے بارے میں سوچا جائے جن کاکوئی وجودہی نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان کی سرزمین پرپاک روس فوجی مشقوں کے انعقادنے بشمول بھارت سمیت امریکااور مغرب کوایک واضح پیغام دیاگیاجبکہ درپردہ بھارت نے ان مشقو ں کوروکنے کیلئے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے کئی کھرب ڈالرزکاروسی اسلحہ خریدنے کی بھی پیشکش بھی کی لیکن جب اس میں بھی ناکامی ہوگئی تو بھارت میں بلائی گئی علاقائی امن کانفرنس میں جس میں چین بھی شامل تھا،خطے میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کی طرف اشارہ کرنے کے الفاظ شامل کرنے میں بھی بری طرح منہ کی کھاناپڑی۔روسی نائب وزیرخارجہ ریابکوف نے پاکستان کوروس کاقریب ترین پڑوسی قرار دیتے ہوئے کہاتھاکہ دونوں ممالک کے درمیان محض دفاع نہیں بلکہ دوسرے بہت سے شعبوں میں بھی تعاون کی خاصی گنجائش ہے جن میں توانائی بھی شامل ہے۔ جب اس خبرکاانگریزی متن دیکھاتووہاں لکھاتھا کہ روسی قیادت پاکستان کونزدیک ترین ساتھی سمجھتی ہے اس کاسیدھاسامفہوم یہ ہے کہ روس اب چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایساتزویراتی تعلق قائم کرے جودونوں کو جنوبی ایشیاء میں ممتازکردے۔ بھارت نے جب اس بیان پراپنے تحفظات کااظہارکیا تو نئی دہلی میں روسی سفارت خانے نے بیان جاری کیاکہ روسی قیادت  کے دفاعی معاہدے پرعمل کی پابندہے جس میں کہاگیاہے کہ کوئی بھی فریق ایسے کسی بھی معاملے میں ملوث نہیں ہوگاجس سے فریق ثانی کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ پیداہوجوایک معمول کابیان تھا۔یہ پورامعاملہ اس وقت اٹھا جب نومبر میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے پاکستان کادورہ کیااوروہاں دوطرفہ دفاعی تعاون کے معاہدے پردستخط کیے۔ سفارتی امورمیں یہ عام سی بات ہے کہ جوممالک ایک دوسرے کے سامنے میدان جنگ میں یعنی متحارب نہ ہوں وہ دفاع کے شعبے میں بھی تعاون کے معاہدے کرتے ہیں۔ بھارتی قیادت اس معاملے کواتنازیادہ کیوں اچھال رہی ہے؟کیابھارت نے چین سے ایک جنگ لڑنے کے باوجوددفاعی تعاون کامعاہدہ نہیں کررکھااوراس کے ساتھ فوجی مشقوں کابھی اہتمام کرتاہے؟ روس، چین اوربھارت بھی تو مل کرفوجی مشقیں کرتے ہیں۔ کیایہ سب کچھ پاکستان کے خلاف سمجھاجائے گا؟یہ بات بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ دہشت گردی،انتہا پسندی اورعلیحدگی پسندی کے خلاف موثرطورپرلڑنے کیلئے بھارت اورپاکستان دونوں ہی شنگھائی تعاون تنظیم کے فعال رکن بنناچاہتے ہیں۔ یہ تنظیم بنیادی طورپرروس اورچین کی چھتری تلے کام کررہی ہے۔ اب پاکستان نے ضربِ عضب آپریشن میں قربانیوں کی ایک لازوال مثال اورانتہائی جرات وشجاعت کامظاہرہ کرتے ہوئے غیر معمولی کامیابی کے ذریعے ساری دنیامیں یہ ثابت کردیاہے کہ وہ دہشت گردی اورانتہاپسندی کے عفریت کوپچھاڑنے کے معاملے میں واقعی کس قدرسنجیدہ ہے جس کے بعداب وہ شنگھائی تعاون تنظیم کاانتہائی اہم رکن بن گیاہے جبکہ بھارت کاکردارپڑوسی ممالک کیلئے ایک خوفناک سازشوں کی آماجگاہ ہے۔افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعدروس کیلئے لازم ہوگیاہے کہ پاکستان سے قریبی تعلقات قائم رکھے کیونکہ خطے میں کسی بھی نوع کے کردارکے حوالے سے پاکستان بہت اہم ہے۔ ایک سابق سوویت فوجی کمانڈرکاکہناہے کہ جب تک افغانستان میں سوویت افواج تعینات رہیں،اس وقت بھی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے روسی فوج کارابطہ برقراررہا۔افغانستان کے حوالے سے مذاکرات میں بھارت اورروس اس نکتے پرمتفق رہے ہیں کہ اتحادیوں کے انخلا کے بعدکے افغانستان میں پاکستان کااہم کردارہے جسے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔روس جانتاہے کہ وسط ایشیاء کی سابق سوویت ریاستوں میں روسی نسل کے کروڑوں باشندے سکونت پذیرہیں۔ ان تمام ریاستوں میں انتہاپسندی اوراسلامی بنیادپرستی کافروغ روسی نسل کے باشندوں کیلئے انتہائی پریشان کن ثابت ہوسکتا ہے لیکن موجودہ بھارتی حکومت کی اپنی انتہا پسندپالیسیوں اور افغانستان کے راستے سے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے واضح شواہدوثبوت اور برسوں روسی عنایات اورفوائدکے حصول کے بعداب مکمل طورپر امریکا کی گود میں بیٹھنے کے بعداس کے قول وعمل کے واضح تضادنے روس نے بھی جوابی رد عمل کی پالیسی پرعمل شروع کردیاہے۔اب اگرافغانستان اوروسط ایشیاء کے حوالے سے چند ایک خدشات برقرارہیں تو روس کیوں نہیں چاہے گا کہ پاکستان کو اس پورے معاملے میں ساتھ ملاکر اپنی مرضی کے حالات پیداکرے ؟یہ روس کابنیادی مسئلہ ہے۔ شمالی ترکستان (سنکیانگ)میں بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی کے باعث چین بھی بہت پریشان تھالیکن ضربِ عضب آپریشن نے چین کواس پریشانی سے کافی حدتک نجات دلائی ہے جس کیلئے چین نے پاکستان میں چندایک اورمعاشی منصوبے شروع کرنے کی حکمت عملی پرکام شروع کردیاہے جس نے بھارت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان،روس اورچین کے درمیان اشتراک عمل کی بھی اہم ضرورت بن گیاہے۔ چین کوتوانائی کی ضرورت ہے جس کیلئے وہ پائپ لائنیں بچھارہاہے۔ روس اورچین ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود شراکت دار بھی ہیں۔ یہ دونوں کی بنیادی ضرورت کامعاملہ ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرے میں رہتے ہوئے بھارت بھی روس کیلئے ایک اہم کرداراداکرسکتاتھالیکن امریکاسے بڑھتی ہوئی دوستی اس راستے کاسب سے بڑاپتھرثابت ہورہی ہے۔ چین ایک پٹی،ایک سڑک کے فلسفے کے تحت کام کررہاہے جبکہ روس چاہتا ہے کہ شاہراہِ ریشم کے ساتھ وسط ایشیاء اوریوریشیا سے گزرنے والے قدیم تجارتی راستوں کوبھی بحال کیاجائے تاکہ تجارت کا دائرہ اس قدر پھیل جائے کہ کوئی ایک خطہ مستفید نہ ہو بلکہ کئی خطوں کو فائدہ پہنچے جس کیلئے پاکستان کو مستقبل کے خطرات سے محفوظ بنانے کیلئے روس اورچین کواپنے اہم کردارکا بخوبی احساس ہے۔بھارت بھی علاقائی طاقت بن سکتاتھالیکن اب عالمی سطح پراپنا کردار ادا کرنے کا موقع بتدریج ضائع کرتاچلاجارہا ہے۔خطے میں مستقبل کی خوشحالی کے منصوبوں میں شامل ہونے کیلئے اسے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دیرینہ تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر کوفوری حل کرنے کیلئے اپنی بصیرت میں اضافہ کرناہوگا۔ اسے اپنے پڑوس میں ابھرنے والے مواقعوں کے حوالے سے وسیع النظری اوراحساسِ ذمہ داری سے مزین سوچ اپناناپڑے گی وگرنہ ناکامی کی صورت میں وہ خطے میں اورعالمی سطح پر کوئی بڑا کردارادا کرنے کے قابل ہوناتودورکی بات ہے وہ اپنے وجودکے بوجھ کوبھی برداشت نہیں کرپائے گا ۔

