Get Adobe Flash player

انتہاپسندی اور پاکستانی نوجوان ۔۔۔ظہیرالدین بابر

یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر  پاکستانی نوجوانوں کو داعش سے بچانا قومی ذمہ داری قرار دے ڈالا ۔ انتہاپسندی کے خلاف منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ داعش نے  اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور شدت پسند تنظیم  بھرتی کے لیے نئی نسل کو ہدف بنا رہی ہے''۔وطن عزیز میں قیام امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کا کردار کسی طور پر کم اہمیت کا حامل نہیں۔ کم وبیش ستر ہزار شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانی اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرگئی کہ انتہاپسندی کو کسی صورت آسان ہدف نہ سمجھا جائے۔ مقام شکر ہے کہ حالیہ چند سالوں میں پاکستانیوں کے اجتماعی شعور نے سیاسی ، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی کو پوری قوت سے  مسترد کردیا ۔ خیبر تاکراچی شائد ہی کوئی تنظیم یا گروہ ہو جو اعلانیہ طور پر معصوم انسانوں کے قتل عام کو درست کہہ سکے۔ دراصل یہی عوامی دبائو ہے جو کسی بھی معاملہ میں بہتری کے لیے موثر ثابت ہوا کرتا ہے۔ نہیں بھولنا چاہیے کہ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں وفاق اور پنجاب میں حکومت بننے والی مسلم لیگ نون کے ساتھ قابل ذکر  سیاسی ومذہبی قوتوںنے فیصلہ کیا  کہ وہ کالعدم جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے عمل کا آغاز کریں گے۔ اس سلسلے میں فریقین کے درمیان گفتگو کے کئی دور ہوئے مگر اس طرح مسئلہ نہ تو حل ہونا تھا اور نہ ہوا، بعدازاں سیاسی وعسکری قیادت کے باہم تعاون کے نتیجے میں ضرب عضب کا آغاز ہوا جو قبائلی علاقوں کے بعد ملک بھر میں پھیل گیا۔بلاشبہ ضرب عضب کے نتیجے میں حکومت نے وہ کچھ حاصل کرلیا جس  کا اس سے قبل تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ فوج ، پولیس اور سول وعسکری خفیہ اداروں نے مقررہ اہداف کے حصول  کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی لہذا بہتری کی کئی صورتیں سامنے آئیں۔سانحہ پشاور کی شکل میں قوم کے معصوم بچوں کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کے بعد کسی کوئی ابہام نہ رہا کہ اس لڑائی کو لڑنے کے لیے باہم اتفاق واتحاد اور مقصد کے حصول میںیکسوئی کے بغیر کام نہیںچلنے والا۔ قومی ایکشن پلان کی تشکیل میں وعدوں اور دعووں کی گونج میں ہوئی۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی ایک دوسرے سے بڑھ کر یہ کہتے رہے کہ بہت ہوگیا اب  اس سرزمین کو معصوم اور بے گناہوں کے خون سے رنگین نہیں ہونے دیا جائیگا مگر افسوس کہ کہے جانے الفاظ پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ قومی ایکشن پلان  انتہاپسندی کو نظریاتی بنیادوں پر شکست دینے کے لیے بڑی حد تک کارآمد ثابت ہوسکتا تھا۔ حیرت انگیز طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بعض ذمہ داران  اس  معاملہ میں درکار سنجیدگی اور اخلاص دکھانے میں ناکام رہے۔  یہی وہ  خرابی ہے جو اب تک ان مسلح گروہوں کو تقویت فراہم کررہی جن کا  بنیادی مقصد انتشار اور خلفشار کے علاوہ  کچھ اور نہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے پھلنے پھولنے والی شدت پسندی سے آن ہی آن میں چھٹکارا پانا ممکن نہیں چنانچہ یہ بھی کم نہیں کہ ہم ایسے راستہ کی جانب گامزن ہیں جو  ہمیں محفوظ اور پرامن ملک کی جانب  لے جائیگا۔ عصر حاضر کی کوئی بھی ریاست یہ اجازت دینے کو تیار نہیںکہ اس کے ہاں کوئی مسلح گروہ کیسے ہی خوشنما نعرے کے ساتھ کشت وخون کا سلسلہ شروع کردے۔ کسی بھی مہذب ملک کی طرح مملکت خداداد پاکستان میں بھی جمہوریت موجودہے یہاں اداروں میں بہتری کی جتنی بھی گنجائش  ہو بہرکیف نظام موجود ہے۔حالیہ سالوں میں یہ قابل رشک پیش رفت بھی ممکن ہوئی کہ ایک منتخب حکومت نے پانچ سالہ آئینی  مدت پوری کرکے اقتدار دوسری منتخب حکومت کو منتقل کیا ۔سسٹم کا موجود ہونا اور بات ہے اور اس میں پختگی اور ذمہ داری  نظر آنا دوسری بات ، بطور قوم اس پر خوش ہونا چاہیے کہ ہم انتشار کی بجائے قوائد وضوابط کے پابند ہوتے جارہے ہیں، چنانچہ  آئین اور قانون کے دائرے کار میں رہ کر جو کوئی بھی حصول اقتدار کی دوڑ میں شامل ہوتا ہے تو اس کو خوش آمدید کہا جائیگا۔ خوف اورتشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں نے دراصل سیاسی جدوجہد کو خیر آباد کہا۔انہوں نے ایسے راستہ کا انتخاب کیا جو پاکستان کے دشمن کے لیے پسندیدہ کہلایا۔ بم دھماکوں، خودکش حملوں یا اس سے ملتی جلتی کارروائیوں سے خیر برآمد ہونا ممکن ہی نہیں۔ وطن عزیز سالوں سے نہیں کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکارہے ۔ایسے میں دہشت گردی کی سینکڑوں نہیں ہزاروں کارروائیوں نے رہی سہی کسر  پوری کردی۔ بلاشبہ درپیش معرکہ میں حتمی کامیابی کیلئے متبادل بیانیہ دینا ہوگا۔ اس کے لیے  ریاست کی سربراہی میں تمام شبعوں کو اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عبدالولی خان یونیورسٹی میں  مشال خان کا قتل  اور سندھ کی طالبہ نورین لغاری کی داعش میں شمولیت اس خطرے کی نشاندہی کررہی جو اب ہماری درسگاہوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہا۔ دراصل یہی وہ حالات ہیںجن میں آئی ایس پی آر  کے سربراہ نے پاکستان کے نوجوانوں کو دولت اسلامیہ کے اثر سے آزاد رہنے کے لیے قومی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بعض حضرات تو یہ سوال بھی اٹھاتے ہیںکہ کیا بطور پاکستانی  ہمیں اس خطرے کا ادراک ہے جو مسلسل ہمارے دروازے پر دستک دے رہا یقینا اس کا جواب تلاش کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