Get Adobe Flash player

سینیٹر جان مکین کا منصوبہ ، افغانستان میں طاقت کا استعمال

امریکی وزیر دفاع جیمز ٹیبس نے جولائی کے وسط میں افغانستان کے حوالے سے حکمت عملی پیش کرنی تھی لیکن ان کی حکمت عملی نامعلوموجوہ کے باعث تاحال منظر عام پر نہ آسکی تاہم امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینٹر جان مکین نے اپنا الگ منصوبہ پیش کردیا ہے اس میں انہوں نے جہاں یہ کہا ہے کہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں تیزی لائی جائے وہاں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان پر دبائو بڑھایا جائے جان مکین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہم نے بڑا نقصان برداشت کیا ہے اب ہم نئی حکمت عملی کے تحت افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھائیں گے اور ساتھ ہی فضائی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرینگے جان مکین نے پاکستان پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انہیں تحفظ دے رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے منصوبے میں پاکستان کو بھی شامل کرکے اس پر ان کی حمایت سے روکنے کیلئے دبائو بڑھائیں گے دفاعی کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے جان مکین نے پاکستان ، بھارت ، چین ، تاجکستان اور دیگر ممالک کو افغان معاملہ پر بات چیت کیلئے مزید کوششوں کی بھی تجویز دی اطلاعات کے مطابق مذکورہ اجلاس میں سابق فوجی اور انٹیلی جنس حکام بھی شریک تھے بتایا گیا ہے کہ جان مکین اپنے منصوبے سے متعلق جلد ہی ایوان میں بل بھی لائیں گے۔ سینٹیر جان مکین کے منصوبے میں کوئی نئی بات نہیں اس میں افغانستان میں طاقت کے استعمال کی پرانی امریکی پالیسی اور پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت کے پرانے الزامات ہیں اس منصوبے کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ فیصلہ کرنے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت ،چین ، تاجکستان اور دیگر ممالک سے تجاویز لی جائیں گی اگر مذکورہ ممالک سے تجاویز لینے کا معاملہ ہے تو پھر اپنے منصوبے کو ایک طرف رکھنا پڑے گا یہ ممالک افغانستان میں مزید طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے خواہاں ہیں اگر ماضی میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ امریکہ اور نیٹو فوجی جدید فوجی سازوسامان کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کرسکے تو اب چار پانچ ہزار مزید فوجی بھیجنے سے کسی بڑی فتح کی توقع نہیں کی جاسکتی افغان مسئلہ کا حل فوجی طاقت کے استعمال نہ پاکستان پر الزام تراشی میں ہے اسے افغان طالبان کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے اور چین اپنے اثرو رسوخ سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاسکتے ہیں لیکن ایسا اسی صورت ممکن ہے جب امریکہ کی طرف سے بھی مثبت رویہ اختیار کیا جائے اور محض طاقت کے استعمال پر زور نہ دیا جائے طاقت کے استعمال کے فیصلے مذاکرات کے حمکانات کو معدوم کردیتے ہیں۔