Read more

ایک سلگتا مسئلہ۔۔۔مقصود انجم کمبوہ

میڈیسن کمپنیوں ، میڈیکل اسٹوروں اور بعض نامی گرامی ڈاکٹروں کے گٹھ جوڑ نے غریب مریضوں کو ادویات کے حصول کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے وزارت صحت اور حکومت فوری نوٹس لے ان الفاظ کا اظہار نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں اعجاز حسین نے ایک قومی جریدے کے مراسلے میں کیا ہے انہوں نے لکھا ہے ڈاکٹرز مریضوں کو ان میڈیسن کمپنیوں کی ادویات تجویز کرتے ہیں جن سے انہیں بھاری کمیشن ملتا ہے دوسری جانب ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات ان کے عزیز و اقارب یا کمیشن والے میڈیکل اسٹوروں کے علاوہ شہر بھر میں کہیں دستیاب نہیں ہوتیں اکثر اوقات ڈاکٹرز کی بھاری فیس ادا کرنے کے بعد مریض کے پاس فوری ادویات خریدنے کی سکت نہیں ہوتی تو وہ گھر پہنچ کر اپنے قریبی یا شہر کے کسی دوسرے میڈیکل اسٹور سے دوا خریدنے جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ میڈیسن شہر کے کسی دوسرے اسٹور پر موجود نہیں ہے لہذا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نام کے انسانی مسیحا صرف اپنے بھاری کمیشن کی خاطر انسانیت اور اپنے فرائض سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں میڈیسن کمپنیاں ڈاکٹروں کو نقد رقوم کے علاوہ گاڑیاں اور دیگر تحائف کے علاوہ بیرونِ ملک تفریح کی سہولت بھی فراہم کرتی ہیں میڈیسن کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹروں کو ملنے والی ان "مراعات و سہولیات "کا تمام خرچ میڈیسن کی قیمت میں شامل کر کے مریضوں کی جیبوں ہی سے وصول کیا جاتا ہے انہوں نے یہ زور دے کر لکھا ہے کہ وزارتِ صحت اور صوبائی حکومتیں اس امر کا نوٹس لیں تا کہ یہ قبیح سلسلہ بند ہو سکے اس مراسلے کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا یہ سچی حقیقت ہے کہ محکمہ صحت میں کمیشن مافیا بڑا طاقت ور ہے ان کے حکمرانوں سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ من مرضی پہ اترا ہوا ہے جسکی وجہ سے غریب مریضوں کے مسائل و مشکلات میں اضافہ ہو تا جارہا ہے میڈیکل اسٹوروں پر دو نمبری ادویات کا فروخت ہونا اور آئے روز من مرضی کے رئیس مقرر کرنا وتیرہ بن گیا ہے ان لوگوں کے دلوں میں خوفِ خدا نہیں رہا یہ لوگ دولت کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور لاکھوں والے کروڑوں اور کروڑوں والے اربوں میں چلے گئے ہیں اس وقت یہ پیشہ سب کاروباروں سے کہیں پر کشش ہے افسوس کہ یہ لوگ ما رشلاء  ہو یا جمہوریت انہیں کوئی ڈر نہیں رہا اور ان لوگوں نے پیسے کے بل بوتے پر ہر بڑے آفیسر کو خرید کر رکھا ہے انکی تنظیمیں بن چکی ہیں اور پریشر ڈویلپ کرنا آگیا ہے اس لئے ان کے مکر وہ عزائم پر کوئی قابو نہیں پا سکا طاقت کا مظاہرہ کر تے ہوئے ہڑتال پر چلے جاتے ہیں جس سے حکومت کو کوئی نقصان ہو یا نہ ہو غریب پر چھری چل جاتی ہے لوگ مارے مارے اِدھر ادھر پھرتے ہیں منتیں ترلے کرتے ہیں کوئی لفٹ نہیں کراتا انکی آہ و بکا سننے کوئی نہیں آتا حکومت جتنے مرضی صحت کا رڈ تقسیم کرلے غریب مریضوں کو آخر موت لے لیتی ہے یہ بہت حساس مسئلہ ہے اور جمہوریت میں ایسے مافیا کو چہ جائیکہ کچل کے رکھ دیاجانا چاہیے تھا وہ عروج پر ہے آخرمیں یہاں غریب مریضوں کے لئے پانچ بیماریوں کے علاج کے لئے حکیم طارق کا ایک صدری نسخہ پیش کر تا ہوں قارئین خود بھی استعمال کریں اور دیگر مریضوں کو بھی لے کر دیںبڑی املی مغز تمر ہندی کا مغز یعنی اندر کا گودا کوٹ پیس کر فل سائز کیپسول بھر لیں بس دوائی تیار ہے ایک کیپسول صبح ایک کیپسول شام ہمراہ دودھ اگر نہ ملے تو پانی کے ساتھ استعمال کر لیں کھانے کے درمیان میں کھائیں یا کھانے کے آدھ گھنٹہ اور پھر دیکھئے اس صدری نسخہ کے کرشمات شوگر کے ایسے مریض جو دوائیں کھا کھا کر نڈھال ہو چکے ہوں اعصابی طور پر ٹھس ہو چکے ہوں جن کے ہاں اولا دِ نرینہ نہ ہو ، لیکوریا کی مریضا ئیں جو اندر سے کھوکھلی ہو رہی ہوں بواسیر والے مریض جو زندگی سے تنگ آچکے ہوں ایسے مریض جو جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوں ان کیپسولوں سے اپنی خزاں زندگی کو بہار میں بدل سکتے ہیں حکیم طارق نے یہ نسخہ اپنے جریدے عبقری کے ماہِ اپریل 2016کے شمارے میں درج کیا ہے اور انہوں نے سینکڑوں مریضوں پر آزمایا ہے اور سو فیصد رزلٹ پایا ہے قارئین سے التماس ہے کہ وہ اس نسخے کو گھر گھر پہنچائیں اور ڈھیر ساری دعائیں لیں کیونکہ دورِ حاضر میں شوگر جیسی موذی مرض نے کئی چراغ بجھادئیے ہیں اور کئی سسک سسک کر بجھ رہے ہیں میری حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ درج بالا حقائق پر گہری نظر دوڑائے اور ظالم مسیحائوں ، کمپنیوں اور میڈیکل اسٹوروں کے مالکان کو لگام ڈالیں ورنہ خونی انقلاب اس ملک کی دہلیز کو پار کر جائے گا اور حکمران دیکھتے رہ جائیں گے معاملہ روز بروز حکومت کے خلاف جا رہا ہے کئی ایک وجوہا ت کے ساتھ ساتھ مہنگائی ، بے روزگاری اور دہشت گردی عوام کو احتجاج کر نے پر مجبور کررہی ہے اور آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں حکومت سے عوام کو بہت زیادہ امیدیں تھیں کہ ان کے مسائل حل ہوجائیں گے مگر لگتا ہے ایسا نہیں ہورہا عوامی نمائندے بھی دونوں ہاتھوں سے دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے یہ انکی مجبوری ہے ہمیں اگلا الیکشن بھی لڑنا ہے اس کے اخراجات آج اکٹھا کریں گے تو کام چلے گا ۔

