Get Adobe Flash player

November 2016

30 November 2016

شریف خاندان کے بیانات میں تضاد، کیس ختم ہوگیا، عمران خان

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے بیانات میں تضاد سامنے آگیا ہے،ہمارے حساب سے پانامہ کیس آج ختم ہوگیا ہے،قطری شہزادے کے خط کا نہ سر ہے نہ پائوں،ججز نے قطری شہزادے کے خط کی دھجیاں اڑادیں،قطری شہزادہ حاتم طائی تھا جس نے ان کو پیسہ دیا،نوازشریف کی ایک کہانی دوسری سے مطابقے نہیں رکھتی۔وہ بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ 7ماہ سے نوازشریف کی کہانیاں بدلتی رہی ہیں،عدالت میں پانامہ کیس کی سماعت چل رہی ہے مگر کیس ختم ہوگیا ،مریم نوازنے 2012میں کہا میری کوئی جائیداد باہر نہیں،نوازشریف کی ایک کہانی دوسری سے مطابقت نہیں رکھتی،عدالت میں ان کے جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق دبئی کی اسٹیل مل نقصان میں تھی،رقم کس طرح باہر گئی،اس بات کا عدالت میں کوئی ثبوت نہیں دیا گیا،وزیراعظم نے ایوان میں کہا تھا کہ تمام ٹرانزکشن کی تفصیلات موجود ہیں،لیکن آج عدالت میں ٹرانزکشن کے کوئی ثبوت نہیں پیش کئے گئے،شریف خاندان کے ذہن میں نہیں تھا کہ معاملہ یہاں تک جائے گا،رقم کس طرح باہر گئی کوئی ثبوت نہیں دیا گیا،2016میں بیرون ملک پراپرٹی کا انکشاف ہوجاتا ہے،دبئی اسٹیل مل خسارے میں تھی تو پیسہ کیسے منتقل ہوا،قطری شہزادہ حاتم طائی تھا جس نے ان کو پیسہ دیا،جب سے باہر جائیداد کا انکشاف ہوا ہے،کہانی بدلتی جارہی ہے۔عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کا اجلاس ہوا،پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے علاوہ پارٹی رہنمابھی شریک ہوئے،اجلاس میں نعیم بخاری نے پانامہ کیس کی سماعت پر بریفنگ دی،عمران خان نے نعیم بخاری کے دلائل پر اظہار اطمینان ظاہرکیا۔

