Get Adobe Flash player

جنرل قمر جاوید کا عزم۔۔۔محمد امجد

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کی کمان سنبھالتے ہی مختلف چھائونیوں، اہم تنصیبات اور اگلے مورچوں کے دورے کررہے ہیں۔ اس دوران وہ وہاں تعینات افسروں اور جوانوں کی کارکردگی کا نہ صرف جائزہ لے رہے ہیں بلکہ ان کی پیشہ وارانہ مہارت اور صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ان کے حوصلوں اور ولولوں کو بھی جلا بخش رہے ہیں۔ ان کا حالیہ دورہ کوئٹہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جس کے دوران انہوں نے وہاں تعینات پاک فوج کے مختلف صیغوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا بلکہ افسروں اور جوانوں سے خطاب کے دوران ملکی سلامتی، دہشت گردی کے مکمل خاتمے، سی پیک کی حفاظت اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و استحکام واپس لانے میں پاک فوج اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں ہیں۔ آپریشن ضرب عضب سے ملکی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، اب اس آپریشن کے ثمرات کو برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہے اور ہم ان چیلنجزکو ہرقیمت پربرقراررکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہرقسم کے خطرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور ہر میدان میں عوام کی توقعات پر پوری اتری ہے۔ عالمی صورتحال کے حوالے سے جنرل قمر جاوید کا کہنا تھا کہ عالمی سیاسی،جغرافیائی اورمعاشی صورتحال میں تبدیلی کے باعث ہمارے خطے پر دنیا بھرکی نظریں ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی اور استحکام کے لیے سی پیک منصوبہ انتہائی ضروری تھا۔ اس کی بروقت تکمیل ہرقیمت پرکی جائے گی کیوں کہ اس نے خطے کی صورتحال تبدیل کردی ہے۔ کوئٹہ میں انہوں نے بلوچ رجمنٹ کی پاسنگ آئوٹ پریڈ میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا گھر، قبیلہ اور ملک ہے اور بلوچستان پاکستان کا بڑا اور اہم صوبہ ہے، اللہ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل اور یہاں کے عوام کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ یہ صوبہ میرے دل کے بہت قریب ہے بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ میرا تعلق بھی بلوچ رجمنٹ سے ہے اور آرمی میں مجھے بلوچی کہلانے پر فخر ہوتا ہے۔ بلوچستان میں امن وامان اور ترقی ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اسی لئے دشمن بلوچستان کی ترقی کی راہوں اور روشن مستقبل میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے اور صوبے میں بدامنی پھیلا رہا ہے لیکن بلوچ عوام بھی دشمن کی چالوں کوسمجھ گئے ہیں، بلوچستان کے بہادر بیٹے وطن کی آواز پر لبیک کہہ رہے ہیں اور ملک دشمن عناصر کو مسترد کر کے مادروطن پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار ہیں فخر ہے کہ بلوچستان کے عوام ملک کے دفاع میں کسی سے پیچھے نہیں اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی صوبے میں امن قائم کرنے میں کردارادا کر رہے ہیں، وہ بھائی جو ناسمجھی میں دشمن کے بہکاوے میں آگئے ہیں ان کیلیے دروازے کھلے ہیں، ہماری جنگ پاکستان کے دشمنوں سے ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پاکستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیرملکی سازشوں کا مسلسل سامنا ہے۔ 11/9 کے واقعہ نے پاکستان میں دہشت گردی کی وہ آگ بھڑکائی کہ جس کے شعلوں نے ہمارے وجود کو خطرے میں ڈال دیا۔ مختلف علاقوں میں حکومتی رٹ مذاق بن کر رہ گئی۔ اس وقت جب تمام حکومتی ادارے دہشت گردی کی بھیانک سایوں سے خوفزدہ ہو کر بے بسی کی تصویر بن چکے تھے پاک فوج عزم و ہمت اور استقلال سے ان عناصر کے ناپاک عزائم کے سامنے ڈٹ گئی۔ انہوں نے دہشت گردوں کے منظم گروہوں کے خلاف ایسی منظم کارروائیاں کیں کہ وہ بوکھلا گئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو غیرملکی قوتوں کی آشیر باد حاصل تھی یہی وجہ تھی کہ ان کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ایک انتہائی مشکل کام تھا تاہم مسلسل کوششوں اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت پاک فوج نے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ خاص طور پر آپریشن ضرب عضب ان کے لیے کاری ضرب ثابت ہوا۔ آج امن عامہ کی مجموعی صورتحال میں جو بہتری دیکھی جارہی ہے، معاشی طور پر پاکستان کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر عوام کی بے چینی، خوف میں کمی واقع ہوئی ہے وہ ضرب عضب کی کامیابیوں کی ہی مرہون منت ہے۔ تاہم کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اس حوالے سے مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ اس تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا دہشت گردوں اور ان کی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم جہاں دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے وہاں عوام کے لیے بھی باعث اطمینان ہے۔ یقینا امن عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنا ایک طویل اور صبرآزما کام ہے۔ اس حوالے سے ہماری آنکھوں اور کانوں نے جو کردار ادا کیا ہے، پوری قوم افواج پاکستان اور خفیہ اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سی پیک اور بلوچستان کے حوالے سے بھی ان کا عزم یقینا پوری قوم کے لیے خوشخبری کا باعث ہے۔ بلوچستان خاص طورپر غیرملکی سازشوں کا مرکز تھا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی راء نے وہاں نہ صرف علیحدگی کے بیج بوئے بلکہ بہت سے مقامی کرداروں کے ذریعے ایک نام نہاد شورش کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ کلبھوشن یادیو جیسے بہت سے جاسوسوں کے ذریعے وہاں بدامنی کو فروغ دیا اور گوادر اور بہت سے ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں دیوار بننے کی کوشش کی۔ سی پیک کے اعلان کی ساتھ ہی ان سازشوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا تاہم پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے۔ گوادر اور سی پیک کی حفاظت کی ذمہ داری لینے کے بعد کسی کو اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کی جرات نہیں ہوئی۔ اللہ کے فضل و کرم سے بلوچ براہ راست ترقیاتی کاموں اور اقدامات سے استفادہ کررہے ہیں۔ جنرل قمر باجودہ نے صوبہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں اور قومی اہمیت کے منصوبوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کا اعلان کرکے وہاں کے عوام کی بے چینی کو دور کردیا ہے۔ بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کا پاکستان کے لیے جانیں قربان کردینے کے نئے عزم نے یقینا قومی یکجہتی کو جلا بخش دی ہے۔ بلوچستان کے ہزاروں نوجوان فوج کے علاوہ ایف سی ، پولیس اور دیگر اداروں میں شامل ہو رہے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی وابستہ ہے۔ سی پیک اور گوادر بلوچستان اور پاکستان کی پہنچان بن چکے ہیں انشاء اللہ اب بلوچستان کی ترقی اور پاکستان کی خوشحالی کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا۔