Read more

قومی یکجہتی کیلئے قومی جماعتوں کی اہمیت۔۔۔ضمیر نفیس

ایک منتخب حکومت کی طرف سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے بعد ہم نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے شروع کر دئیے کہ ملک میں جمہوریت مستحکم ہوگئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے استحکام کی دوسری بہت سی علامتیں ہوتی ہیں جو دکھائی نہیں دے رہیں عمران خان نے اسلام آباد دھرنے کے دوران جس وثوق سے ایمپائر کے انگلی اٹھانے کی بات کی اس کے باعث سب نے جمہوریت کو خطرے میں جانا یہ کیسی مضبوط جمہوریت تھی کہ اسے دھرنے اور اس قسم کے اعلانات سے خطرہ محسوس ہونے لگا تھا جب تک ہمارے سیاستدان طالع آزمائوں کا خیر مقدم کرنے کی روش ختم نہیں کریں گے جمہوریت کو خطرات لاحق ہوتے رہیں گے 2014ء میں دھرنوں کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت اور جمہوریت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تو خطرہ ٹل گیا بات واضح ہوگئی کہ یہ خطرہ مستقبل طور پر اس وقت ہی ختم کیا جاسکتا ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اس امر پر معاہدہ کریں کہ ان کے داخلی اختلافات جیسے بھی ہوں وہ کسی صورت طالع آزما کو دعوت دیں گی نہ ان کا خیر مقدم کریں گی اپنے جھگڑے خود ہی طے کریں گی اس پر سختی سے عملدرآمد کی صورت میں ہی جمہوریت کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس کے استحکام اور ارتقاء کی بات تو بعد کی ہے کہا جاتا ہے کہ مارشل لائوں نے مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے کے معاملے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں چاروں صوبوں میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں قائم ہوئیں پیپلزپارٹی بڑے صوبے سے کافور ہوگئی مسلم لیگ (ن) سندھ میں سکڑ رہی ہے۔ تحریک انصاف بھی خیبرپختونخواہ کے باہر اپنی مضبوط جڑیں قائم نہیں کر سکی اگرچہ پیپلزپارٹی نے پنجاب میں اپنے آپ کو بحال کرنے کے لئے دو تین کوششیں کیں لیکن ابھی تک وہ تنظیمی مراحل سے آگے نہیں بڑھ سکی بیشتر علاقوں میں اس کی تنظیمیں ابھی تک قائم نہیں ہوسکیں خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں بھی اس کا وجود بہت زیادہ سکڑ چکا ہے ایک دور کی ملک گیر جماعت اب سندھ تک محدود ہوچکی ہے اسے اس حالت تک پہنچانے کے سلسلے میں کسی مارشل لاء نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس نے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اپنی یہ حالت کی ہے میری مراد لیڈر شپ کے کرتوتوں سے ہے اس کے کارکنوں اور قوم دونوں کو لیڈر شپ کے کرتوتوں نے نقصان پہنچایا ہے۔تحریک انصاف کے اندر آگے بڑھنے اور ملک گیر جماعت بننے کی صلاحیت تھی مگر اسکے جذباتی اور آمرانہ مزاج چیئرمین نے پارٹی کی ساری صلاحیت کو حکومت کی مخالفت میں ضائع کر دیا وقت بھی ضائع کیا ان تین برسوں کے دوران انہوں نے بلوچستان' سندھ اور پنجاب میں پارٹی کو وسعت دینے کی کوشش نہیں کی البتہ حکومت کے ساتھ ٹکرائو میں مصروف رہے دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں اپنی طاقت برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی دوسرے تینوں صوبوں میں اپنے وجود کو مضبوط بنانے کے لئے موثر کردار ادا نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) اس فارمولے کے تحت کام کر رہی ہے کہ پنجاب میں پوزیشن مضبوط ہے تو مرکز میں سادہ اکثریت آسانی سے قائم ہو جاتی ہے اور اقتدار مل جائے تو ادھر ادھر سے متعدد گروپ شریک ہو کر دوتہائی پوزیشن دلوا دیتے ہیں فی الوقت مسلم لیگ (ن) کو اس معاملے میں برتری حاصل ہے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اس فارمولے سے بہت دور ہیں۔بدقسمتی سے اب سیاست صوبوں میں بٹ گئی ہے قومی سطح کی نہیں رہی آئندہ بھی چاروں صوبوں میں مختلف حکومتیں بنیں گی' یہ صورتحال ملک کے لئے مفید نہیں قومی یکجہتی کے لئے قومی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہوتا ہے مگر اقتدار کی سیاست میں اس حوالے سے کون سوچتا ہے۔