Read more

پانامہ لیکس، وزیراعظم کے بیانات میں تضاد ہے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جمع کرائے گئے ضمنی جواب اور تقاریرمیں تضاد ہے جب کہ 2006سے پہلے آف شورکمپنیوں کی ملکیت ثابت ہوگئی تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہوگا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس شیخ عظمت پر مشتمل 5رکنی بینچ نے کی ۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ حامد خان نے قانون پر کتابیں لکھی ہیں اور وہ ایک سینئر وکیل ہیں ان پر ایسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا میڈیا کو ان کے حوالے سے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس کیس کی پانچ سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں اور اس میں مزید ٹائم ضائع کرنے کی بجائے کوئی رزلٹ نکالا جائے اور کمیشن مقرر کیا جائے عوام اس کیس کے حوالے سے جلد کوئی رزلٹ دیکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بینچ پر مکمل اعتماد ہے گزشتہ سماعت پر جو الفاظ کا تبادلہ ہوا اس پر جسٹس عظمت سعید سے معافی مانگتا ہوں اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بخاری صاحب آپ اپنے کیس پر توجہ دیں خوشامد نہ کریں ۔ نعیم بخاری کا اپنے دلائل میںکہا کہ ریکارڈ سے ثابت کروں گا کہ وزیراعظم نے غلط بیانی کی اورٹیکس چوری کے مرتکب ہوئے، وزیراعظم نے 13 اپریل 2016 کو قوم سے خطاب کیا اورقوم سے جھوٹ بولا، دوسرے خطاب میں بھی وزیراعظم نے سچ نہیں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بیٹے سے پیسے لئے جب کہ وزیراعظم کے صاحبزادے کا این ٹی این نمبرہی نہیں ہے، مریم نواز وزیراعظم کی زیرکفالت ہیں اورلندن فلیٹس کی بینیفیشل آنر ہیں، وزیراعظم کو یہ بات گوشواروں میں ظاہرکرنا چاہیے تھی جبکہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے بالکل مختلف ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے، نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا جس پر نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا، جس پر جسٹس عظمیت سعید شیخ نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آ چکا ہے۔ نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم نے اپریل 1980 میں 33 ملین درہم میں فیکٹری فروخت کرنے کا بتایا، دبئی میں فیکٹری کب بنائی گئی وزیراعظم نے اپنے بیان میں نہیں بتایا جب کہ دبئی حکومت کے خط پرکوئی دستخط بھی نہیں ہیں، شیئرز کی فروخت کا معاملہ وزیراعظم کی ذہنی اختراع ہے۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ وزیراعظم نے جدہ فیکٹری کے لئے بینکوں سے قرضہ لینے کا ذکر کیا، جدہ فیکٹری جون 2004 میں ایک کروڑ70 لاکھ ڈالرمیں فروخت کرنے کا کہا گیا جب کہ لندن فلیٹس 1993 سے 1996 کے درمیان خریدے گئے، جس پرجسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ دبئی اسٹیل مل کی طرح جدہ اسٹیل مل کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا جب کہ جسٹس اعجازالحسن نے استفسارکیا کہ سعودی بینکوں سے قرضہ کیسے لیا؟، جدہ فیکٹری کتنے میں اور کیسے فروخت کی گئی۔ عدالت میں پیش کئے گئے ضمنی جواب اور تقاریر میں تضاد ہے، دونوں مواقع پر کی گئی تقاریر میں بھی تضاد ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ وزیراعظم کے بقول تمام دستاویزات موجود ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ دستاویزات ہر جگہ موجود ہوں گی لیکن عدالت میں موجود نہیں ہیں۔ جسٹس آصف سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ وہ ذرائع ہیں جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے، دستاویزات سے لگتا ہے کہ طارق شفیع میاں شریف کے لیے کام کرتے تھے، دستخط طارق شفیع نے کیے تو شہباز شریف وہاں نمائندگی کس بات کی کررہے تھے؟، طارق شفیع کے 2 دستاویزات میں کیے گئے دستخطوں میں کوئی مماثلت نہیں۔نعیم بخاری نے کہا کہ گلف اسٹیل مل2 کروڑ 10 لاکھ درہم میں فروخت ہوئی لیکن مل کی فروخت سے طارق شفیع کو ایک روپیہ تک نہیں ملا، طارق شفیع نے اپنے بیان میں آدھا سچ بولا، انہوں نے بیان حلفی میں کہا کہ دبئی کا کاروبار بے نامی تھا جب کہ شہباز شریف نے طارق شفیع بن کر دستاویزات پر دستخط کیے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ لگتا ہے سب کچھ میاں محمد شریف نے کیا ہے، جدہ اور دبئی میں فیکٹریوں کے حوالے سے میاں شریف کے بچوں اور آگے سے ان کے بچوں نے کیا کردار ادا کیا؟۔نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ حسن نواز 21 جنوری 1976 میں پیدا ہوئے، حسین نواز 20 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے اور مریم نواز 28 اکتوبر 1973 کو پیدا ہوئیں، لندن میں جائیدادیں میاں شریف نے خریدیں تو بھی ان کی جائیداد ثابت ہوتی ہے۔ جسٹس عظمت شعید شیخ نے کہا کہ قطری شہزادے نے خط میں بڑے بھائی کا ذکر کیا لیکن نام نہیں بتایا، قطری شہزادے نے انگلینڈ میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کا ذکر بھی نہیں کیا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ دبئی سے پیسہ کب، کیسے اور کس بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل ہوا اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قطر سے پیسہ لندن کیسے گیا یہ بھی نہیں بتایا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کو 2006 سے پہلے شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کی ملکیت ثابت کرنا ہوگی، اگر یہ ثابت ہوجائے تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہوگا۔نعیم بخاری نے کہا کہ 21 جولائی 1995 کو فلیٹ نمبر 16 اور 16 اے خریدے گئے جب کہ فلیٹ 17 اے 2004 میں خریدا گیا، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ فلیٹس کتنے میں خریدے گئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حماد بن جاسم کی تاریخ پیدائش بھی انٹرنیٹ سے ڈھونڈیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ الثانی فیملی کے مردوں کے نام ایک جیسے ہیں اس لئے جاسم کی تاریخ پیدائش جاننا مشکل ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ قطری شہزادے کو یہ سب کس نے بتایا کہ خط کے مطابق میاں شریف نے رقم حسین نواز کو دینے کا کہا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قطری شہزادے نے خط کس کو لکھا، قطری شہزادے کا خط تصدیق شدہ نہیں، کیا اس خط کی قانونی حیثیت ہے، نعیم بخاری نے جواب دیا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگرخط کی کوئی حیثیت نہیں تو اس کو کیوں پڑھیں۔نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں قطری سرمایہ کاری کی بات کرنا بھول گئے تھے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ سرمایہ کاری اگر وزیر اعظم نے کی ہوتی تو شاید ان کو یاد ہوتا۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ والد کے ساتھ رہتی ہوں لیکن جائیداد سے تعلق نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی ٹرسٹی ہیں، لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت میں تسلیم کئے گئے ہیں، یونہی زور نہ لگائیں اور کچی دیواروں پر پیر نہ جمائیں، ہم سیاسی بیانات کا جائزہ نہیں لے سکتے، آپ سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے کیس میں اخباری خبروں کو کیوں لاتے ہیں، غیر ملکی اخباروں کی خبروں پر عمران خان نے بھی تنقید نہیں کی، کیا آپ کے موکل کے بارے انگریزی اخباروں میں جو 30 سال تک چھپتا رہا اسے بھی مان لیں، آپ کہتے ہیں کہ اخبار جو چھاپتا ہے اسے مان لیں، اخباری خبروں پر فیصلہ سنایا تو آپ کے موکل کے لئے بھی پریشانی ہو سکتی ہے۔عمران خان کے وکیل نے موقف اختیار کہ کہ مریم نواز کے مطابق ان کی ملک اور بیرون ملک جائیداد نہیں اور وہ والد کے ساتھ رہتی ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ مریم شادی شدہ ہے تو وہ والد کے ساتھ کیسے رہتی ہے؟، کیا ان کے شوہر بھی اپنے ساس سسر کے پاس رہتے ہیں؟، نعیم بخاری نے کہا کہ مریم نواز نے اپنا پتہ جاتی عمرہ لکھا ہے اور ان کے شوہر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہتے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ زیادہ آگے نہیں جانا چاہیئے کیونکہ معاملہ ذاتی حیثیت کا ہے لیکن مریم نواز کے انٹرویو کا دوسرا حصہ اہم ہے۔ کیس کی سماعت 6دسمبر بروز منگل تک ملتوی کردی اگلی سماعت پر بھی نعیم بخاری اپنے دلائل جاری رکھیں گے ۔


