Get Adobe Flash player

مائیکرو ٹیکنالوجی: نانوٹیکنالوجی۔۔۔تنویر صادق

دنیا میں ہر جگہ اور ہر ادارے میں پی ایچ ڈی ہونا کوئی بڑی بات نہیں لیکن پروفیسر ہونا بہت بڑی اور اعزاز کی بات ہے ۔اسلئے کہ پروفیسر ہونے کا مطلب ایک ایسا شخص ہے جو علم اور تجربے سے مالا مال ہے۔جس کی رائے اپنے مضمون کے حوالے سے بہت جچی تلی اور اہم ہوتی ہے۔چند سال پہلے آکسفورڈ کے ایک انتہائی سینئر اور بوڑھے سے پروفیسر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ ایک جگہ لیکچر کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے پی ایچ ڈی کس موضوع پر کی تھی۔ ہنس کر بولے ۔ میں سادہ گریجوئیٹ ہوں۔ البتہ سات بچوں کو پی ایچ ڈی کرا چکا ہوں اور آج کل تین نوجوان میرے ساتھ پی ایچ ڈی پر کام کر رہے ہیں۔میرا تجربہ اتنا ہے کہ مجھے ڈگری کی ضرورت نہیں۔یہ بات میری یونیورسٹی کو بھی پتہ ہے اور میرے ساتھی حضرات کو بھی ۔ لوگ حیران ان کو دیکھ رہے تھے کہ دنیا میں ایسا بھی ہے۔کیونکہ ہم تو پی ایچ ڈی کے بغیر کسی چیز یا علم کو مکمل ہی نہیں مانتے۔ 1989 میں یونیورسٹیوں اورکالجوں کے اساتذہ تین درجاتی فارمولے کے تحت کام کر رہے تھے جو لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر تھے۔ اساتذہ کی تحریک کے نتیجے میں اساتذہ کو چار درجاتی فارمولا دیا گیاجس کے مطابق ایسوسی ایٹ پروفیسر کا اضافہ کیا گیا جس کو گریڈ 19 دیا گیا اور پروفیسر کا گریڈ بڑھا کر 20 کر دیا گیا۔سروس رولز کے حوالے سے اس وقت کے سیکرٹری ایجوکیشن طارق سلطان سے بہت لمبے چوڑے مذاکرات ہوتے رہے۔پنجاب لیکچرار ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے میرا موقف تھاکہ ہر شخص لیکچرار بھرتی ہونے کے بعد قطار میں آئے۔کسی پی ایچ ڈی کو کسی ایم ایس سی یا ایم فل پر کوئی فوقیت نہ دی جائے۔ وہ شخص جو پی ایچ ڈی کر لے اسے مالی مراعات دی جائیں جو ایک الائونس کی صورت ہوں۔ ریسرچ پیپر شائع ہونے پر کوئی مالی انعام ہومگر قطار میں سے کوئی کسی بھی دائو پیچ کے ساتھ آگے نہ نکل سکے۔میرے نہ چاہنے کے باوجودکچھ ساتھی دوستوں کا حکومتی موقف کو سامنے کمزوری کے باعث پی ایچ ڈی حضرات کے لئے ڈائریکٹ کوٹہ مخصوص کر دیا گیا مگر یہ معمولی تھا۔یونیورسٹیوں میں تباہی 2002 سے شروع ہوئی جب ہائیر ایجوکیشن کمیشن وجود میں آیا۔ریسرچ کے نام پر ساری سیاسی قیادت کو جو ان اسرار و رموز سے واقف نہیں ہوتی، ذہنی طور پر یرغمال بنا لیا گیا۔غیر ملکی بڑی یونیورسٹیوں کی غلط تصویر دکھا کر حکومتی مدد سے یونیورسٹیوں سے انتہائی قابل اور محنتی اساتذہ کو پی ایچ ڈگری نہ ہونے کی بنا پر فارغ کیا گیا اور تمام شعبوں کو نابالغ پی ایچ ڈی حضرات کے سپرد کر دیا گیا۔یہ ابتدا تھی یونیورسٹیوں کی تباہی کی۔ذمہ داران میں سے کسی کو یہ پتہ ہی نہیں کہ سولہ یا سترہ سالہ تعلیمی ڈگری حاصل کرنا علمی انتہا ہے۔ کوئی شخص اس سے زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوتا۔پی ایچ ڈی ریسرچ کی ڈگری ہے۔ ایک مخصوص بالکل چھوٹے سے موضوع ،جس پر کسی نے ریسرچ کی ہے ، وہ شاید اس موضوع پرکچھ بہتر بتا سکے ، باقی معاملات میں بشمول تدریس یہ لوگ بہت فارغ ہوتے ہیں۔آج یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے بہت کم ملتے ہیں۔ ٹرخانے والوں کی بہتات ہے۔امریکہ کے علاوہ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ ایک خاص نسبت سے ہوتے ہیں۔ وہاں ہر استاد کو ریسرچ کا چانس دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کوئی ڈگری حاصل نہیں کرتا، صرف تدریس سے وابستہ رہنا چاہتا ہے تو اس کی ترقی کی راہ میں کوئی امر مانع نہیں ہوتا۔وہ وقت پر پروموٹ ہوتا ہے اور پروفیسر کے درجے پر پہنچتا ہے۔ پاکستان میں ایسے پی ایچ ڈی نہ کرنے والے لوگوں کے لئے ترقی کے رستے مسدود کر دئیے گئے ہیں۔اب یونیورسٹیوں میں ترقی کا حق صرف اور صرف پی ایچ ڈی حضرات کو حاصل ہے۔جو پڑھانے میں ناکام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئے دن آنے والی ہماری نسلیں اپنے سے پہلی نسل کے مقابلے میں ناکارہ تر نظر آتی ہیں۔2002 میں جن صاحب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر کے طور پر حلف اٹھایا ۔ انہوں نے قوم کو خوش خبری دی کہ پاکستان میں بہت جلد وہ مائیکرو ٹیکنالوجی لا رہے ہیں۔ مائیکرو ٹیکنالوجی ابھی راستے ہی میں تھی کہ نانو ٹیکنالوجی کی نوید سنا دی گئی۔بہت سے پی ایچ ڈی حضرات اکھٹے کر لئے گئے کہ ترقی کی جانب سفر شروع ہو گیا ہے۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ لوگ کام کس لیبارٹری میں کریں گے۔ ان لیبارٹریوں میں مشینیں کہاں سے آئیں گی۔مشینیں چلانے والے ایکسپرٹ کہاں ملیں گے۔ بغیر ضروری اقدامات اور ضروری سٹرکچرکے صرف لیبل لگے لوگوں کا نام لے کر لمبے چوڑے فنڈز میٹنگوں، کانفرنسوں ، غیر ملکی دوروں اورگل چھرے اڑانے میں ضائع کئے گئے۔ اس ساری فنکاری کے باوجود کسی ٹیکنالوجی نے پا کستان کو اپنا رخ روشن نہیں دکھایا۔ ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہم صفر تھے صفر ہیں اور اگر یہی پالیسیاں جاری رہیں تو صفر رہیں گے۔غیر ملکی دوروں سے یاد آیا، بہت سی یونیورسٹیاں اپنے ریسرچ کرنے والے اساتذہ کو سال میں دو دفعہ کسی غیر ملکی کانفرنس میں شرکت کی اجازت دیتی ہیں۔کانفرنس کا دعوت نامہ دکھائو، فنڈ مل جاتے ہیں۔لیکن وائس چانسلر حضرات چہیتوں کو رولز سے ہٹ کر پانچ اور چھ دفعہ بھی جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ کوئی نہیں دیکھتا دعوت نامہ اصلی ہے یا نقلی۔کچھ لوگوں نے بہت سے جعلی دعوت نامے گھر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی اولاد غیر ممالک میں مقیم ہے ،انہیں جب جانا ہو۔ دعوت نامے پر تاریخ ڈالی ، یونیورسٹی سے پیسے لئے اور بچوں سے مل آئے۔ جبکہ کاسہ لیسی نہ کرنے والے بہت سے لوگوں کے جائز معاملات میں بھی یونیورسٹی کے ذمہ دار بجٹ نہ ہونے کا بہانہ کر دیتے ہیں ۔ وکیل، ڈاکٹراور پروفیسر زندگی کے وہ شعبے ہیں کہ جن سے وابستہ لوگ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے شعبے میں بہتر سے بہترین ہو جاتے ہیں۔اس وقت معاشرے کو ان کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ وہ جو deliver کر سکتے ہیں وہ نوجوان نہیں کر سکتے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ معاشرہ تو بعد کی بات سینئر اساتذہ کو ان کے اپنے ادارے بھی وہ عزت دینے کو تیار نہیں ہوتے جس کے مستحق ہوتے ہیں۔اس مسئلے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم ہوتی ہے۔ استاد کے لئے شاگرد بچیاں اس کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔لیکن چند لوگ ایسی اخلاقی قدروں سے نا آشنا ہوتے ہیں۔وہ بزرگ اساتذہ جن کی شہرت ایسے کسی حوالے سے کچھ داغدار ہو، یا وہ جو پڑھاتے کم اور سیاست زیادہ کرتے ہیں وہ ہر عمر میں اپنے ادارے کے بد نما داغ ہوتے ہیں۔وہ ادارے پر بوجھ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو تو مغربی معاشرہ بھی برداشت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر باقی تمام بزرگ اساتذہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا،ان کا احترام کرنا ،انہیں سر آنکھوں پر بٹھانا، یونیوسٹیوں کے اپنے مفاد میں ہے۔ بزرگ ہونا تجربے کی علامت ہے اور معاشرے کو اس کے تجربات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیورسٹیوں کو بھی اپنے اچھے سینئر اساتذہ کو ان کے شان شایان مقام د ینا چائیے۔یونیورسٹیاں جس تیزی سے انحطاط کی طرف گامزن ہیں اسے روکنے کے لئے بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے لئے پرانے چرب زبان نام نہاد ماہرین تعلیم سے نجات حاصل کرنے کے بعدیونیورسٹیوں کی بہتری کے لئے ایسے اساتذہ پرمشتمل کمیٹی بنائی جائے جو حقیقت میں یونیورسٹی کے، یونیورسٹی اساتذہ کے اوریونیوسٹی کے ملازمین کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کا معقول حل بتانے کی دسترس بھی رکھتے ہوں۔یونیورسٹی کو پی ایچ ڈی مافیا کے شکنجے سے آزاد کرنے کے لئے پرانے نان پی ایچ ڈی اساتذہ کو بھی شامل کیا جائے۔ میری دعا ہے کہ کاش ہمارا میڈیا سیاسی مرغ بازی سے نجات پا کر عوام اور ملک کے تعلیم سمیت حقیقی مسائل پر بھی ڈبیٹ کرائے تاکہ لوگ حقیقت سے واقف ہوں اور حکومت بھی صحیح فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہو۔