Read more

فائنل کے انعقاد کا فیصلہ' ملک بھر میں گرمجوشی

پاکستان کے بعض سیاستدان کرکٹ میں بھی سیاست کر رہے ہیں مخالفت برائے مخالفت ان کا وطیرہ ہے حکومت نے پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں اور گلیاں بند کروا کر میچ کا انعقاد پاگل پن ہے اس سے مثبت پیغام نہیں جائے گا ادھر وزیراعلیٰ پنجاب  نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ میچ کے بہترین انتظامات کئے جائیں۔پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل پلیئر میچ میں شرکت کریں گے اور آٹھ سیکورٹی ماہرین پاکستان کا دورہ کریں گے کہ ماضی کے مقابلے میں آج سیکورٹی کے حالات کس حد تک بہتر ہیں۔یہ ضروری تھا کہ عمران خان بھی قوم کی آواز کے ساتھ آواز ملاتے لیکن انہیں تو حکومت کے ہر کام کی مخالفت کرنی ہے انہوں نے اس اچھے فیصلے کی تحسین کرنے کے معاملے میں بھی تعصب سے کام لیا اس کے برعکس پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومتی فیصلے کی تحسین کی ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام جائے گا' پیپلزپارٹی کے ایک لیڈر قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں دنیا پر یہ واضح ہوگا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی لڑ رہے ہیں اور ہمارے کھیلوں کے میدانوں میں بھی سرگرمیاں جاری ہیں ہمارے معاملات زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ سے قبل اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کو ہم اس قسم کے اعلیٰ اجلاسوں کے انعقاد میں بھی رکاوٹ نہیں بننے دیتے قوم متحد ہو کر اس کے خلاف سینہ سپر ہے عمران خان کا یہ استدلال مضحکہ خیز ہے کہ سڑکیں اور گلیاں بند کرنے سے مثبت پیغام نہیں جائے گا سڑکیں اگر عمران خان یا خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ کی سیکورٹی کے لئے بند ہوسکتی ہیں صدر مملکت اور وزیراعظم کی سیکورٹی کے لئے بند ہوسکتی ہیں تو انٹرنیشنل میچ کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے بند کرنے میں کیا مضائقہ ہے کسی بھی ملک میں جب انٹرنیشنل میچ ہوں یا عالمی سطح کا کوئی اجلاس تو متعلقہ حکومتیں اس کی سیکورٹی کے لئے ہمیشہ غیر معمولی اقدامات کرتی ہیں۔اس تناظر میں پاکستان جو دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہے اگر غیر معمولی اقدامات کرتا ہے تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہونی چاہیے عمران خان نے ایک منفی بات کرکے قوم کے جذبات کو مجروح کیا ہے انہیں مثبت سوچنا چاہیے تھا سابق کرکٹر کی حیثیت سے بھی ان کی ذمہ داری تھی کہ حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے جاوید میانداد سمیت ماضی کے تمام نامور کھلاڑیوں نے حکومتی فیصلے کو کرکٹ کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے اور اسے تاریخی قرار دیا ہے' پوری قوم کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اسے نہ صرف کامیاب اور نتیجہ خیز بنانا ہوگا بلکہ کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کے عالمی مقابلوں کے لئے پاکستان کی سرزمین کو سازگار ثابت کرنا ہوگا۔