Read more

نئے آرمی چیف ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مزید بہتر کام کرینگے،چوہدری نثار

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان صحت یابی کے بعد لند ن سے وطن واپس پہنچ گئے ۔ اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنے آنکھوں کے علاج کے لئے برطانیہ میں گئے تھے جہاں سے وہ صحت یاب ہو کر واپس وطن پہنچ گئے ہیں ۔ وزیرداخلہ پی آئی اے کی پرواز 786کے ذریعے لندن سے اسلام آباد پہنچے ۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران برطانوی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا کہ وہ پاکستان پہنچ کر ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ انہوں نے نئے آرمی چیف کے حوالے سے کہا کہ نئے آرمی چیف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مزید بہتر کام کریں گے

Read more

پیپلز پارٹی کی مذاکرات کیلئے پانامہ انکوائری بل منظوری کی شرط

 پیپلزپارٹی نے حکومتی رابطے پر حکومت سے مذاکرات کے آغاز کیلئے پانامہ انکوائری بل کی منظور کی شرط رکھ دی جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک طرف (ن) لیگ کے وزراء غیر پار لیمانی زبان استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف (ن) لیگ کبھی لندن اور کبھی دوبئی میں ہم سے رابطے کرتی ہے 'ہم نے کبھی مر یم نواز کا نام نہیں لیا مگر ہمارے پاس بھی بولنے کو بہت کچھ ہے ۔ذرائع کے مطابق (ن) لیگ کے ایک اعلی سطی وفد نے پیپلزپارٹی کے شر یک چیئر مین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے رابطہ کیا ہے مگر پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے (ن) لیگ پر واضح کر دیا ہے کہ پہلے پانامہ انکوائری بل منظور کیا جائے باقی مذاکرات بعد میں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ اگر یہ سمجھتی ہے کہ انکے وزراء غیر پار لیمانی الفاظ استعمال کر کے مجھے دبائو میں لے آئیں گے توا یسا کسی صورت نہیں ہوگا کیونکہ میں دبائومیں آنیوالوں میں سے نہیں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی قیادت کو کچھ ہوتو ہم انکے کیلئے جلسوں میں صحت کی دعائیں کرواتے ہیں اور کوئی ہسپتال میں ہو تواس کیلئے بھی صحت کی دعا کرتے ہیں مگر ایک طرف (ن) لیگ کے وزراء غیر پار لیمانی زبان استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف ہم مذاکرات کے رابطے کرتے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ حکومت ڈبل گیم کر یں ہم نے اپنے4مطالبات رکھ دیئے ہیں جو حکومت کو منظور کر نا ہوں گے ۔

