Get Adobe Flash player

کمزور جمہوریت میں پارلیمنٹ کی بالادستی ممکن نہیں

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے حکومت ، ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ کے درمیان ڈائیلاگ کرانے کا اعلان کیا ہے اور ملک کے تین سب سے بڑے اور طاقتور اداروں کے اعلیٰ قیادت کو سینٹ میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اس لئے اس حوالے سے ادارہ جاتی مکالمہ ہونا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اراکین سے جمہوریت کی مضبوطی کے لئے تجاویز حاصل کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں میں پارلیمنٹ سب سے کمزور ادارہ ہے اس کی کمزوری کی نو وجوہات ہیں پارلیمنٹ کو پالیسیوں اور فیصلوں کا مرکز و محور بنانا ہوگا ہمیں حل پیش کئے بغیر سینٹ سے نہیں اٹھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کمزوری کی وجوہات میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لینا اہم فیصلوں کا اعلان پارلیمنٹ سے باہر ہونا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بجائے کل جماعتی کانفرنسوں جیسے فورمز کو اہمیت دینا سیاسی معاملات کو سپریم کورٹ میں لے جانا، اہم امور پر پارلیمانی عمل کو نظر انداز کردینا بالخصوص خارجہ و داخلی سلامتی کے عالمی معاہدوں کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنا قرضوں کی معافی مالیتی معاہدوں سے پارلیمنٹ کو آگاہ نہ کرنا ، پارلیمانی نگرانی کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنا، ہائوس میں وزیر اعظم اور وزراء کی عدم موجودگی، پارلیمنٹ کے سوالات کا بروقت جواب نہ آنا، وزیر اعظم کی طرف سے اہم بیانات  کیلئے پارلیمنٹ کے بجائے پریس کانفرنس ، قوم سے خطاب اور عوامی اجتماعات کو اہمیت دینا، ہائوس میں دی جانے والی رولنگ پر عمل درآمد نہ ہونا ، عوام اور پارلیمنٹ میں عدم رابطہ اور پارلیمانی کمیٹیوں کو نظر انداز کرنا جیسے معاملات شامل ہیں چیئرمین سینٹ نے کہا کہ کبھی عدلیہ ،کبھی آمریت اور کبھی ایگزیکٹو کی طرف سے پارلیمنٹ پر یلغار کی گئی چیئرمین سینٹ نے پارلیمنٹ کی کمزوری کی بعض وجوہات بیان کی ہیں اور حکومت، عدلیہ اور ملٹری بیوروکریسی کے درمیان مکالمہ کرانے کا عندیہ دیا ہے یہ عندیہ اس تصور پر مبنی ہے کہ یہ ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں مگر تینوں میں سے کوئی بھی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ وہ حدود سے تجاوز کرتا ہے عدلیہ کا تو یہ اصولی موقف ہے کہ وہ آئین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرتی ہے اور ایگزیکٹو کی طرف سے ہونے والی زیادتی پر افراد اور اداروں کو انصاف فراہم کرتی ہے اس نے خود کبھی کسی دوسرے ادارے کی حدود میں دخل نہیں دیا جبکہ فوج تو مجوزہ مکالمے سے صاف طور پر یہ کہہ کر الگ ہوجائے گی کہ اس کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے ماضی میں اگر کسی نے مارشل لاء نافذ کیا تو عدلیہ نے بعد ازاں اسے درست قرار دیا ہے ہمیں شبہ ہے کہ چیئرمین سینٹ کا یہ تصوراتی معاملہ کسی حقیقی مکالمے کی صورت اختیار کرے گا جہاں تک پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کا سوال ہے اسے کوئی دوسرا مضبوط نہیں بنا سکتا اس کی کارکردگی ہی اسکی اہمیت و انادیت کو تسلیم کروا سکتی ہے چیئرمین کی تجاویز کا مطلب سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہوں کی وقعت کو کم کرنے کے مترادف ہے اے پی سی میں جماعتوں کے سربراہ مل بیٹھ کر جو فیصلہ کرتے ہیں اسے قومی فیصلے کی سند ملتی ہے مگر قومی اسمبلی یا سینٹ میں موجود کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی رائے کی وہ اہمیت نہیں ہوسکتی پارلیمنٹ سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کا نام ہے سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہوں کو نظر انداز کرکے پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں بنایا جاسکتا یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ میں پالیسیاںبننی چاہئیں مگر پارلیمنٹ کو پہلے اپنے آپ کو اس اہل بنانا چاہیے ہماری پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زیادہ تر بحث بہت سطحی قسم کی ہوتی ہے بہت کم ارکان علم و صلاحیت کے اعتبار سے اطمینان بخش قرار دئیے جاسکتے ہیں اس لئے ان ایوانوں کی موجودہ  اس قابل نہیں کہ ان کے بطن سے پالیسیاں معرض وجود میں لائی جاسکیں پارلیمنٹ کو مضبوط دیکھنے کی خواہش یقیناً قابل تحسین ہے لیکن جس طرح ہماری جمہوریت مضبوط نہیں اسی طرح پارلیمنٹ بھی موثر امور طاقتور نہیں ارتقائی عمل سے اسے بتدریج طاقتور اور بہتر بنایا جاسکتا ہے جوں جوں جمہوریت مستحکم ہوگی پارلیمنٹ کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی چلی جائے گی اور یہ اپنے لئے اختیارات حاصل کرتی چلی جائے گی۔