Read more

اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں سربراہی اجلاس

اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے جس میں تنظیم کے ممبر ممالک کے پانچ صدور تین وزرائے اعظم اور ایک نائب وزیراعظم شرکت کر رہے ہیں جبکہ افغانستان کی نمائندگی افغانستان کے سفیر کریں گے سربراہی اجلاس کا موضوع ہے ''علاقائی ترقی کے لئے رابطوں کا فروغ'' اسلام آباد اجلاس میں 16اکتوبر2012ء کو آذربائیجان کے دارلحکومت باکو میں منعقدہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی جائے گی آغاز میں آذر بائیجان اجلاس کی صدارت کرے گا اس کے بعد تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے وزیراعظم نواز شریف کرسی صدارت پر تشریف فرما ہوں گے۔اقتصادی تعاون تنظیم کی بنیاد 1964ء میں رکھی گئی تھی اس وقت اس کا نام آر سی ڈی تھا پاکستان' ترکی اور ایران اس کے بانی ارکان تھے اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان رابطوں کا فروغ اور اقتصادی تعاون تھا ستمبر1964ء میں اس کا پہلا اجلاس ترکی کے شہر ازیر میں منعقد ہوا۔ اگرچہ 1977ء میں رکن ممالک کے درمیان ازیر میں معاہدے کے نام  سے ایک معاہدہ ہوا تاہم بعدازاں ایران میں بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی انقلاب اور پاکستان میں مارشل لاء حکومت کے باعث تنظیم کی کارروائیاں معطل رہیں بعدازاں 1985ء میں اسے ای سی او کے نام سے فعال کیا گیا۔1992ء میں اس  میں مزید سات ممالک شامل تھے جن میں افغانستان' ازبکستان' تاجکستان' آذربائیجان' ترکمانستان' کرغزستان اور قازقستان شامل ہیں اس طرح اس کے رکن ممالک کی تعداد دس ہوگئی۔اسلام آباد سربراہی اجلاس کا فوکس تمام ممبر ممالک کے درمیان رابطوں کو  بڑھانا ہے اجلاس میں چار شعبوں توانائی' انفرسٹرکچر' ٹرانسپورٹ اور تجارت کے شعبوں میں تعاون پر غور ہوگا سیکرٹری خارجہ کے مطابق یہ اجلاس خطے کے تمام لوگوں کے لئے خوشحالی کا پیغام ہے پاکستان اس حوالے سے مطمئن ہے کہ اسے رکن ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہو رہی ہے اور سربراہی اجلاس کا میزبان بھی ہے افتتاحی اجلاس سے وزیراعظم نواز شریف آذربائیجان کے صدر اور سیکرٹری ای سی او خطاب کریں گے بعدازاں حروف تہجی کے اعتبار سے تمام ممبر ممالک کے سربراہان خطاب کریں گے جس کے بعد مشترکہ اعلامیے کی منظوری دی جائے گی اور مدبراہان اعلان اسلام آباد پر دستخط کریں گے۔اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں سربراہی اجلاس ان حالات میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ان میں بھی چونکہ توانائی' انفراسٹرکچر اور مواصلات کے منصوبے شامل ہیں اس لئے دوسرے لفظوں میں پاکستان اقتصادی تنظیم کے مقاصد  کے حصول کے لئے تیزی سے کوششیں کر رہا ہے سی پیک سے صرف پاکستان اور چین ہی نہیں خطے کے  تمام ممالک استفادہ کریںگے اس اعتبار سے یہ خطے کی اجتماعی خوشحالی کا منصوبہ ہے اس تناظر میں اس امر کے امکانات موجود ہیں کہ تنظیم کے متعدد ممالک سی پیک میں شمولیت کی خواہش کریں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کے مطابق پاکستان کی طرف سے علاقائی روابط کے فروغ میں پاک چین معاشی راہداری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے رکن ملکوں کو اس منصوبہ میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔یہ درست ہے کہ تنظیم کے ممبرممالک کے درمیان رابطوں کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے کوششیں جاری ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک دوسرے ملک میں تاجروں اور صنعت کاروں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کی آمدورفت کو بھی سہل بنایا جائے اور ایکو کے ممبر ممالک میں ایک دوسرے کے شہریوں کو ائیرپورٹ پر بھی ویزے کی سہولت فراہم کی جائے پارلیمانی وفود کے دورے بھی تواتر کے ساتھ ہونے چاہئیں عوامی' پارلیمانی' تجارتی و معاشی وفود کے تبادلے جس تیزی کے ساتھ ہوں گے اسی تیزی کے ساتھ ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو بھی فروغ حاصل ہوگا سی پیک نے اقتصادی تعاون تنظیم کے ممبر ملکوں کو تنظیم کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے شاندار مواقع فراہم کئے ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ تنظیم ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرے گی۔

Read more

افغانستان، امریکی ڈرون حملے میں طالبان رہنما اور فرضی گورنر ملا عبداسلام ہلاک

افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز میں امریکی ڈرون حملے میں طالبان رہنما  اور فرضی گورنر ملا عبدالسلام  ہلاک ہوگیا ،طالبان نے اپنے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کردی ،ادھر جنوبی صوبہ زابل میں فضائی  حملے میں القاعدہ کے 2جنگجو مارے گئے ۔افغان میڈیا کے مطابق  طالبان نے تصدیق کی ہے کہ انکاکمانڈر اور فرضی گورنر  ملاعبدالسلام  شمالی صوبہ قندوز میں امریکی فورسز کے ڈرون حملے میں مارا گیا ہے ۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ ملا عبدالسلام گورنر قندوز ضلع دشت آرچی میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ۔ترجمان کا کہنا تھاکہ ملا عبدالسلام کی ہلاکت سے ہماری لڑائی متاثر نہیں ہوگی ،طالبان جنگجو افغان حکومت اور غیر ملکی فورسز کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے ۔ اس سے قبل گورنر قندوز اسد اللہ عمر خیل نے ایک پریس کانفرنس کے دوران طالبان کے فرضی گورنر ملا عبدالسلام کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی ۔دریں اثناء قندوزکے 808 ویں سپنزر ریجنل کمانڈر شیر عزیز کاماوال  نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیٹو  فورسز کے ڈرون طیارے نے قندوز کی تحصیل  دشتِ آرچی   سے منسلک علاقے نہرِ کہنہ  میں طالبان کے کیمپ پر بمباری کی۔کاماوال نے کہا کہ حملے میں طالبان کا نام نہادقندوز کا گورنر ملا عبدالسلام  ہلاک ہو گیا ۔اس کے علاوہ سلام کے بھائی سمیت 8 عسکریت پسندوں  کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔کاماوال نے مزید کہا ہے کہ قندوز کے علاقے بز قندھاری میں  بھی آپریشن کے دوران 7 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔تاہم طالبان کی طرف سے موضوع سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ادھر جنوبی صوبہ زابل میں فضائی  حملے میں القاعدہ کے 2جنگجو مارے گئے ۔  افغان سپیشل فورسز  نے  اپنے افیشل فیس بک پیج پر جاری بیان میں کہا ہے کہ فضائی  کاروائی ضلع ارغندآباد میں کی گئی جس میں دہشتگرد گروپ کا رہنما بھی مارا گیا ۔فضائی کاروائی میں شہریوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