Read more

پاکستان کے نئے آرمی چیف کے ساتھ کام جاری رکھیں گے، چین

چین نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ دوطرفہ شراکت دار ی کو ناقابل شکست بنانے کیلئے کام جاری رکھیں گے ۔یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوان نے پو چھے گئے اس سوال کے پاکستان میں نئے آرمی چیف کی تقرری ہوئی ہے اور کیا چین پاکستانی فوج کی نئی قیادت کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط تعلقات کی توقعات رکھتا ہے ۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی سدا بہار ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان ہمیشہ سے سٹرٹیجک شراکت داری تعاون موجود ہے ، دونوں ملکوں کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور ہم اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کام جاری رکھیں گے ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے جنرل زبیر محمود حیات کی بطور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی آرمی چیف کی تعیناتی پر دلی مبارکباد پیش کی تھی ۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو ں اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ فوجی تعلقات کی ترقی کیلئے کام کرتے رہے ہیں تا کہ ان کے دور میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہو ۔

Read more

فیصلے وکیل بدلنے یا ای میل سے نہیں، ثبوت پیش کرنے سے ہونگے، طلال چوہدری

پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے وکیل کیس سے ہٹ گئے ہیں، ابھی تک وزیراعظم کا تعلق ثابت نہیں کیا جاسکا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی نے عدالت میں پاناما لیکس پرکوئی بات نہیں کی،پی ٹی آئی نے وزیراعظم کیخلاف نئی رام کہانی شروع کردیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ اب تک ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی کہ وزیراعظم ملوث ہیں، پی ٹی آئی وکیل نے غلط بیانی کا کیس بنادیا۔دانیال عزیز نے کہا کہ تقریروں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، نعیم بخار نے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا۔انہوں نے بتایاکہ آئندہ سماعت پر پی ٹی آئی نے35منٹ مانگے ہیں جس کے بعد عدالت نے پاناما لیکس کیس کی سماعت 6دسمبر تک ملتوی کردی۔


Read more

حکومت اور اپوزیشن دونوں کااحتساب چاہتے ہیں، سراج الحق

 امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ہمیں عدلت عظمیٰ پر اعتماد ہے اور ہم پانامہ معاملے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا احتساب چاہتے ہیں تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ پانامہ معاملے میں سب کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہئے ہم حکومت اور اپوزیشن دونوں کا بلاتفریق احتساب چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے احتساب کے لئے ایسا کمیشن بننا چاہئے جس میں تمام متعلقہ ادارے اس کے ماتحت ہوں اور کمیشن بلاتفریق معاملے کی شفاف تحقیقات کرے

