Get Adobe Flash player

طیبہ کیس کو ٹیسٹ کیس بنانا ہوگا ۔۔۔ظہیر الدین بابر

 معصومہ طبیہ پر ہونے والا تشدد مخصوص حوالے سے ہرگز حیران کن نہیں۔ باخبر پاکستانیوں کی اکثریت باخوبی آگاہ ہے کہ کم سن بچوں کو گھروں میں کام کرنے کے علاوہ ورکشاپوں، ہوٹلوں، دفاتر ، اینٹوںکے بھٹوں غرض کئی جگہوں پر جسمانی اور ذھنی استحصال سے گزرنا پڑتا ہے ۔ شائد بحیثیت قوم ہمیں اپنے نونہالوں کے محفوظ اور روشن مستقبل کی خاطرخواہ پروا نہیں۔ چند سال قبل ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک کے طول وعرض میں کم وبیش اڑھائی کروڑ بچے ایسے ہیں جو سکول نہیں جارہے۔اعداد وشمار کے مطابق اقوام عالم میں پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جہاں سکول جانے والے بچے قابل ذکرتعداد موجود ہیں۔ ادارے کے مطابق ستر لاکھ بچے ایسے ہیں جو سکول جانے کی عمر کو پہنچ چکے مگر ان کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا۔ مذکورہ رپورٹ میں جن شعبوں میں تحقیق کی گئی ان میں تعلیم ، صحت، انصاف ، چائلڈ لبیر ، اقلیتیں اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے بچے نمایاں رہے ۔رپورٹ میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والے بچوںکی تفصیلات بھی شامل کی گئیں۔ مثلا بتایا گیا کہ محض خبیر پختوانخوا میں چھ لاکھ بچے ایسے رہے جن کے ایک یا دوتعلیمی سال دہشت گردی کے باعث ضائع ہوئے۔ گذشتہ سالوں میں دہشت گردوں نے محض ایک صوبے میں سات سو دس سکول تباہ کیے۔بچوں بارے صحت کے شعبہ کا بھی حال پتلا بتایا گیا۔ مثلا یہ پاکستان ان پانچ ملکوں میں شامل ہے جہاںپانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا خطرناک حد تک وزن کم ہے۔2011 میں دنیا بھر میں پولیو سے متاثر ہونے والے تیس فیصد بچے پاکستان میں پائے گئے۔ بچوں میں جرائم کی شرح بھی ہولناک رہی ۔ محض پنجاب میں جرائم میں ملوث بچوں کی تعداد دیگر صوبوں کے برعکس کہیں زیادہ ہے۔ زیادہ آبادی ہو یا کوئی اور وجہ بہرکیف اعداد وشمار گواہ ہیں کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں ہزاروں بچے قید ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک سال میں بچوں سے جنسی زیادتی کے دو ہزار تین سو تین واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان بچوں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا ۔سال دوہزار گیارہ میں 1050بچوں پر تیزاب پھینکا گیا ، ملک بھر سے 7000ہزار بچے اغواء کیے گئے، غیر سرکاری ادارے نے اس پر تشویش کا اظہار کا کہ بچوں کی فلاح وبہبود کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدمات ناکافی ہیںجنھیں ہنگامی بنیادوں پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل حالات کے ہاتھوں مسائل کا شکار ہونی والی طیبہ نے ایک بار ارباب اختیار کو اپنی ذمہ داریاںدرست طور پر اداکرنے کی یاددہانی کروائی۔ بادی النظر میں بچوں کی حالت زار اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک ہم خاص وعام بچوں میں امتیاز ختم نہیں کرڈالتے۔غریب اور امیر کے بچے میں پایا جانے والا فرق اس طبقاتی نظام کی نشاندہی کررہا جو ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ موجود ہے۔ سپریم کورٹ کا طیبہ تشدد کیس میں ازخود نوٹس لینا قابل تحسین مگر یاد رہے کہ عدالت عدلیہ اپنی مقرر حدود سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ کم عمری میں بچوں سے مزردوی کروانا جرم قرار پانے کے باوجود ختم نہیں ہونے والا۔ بنیادی وجہ والدین کی ابتر معاشی صورت حال ہے جو بچوں کو اچھی تعلیم وتربیت فراہم کرنا تو دور ان سے اپنے مسائل کو حل کرنے کا کام لے رہا۔ دراصل جن معاشروں میں ناانصافی کا چلن عام ہوجائے وہاں کوئی خرابیاں اچانک ختم نہیں ہوا کرتیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ باہم مربوط ہونے والے مسائل ایسے اقدمات کا تقاضا کرتے ہیں جو منصفانہ ہوں اور ٹھوس بھی۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کے لیے کیسا پاکستان چھوڑ کرجارہے ہیں یہ ہم سب لیے سوچ وبچار کو دعوت دے رہا۔اس میں شک نہیں کہ مسائل کو اجاگر کرنے میں پرنٹ ، الیکڑانک اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا اپنا کردار ادا کررہا مگر ابھی مزید آگے بڑھنا ہوگا۔ وقتی ردعمل دینے کی بجائے ارباب اختیار پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے کمر کس لیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعتا جمہوری سوچ رکھتی ہیں۔ اگر لاکھوں نہیںکروڑوں پاکستانیوں کی مشکلات کم نہیں ہونگی تو جان لیں کہ پھر اس نظام کا مستقبل کسی طور پر روشن نہیںِ۔یہ محض ایک طیبہ کا کیس نہیں ، معلوم نہیںکہ کتنے گھروں میں کم سن ملازم مالکان کے غیض وغضب کا مسلسل شکار ہورہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ نہیں کرسکتی توکم ازکم ان حضرات کو تو پابند کیا جائے جو اپنے ہاں کم عمر ملازم رکھنے کے رجحان میں مبتلا ہیں۔ ایسا ہونا کیونکر ممکن نہیں کہ بچوں کو کام پر رکھنے والے ہر شخص کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ اس کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام کریگا۔ مارپیٹ نہ کرنے کے علاوہ اسے اچھا کھانا اور معقول رہائش فراہم کی جائیگی۔ طیبہ تشدد کیس اس لحاظ سے بھی افسوسناک ہے کہ اس پر ہونے والا ظلم کہیں اور نہیںجج صاحب کے گھر ہوتا رہا۔ منصف جس کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ہے عملا ناانصافی کا مرتکب ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی اس مقدمہ میںدلچسپی امید پیدا کرگئی کہ جلد وہ تمام عناصر کیفر کردار کو پہنچیں گے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر طبیہ پر انسانیت سوز جرم کے مرتکب ہوئے۔