Read more

28 February 2017

پاکستان نہ کبھی تنہا تھا نہ کوئی اسے کرسکتا ہے،سیکرٹری خارجہ

 سیکرٹری خارجہ اعزازاحمد چوہدری نے کہا ہے کہ    پاکستان نہ کبھی تنہا تھا ، نہ ہے اور نہ کوئی ملک پاکستان کو تنہا کر سکتا ہے ، پاکستان افغانستان  میں امن کا خواہاں ہے ، افغانستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے اور ترقی کے سفر میں شامل ہو ، پاکستان  کے تمام ادارے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردی کی نئی لہر  کے خلاف سرگرم ہیں، اقتصادی تعاون تنظیم( ای سی او) کا اجلاس پاکستان اور ای سی او ممالک کے لئے تاریخی موقع ہے ، یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سی پیک نے علاقائی روابط کو بڑھانے کے  حوالے سے نئی جہتیں کھولی ہیں ، گزشتہ 4 ،5 سال میں ای سی او خطے میں روابطہ بڑھانے کے لئے بے انتہا کام ہوا ہے ، روابط کے ثمرات سے مستفید ٹرانسپورٹ اور تجارت کے فروغ پر غور ہو گا ، اجلاس سے اسلام آباد ڈیکلریشن اور ای سی او وژن 2025 منظور کیا جائے گا   اجلاس میں رکن ممالک کے 5 صدور، 3 وزراء  اعظم ، ایک نائب وزیر اعظم اور ایک نمائندہ خصوصی شریک ہو رہے ہیں ، رکن ممالک کی شرکت پاکستان اور موجودہ قیادت پر اعتماد کا مظہر ہے ۔ پیر کو سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اقتصادی تعاون کی تنظیم ( ای سی او) اجلاس سے قبل ای سی او ممبران کے ممالک کے سینئر آفیشلز کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں تمام رکن ممالک کے سینئر افیشلز نے شرکت کی ہے ۔ آج کونسل آف منسٹرز کا اجلاس ہو گا ۔ اس کے لئے وزراء پہنچ رہے ہیں ۔ ایک مارچ کو اجلاس منعقد ہو گا ۔ یہ اجلاس پاکستان اور ای سی او کے ممالک کے لئے تاریخی موقع ہے ۔یہ ایسے وقت پر منعقد ہو رہا ہے جب اس کی ضرورت تھی ۔  گزشتہ 4 ،5 سال میں ای سی او خطے میں روابط کے حوالے سے بے انتہا کام ہوا ہے  ۔ پاکستان نے نہ صرف ایران اور افغانستان کے راستے بلکہ چین کے راستے سی پیک کے ذریعے وسطی ایشیا سمیت پورے خطے کے لئے نئی جہتیں کھولی ہیں ۔ وسطی ایشیاء میں کئی اقدامات کار فرما ہیں ۔ وسطی ایشیاء سے یورپ کو لنک کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ حالات میں ای سی او اجلاس کا سہرا پاکستان پر جاتا ہے کہ سی پیک سمیت علاقائی روابط اور اقدامات سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ سارے خطے کے عوام مستفید ہو سکیں ۔

Read more