Get Adobe Flash player

حکومت کے کرنے کے اصل کام۔۔۔جاوید اقبال انجم

ایک عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ملکی خزانے میں کتنا پیسہ جمع ہو چکا ہے یا ملکی معیشت کتنی مضبوط ہو چکی ہے یا کون کون سی میزائل ٹیکنالوجی حاصل کر لی گئی ہے یا پھر سٹاک ایکسچینج میں کتنی تیزی آچکی ہے۔  اس کو تو صرف غرض ہوتی ہے کہ اس کو روزمرہ استعمال کی اشیاء کس ریٹ پر مل رہی ہیں۔ کیا مہنگائی میں کمی ہوئی ہے یا نہیں۔ ٹماٹر کا ریٹ کیا ہے، سبزی کا کیا بھائو چل رہا ہے، دودھ کتنے روپے لیٹر ہے، چکن کا گوشت کدھر پہنچ چکا ہے؟ ٹرانسپورٹ کا کرایہ کتنا بڑھ چکا ہے۔ ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ اس کی ماہانہ آمدنی کتنی ہے اور اس کے اخراجات کتنے ہیں؟ جس کی بمشکل آمدن ہی 12 سے 15 ہزار ہے وہ ماہانہ بجٹ کیسے بنائے گا؟ ماہانہ بجلی کا بل کتنا آتا ہے اور بل ادا کر کے بجلی کتنے گھنٹے ملتی ہے؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جو کہ ایک عام شہری کے دماغ پر 24 گھنٹے سوار رہتے ہیں۔ عام آدمی کو بڑے بڑے منصوبوں سے غرض نہیں ہوتی۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کو روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی اور معیاری ملیں۔ اس کے بچوں کو معیاری اور سستی تعلیم ملے۔ وہ اگر بیمار ہوں تو ان کا معیاری اور مفت علاج ہو سکے۔ دن بھر تھکے ہارے ہوئے جب گھر آئیں تو کم از کم اس گرمی میں وہ ایک پنکھا تو لگا سکیں۔ دن بھر وہ مشقت کریں اور رات کو مچھر کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلیں۔ یہ کیسی حکومت اور کیسی جمہوریت ہے۔ حکومت کو ایسے کام کرنے چاہیں تھے کہ عام آدمی کی زندگی بہتر ہوتی۔ اس وقت عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ گھریلو خواتین کو ساری سردیوں میں کھانا پکانے کے لئے گیس نہیں ملتی۔ وہ اپنے بچوں کے لئے ناشتہ کیسے بنائیں گی؟ خواتین راتوں کو اٹھ اٹھ کر گیس کا بے تابی سے انتظار کرتی رہتی ہیں ایسے میں حکومت کو کون اچھا کہے گا۔ ایک طرف آپ خبریں دیں کہ ملکی خزانہ بھر چکا ہے، ملکی سٹاک ایکسچینج تمام ریکارڈ توڑ کر بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان دنیا کی پرکشش ترین مارکیٹ بن چکا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ایک وفاقی وزیر پریس کانفرنس کر رہا ہو اور بجلی چلی جائے تو پھر کیا اہمیت رہ جائے گی ان بلند و بانگ دعوئوں کی؟ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ عام آدمی کے مسائل کو اولیت دیتی۔ جب عام آدمی کے مسائل حل ہوں گے تو پھر بہت بڑی تبدیلی آئے گی مگر یہاں عام آدمی بری طرح پستا جا رہا ہے۔ عام آدمی 300 روپے کلو مرغی کا گوشت کیسے لے سکتا ہے۔ عام آدمی 150 روپے کلو ٹماٹر کیسے لے گا۔ عام آدمی اپنے بچوں کے لئے 80 روپے کلو ملاوٹ والا دودھ کیسے خریدے گا۔ عام آدمی گیس سلنڈر 1000 روپے کا کیسے خریدے گا۔ عام آدمی میڈیکل سٹور سے مہنگی دوائیاں کیسے لے گا۔ جب تک عام آدمی کے مسائل حل نہیں کئے جاتے حکومتی معیشت کی مضبوطی کے بلند و بانگ دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ اگر واقعتا عزت اور شان کے ساتھ 2018 کے الیکشن میں عوام کے پاس جانا ہے تو پھر لازما آپ کو بنیادی عوامی مسائل کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا ورنہ یہ بات یاد رکھ لیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہی ہوتے ہیں۔ عوام کے پاس اصل طاقت ہوتی ہے۔ عوام کا ووٹ ہی ہیرو یا پھر زیرو بناتا ہے۔ جس نے عوام کو فراموش کر دیا اس کی سیاست کا جنازہ نکل جائے گا۔ عوام کے ووٹ ہی ایوان اقتدار میں پہنچاتے ہیں اور عوام جس کو نظر انداز کر دیتی ہے وہ پھر ان ایوانوں سے کوسوں دور چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