Get Adobe Flash player

خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا اہم فیصلہ۔۔۔ضمیر نفیس

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی جامد اور منجمد شے نہیں ہوتی بلکہ گردوپیش کی تبدیلیاں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں چنانچہ اس میں ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے سرد جنگ کے خاتمہ کے  بعد ملکوں کی صف بندیوں میں تبدیلی آئی جو ممالک اس سے پہلے سوویت یونین کے حلیف اور قریبی تھے انہوں نے امریکہ سے قریبی تعلقات استوار کرلئے اور جو قبل ازیں امریکی بلاک میں شامل تھے انہوں نے روس سے تعلقات پیدا کرلئے اس خطے میں بھارت سوویت  اتحادی تھا لیکن جب سرد جنگ کے خاتمہ کے  بعد سویت یونین مختلف ریاستوں میں تحلیل ہوا تو بھارت نے اپنے مفاد میں امریکہ سے تعلقات استوار کئے اسے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سول ایٹمی تعاون کی ضرورت تھی جبکہ امریکہ کی نظر اس کی وسیع منڈی پر تھی امریکہ نے فوراً اس سے سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا جبکہ اپنے پرانے اتحادی پاکستان نے جب اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اسی نوعیت کے معاہدے کی خواہش کی تو امریکہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ دیگر ذرائع سے اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گا۔ اس کے بعد امریکہ نے بھارت کو فوجی سازوسامان کی فراہمی کے بھی معاہدے کئے امریکہ جو دنیا میں اسلحہ کی فروخت میں سب سے آگے ہے اسے بھارت کی صورت میں نہ صرف نیا گاہک ملا بلکہ چین کے مدمقابل کھڑا کرنے کے لئے ایک حاشیہ بردار بھی ملا۔پاکستان کے لئے مناسب تھا کہ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد وہ بھی بتدریج  نئے راستے تلاش کرتا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث اسکے لئے ممکن نہ تھا کہ فوری طور پر واشنٹگن سے فاصلے پیدا کرتا اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کے تناظر میں جو کچھ کہا ہے اور جس دھمکی آمیز لہجے اور الزامات کا سہارا لیا ہے اس نے پاکستان کو خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے لئے مجبورکر دیا ہے اگرچہ امریکہ کا رویہ پاکستان کے عوام کے لئے کبھی بھی اطمینان بخش نہیں رہا مگر حکومت نے عالمی مصلحتوں کے تحت اس کے ساتھ تعلقات استوار رکھے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے برابری کے تعلقات کبھی نہیں رکھے بلکہ اسے اپنا تابع فرمان سمجھا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دونوں اس خیال پر متفق ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات پر نظرثانی کا وقت آپہنچا ہے چنانچہ اس ضمن میں اقدامات کئے جانے چاہئیں حکومت نے اس ضمن میں بڑے فیصلے نہ کئے کہ صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد وزیر خارجہ کے امریکہ کے دورے کو موخر کیا امریکہ کی نائب وزیر سے بھی ان کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں معذرت کرلی اور کہا کہ بعدازاں شیڈول طے کرنے کے بعد ہی یہ دورہ ممکن ہوسکتا ہے اس کے ساتھ ہی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے سلسلے میں پاکستانی سفیروں کی تینر وزہ کانفرنس طلب کرلی یہی نہیں حکومت نے صدر ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات اور ان کی دھمکیوں کو مستردکر دیا۔ اگرچہ بعدازاں امریکی سفیر نے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعض نکات پر وضاحتیں کرکے پاکستان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر ان وضاحتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیاگیا۔ سفیروں کی کانفرنس نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے  جو سفارشات مرتب کیں ان کے بارے میں وزیراعظم نے غیر مبہم انداز میں کہاکہ ان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی سے منظوری حاصل کی جائے گی اور انہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی پیش کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ  خارجہ  پالیسی کے خدوخال کا یقین کسی فرد واحد کے بجائے اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر کیا جارہا ہے حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رہیں گے تاہم پاکستان کی خودمختیار اور سلامتی کے مقاصد اور مفادات کو ہر صورت میں تحفظ دیا جائے گا دوست ممالک سے خطے کی صورتحال کے بارے میں مشاورت کا عمل بھی جاری ہے وزیر خارجہ نے سب سے پہلے چین کا دورہ کیا اس کے بعد ایران گئے ایران سے واپسی پر دوست ملک ترقی کے دورے پر روانہ ہوگئے' خطے کا استحکام اور افغانستان میں قیام امن کے لئے اقدامات ان کی ملاقاتوں کے اہم موضوعات ہیں یہ بھی ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے حوالے سے سفارشات کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے جلد منظوری حاصل کی جائے۔