Read more

دہشتگردی کیخلاف جنگ، کامیابیوں کو آگے بڑھائیں گے، جنرل باوجوہ کا اعلان

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی سرزمین سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا  اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے لیکر جائینگے کسی دہشتگرد کو واپس آنے کی کبھی اجازت نہیں دی جائیگی  آرمی چیف کی حیثیت سے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے خلاف ملک کا دفاع اور سکیورٹی ان کا اولین مطمع نظر رہے گا عارضی بے گھر افراد کی واپسی مقررہ مدت میں مکمل کی جانی چاہیے  با عزت انداز میں دوبارہ آباد ہونے کیلئے ان کی ہر طرح سے مدد کی جائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعدکور ہیڈکوارٹرز پشاوراور شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جو ان کا فیلڈ فارمیشنز کاپہلا دورہ تھا ۔چیف آف آرمی سٹاف کو کور ہیڈ کوارٹرز میں خیبر پختو نخوا  فاٹا اورمالا کنڈ میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال  سٹبلائزیشن اور کومنگ آپریشنز  عارضی بے گھر افراد کی واپسی کے حوالے سے پیشرفت اور جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔بعد ازاں آرمی چیف نے شمالی وزیرستان کادورہ کیا جہاں انہیں ایجنسی میں سکیورٹی صورتحال عارضی بے گھر افراد کی بحالی کے مرحلے کے بارے میں مقامی فارمیشن کمانڈر کی جانب سے بریفنگ دی گئی ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے علاقے میں جاری تعمیراتی کام کا بھی معائنہ کیا ۔فوجیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ مرکوز طرز فکر کے ساتھ جاری رہے گی اور پاکستانی سرزمین سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر کے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا ۔انہوںنے کہاکہ اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے لیکر جائینگے ۔آرمی چیف نے بہادر قبائلیوں  آرمی  ایف سی  لیویز اور پولیس کے افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی دہشتگرد کو واپس آنے کی کبھی اجازت نہیں دی جائیگی ۔انہوںنے کہاکہ آرمی چیف کی حیثیت سے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے خلاف ملک کا دفاع اور سکیورٹی ان کا اولین مطمع نظر رہے گا ۔چیف آف آرمی سٹاف نے موثر پاک افغان بارڈرمنیجمنٹ بڑھانے کیلئے ایف سی کے نئے ونگز کے قیام کے حوالے سے رفتار تیز کر نے کی ضرورت پر زور دیا ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ عارضی بے گھر افراد کی واپسی مقررہ مدت میں مکمل کی جانی چاہیے اور با عزت انداز میں دوبارہ آباد ہونے کیلئے ان کی ہر طرح سے مدد کی جائے ۔قبل ازیں پشاور آمد پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمرباجوہ کا استقبال کور کمانڈر 11کور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن نے کیا جو شمالی وزیرستان کے دورے میں آرمی چیف کے ہمراہ رہے ۔

Read more

پنجاب ٹیچر یو نین کا اجلا س،حا مد علی شاہ کوزبردست خراج تحسین

گو رنمنٹ پبلک اکیڈمی سکینڈری سکول مغل آ با د را ولپنڈی کینٹ میں راہنما پنجاب ٹیچر یو نین چو ہدری دلا ور خان کی زیر صدا رت ایک اجلا س منعقد ہو ا جس میں اساتذہ کرام مرزا نور بیگ ،ملک شفاعت احمد ،احسان احمد ، چو ہدری محمد شفیق اور محمد ادریس قریشی شریک ہو ئے جبکہ چو ہدری محمد ریاض کھٹا نہ ممبر تھنک ٹینک پنجاب ٹیچر یونین ضلع راولپنڈی نے خصوصی طور پر شرکت کی اس مو قع پرچو ہدری محمد ریاض کھٹا نہ اور چوہدری دلا ورخان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بحثیت ضلعی صدرسید حامد علی شاہ کا دورپنجاب ٹیچر یونین کی تا ریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر یا د رکھا جا ئے گا انہوں نے اور ان کی ٹیم کے ممبران راجہ طا ہر محمود ، را جہ شاہد مبارک ، ملک ظہیر الدین با بر،محمد صغیر چٹھہ ،ساجد محمودعبا سی ،را جہ اورنگزیب ،ضمیر احمد بھٹی ،عظمت عبا سی ،قا ضی عمران نے دو سالا دو ر میں اپنی صلا حیتو ں کا لو ہا منوا یا۔

Read more

تاجروں کو پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے رابطہ عوام مہم شروع

پاکستان تحریک انصاف ٹریڈرز ونگ کو سٹی ضلعی تحصیل اور ڈویژنل سطح پر فعال اور منظم کر نے کا فیصلہ تاجروں کو تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے رابطہ عوام مہم شروع کی جائے گئی تحریک انصاف تاجرون کے مسائل کے حل کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کرے گئی اس بات کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف ٹریڈز ونگ ضلع راولپنڈی کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت شاہد قیوم مغل نے کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف ٹریڈرز ونگ راولپنڈی کے ضلعی جنرل سیکرٹری رانا جلیل حسن گادی نے کہا کہ ٹریڈرز ونگ کو عوامی سطح پر منظم کیا جائے ونگ میں تمام تاجرون کو بھرپور نمائندگی دی جائے گی رانا جلیل حس گادی نے کہا کہ عوام کو مہنگائی بیروزگاری لوڈ شیڈنگ کے تحفے دینے والی قرضہ لیگ کے دن اب تھوڑے رہ گئے ہیں پنجاب کابینہ میں توسیع کر کے عوام کو63 لاکھ کا ٹیکہ لگا دیا گیا ہے۔

Read more