Get Adobe Flash player

فوجی عدالتوں میں توسیع وقت کی ضرورت۔۔۔ضمیر نفیس

فوجی عدالتوں نے دو برسوں کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا پاکستان کے عوام اور غیر ملکی مبصرین نے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عمل کی زبردست تحسین کی ہے منگل کے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں منعقدہ کور کمانڈر کانفرنس میں بھی فوجی عدالتوں کی کارکردگی کو سراہا گیا موجودہ حکومت اس امر کی کوششیں کر رہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے تعاون سے مزید کچھ عرصہ کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کے بھی جلد فیصلے ہوسکیں دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیوں ہوا اور اس کے لئے محض دوبرسوں کے لئے آئینی ترمیم کیوں منظور کی گئی اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سول عدالتوں کے بیشتر جج دہشت گردی کے مقدماتکی سماعت کرنے سے ہچکچا رہے تھے' گواہ الگ خوف کا شکار تھے یہ خوف بلاوجہ نہیں تھا دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں ضلع کچہری کو نشانہ بنایا تھا مختلف عدالتوں پر دھماکے کئے تھے متعدد وکلاء کو نشانہ بنایا تھا مقصد محض یہ تھا کہ عدلیہ کے ارکان' وکلاء اور عام شہری خوفزدہ ہو جائیں اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت اور پیروی نہ ہو اس پس منظر میں جب سول عدالتیں عدم تحفظ سے دوچار اور خوف کا شکار تھیں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ ناگزیر تھا ان عدالتوں میں بھی ملزموں کو دفاع کے تمام مواقع اور سہولتیں حاصل تھیں ان کے وکلاء پیش ہو کر اپنا کردار ادا کرتے رہے اور مقدمات کی سماعت مروجہ طریقہ کار کے تحت ہوئی تاہم انہیں التواء میں نہیں ڈالا گیا' وکلاء نے التواء کی درخواستیں کیں نہ فوجی عدالتوں کے سربراہوں نے مقدمات کو طوالت دی چنانچہ جلد فیصلے ہوئے بعض فیصلوں پر عملدرآمد میں اس لئے بھی تاخیر ہوئی کہ ان عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں جن کے مسترد ہونے کے بعد سزائوں پر عملدرآمد ہوا' دو برسوں کے دوران فوجی عدالتوں نے 274دہشت گردوں کو سزائیں دیں 161مقدمات میں سزائے موت دی گئی 113مقدمات میں مختلف دورانیے کی قید کی سزائیں دی گئیں تمام مقدمات کو قانونی طریقے سے نمٹایا گیا اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ دو سال پہلے جن وجوہات کے باعث فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا وہ آج بھی موجود ہیں سول عدالتی نظام جلد فیصلے کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے اس کی وجوہات کچھ بھی سہی تاہم حقیقت یہی ہے کہ مروجہ عدالتی نظام قومی امنگوں کے مطابق نہیں ہے بیس بیس سال تک شہریوں کے مقدمات چلتے ہیں اس کے بعد کہیں انصاف ملتا ہے ماضی کے مقابلے میں اب عدلیہ آزاد اور خودمختار ہے اس کی تقرریوں اور ترقیوں کے نظام پر انتظامیہ اورحکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اب عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نظام انصاف کو قومی امنگوں کے مطابق استوار کرے اگر سول عدلیہ جلد انصاف کی صلاحیتوں سے لیس ہوتی تو ہرگز فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔پاک فوج' قوم اور تمام سیکورٹی فورسز اب بھی دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اگرچہ کراچی آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کے باعث بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن دہشت گرد اور ان کے بہت سے سہولت کار اب بھی موجود ہیں جن کے خلاف جنگ جاری ہے جنگوں کی صورتحال میں مروجہ نظام کے تحت ہرگز مطلوبہ نتائج نہیں ملتے اس کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے پڑتے ہیں فوجی عدالتیں ہنگامی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔بدقسمتی سے بعض جماعتیں فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں حکومت سے تعاون نہیں کر رہیں وہ اس معاملے میں مخالفت برائے مخالفت کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں انہیں قوم کے مفادات کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور کسی بھی ایسے رویے سے گریز کرنا چاہیے جس سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو تقویت حاصل ہو' حکومت کی مخالفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک و قوم کے لئے مفید کام میں بھی اس کی حمایت نہ کی جائے دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلے میں اب تک جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان کے ثمرات کو مستحکم کرنے کے لئے یہ لازم ہے کہ مزید سخت فیصلے کئے جائیں۔