Get Adobe Flash player

سیاسی جماعتوں کو انتخابی قانون پر سختی سے عمل کرنا ہوگا

قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا انتخابات بل 2017ء غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اگرچہ اس بل کی متعدد شقیں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تاہم بنیادی بات اس قانون پر مکمل عملدرآمد کی ہے یہ امر خوش آئند ہے کہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر مالی اور انتطامی خودمختیار دی گئی ہے اور اب وہ حکومت کا مرہون منت نہیں ہے مجوزہ قانون کی ایک شق کی رو سے سیاسی جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی عام نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کی پابند ہیں اس شق کے تحت ملک کی خواتین کو مزید پارلیمانی اور جمہوری کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہوں گے اسی طرح ایک اور شق کے تحت اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین کو ووٹ استعمال کرنے کے حق سے محروم نہ کیا جائے اور وہ ووٹ کے ذریعے اپنا جمہوری کردار ادا کریں اس شق میں کہا گیا ہے کہ جس حلقے میں خواتین کے ووٹ کل ڈالے گئے ووٹوں سے 10فیصد کم ہوئے وہاں تحقیقات کروانے کے بعد پورے حلقہ کے نتائج کالعدم قرار دئیے جائیں گے مذکورہ شق خواتین کی ایک بڑی آبادی کے جمہوری حقوق کی ضمانت فراہم کرتی ہے مجوزہ قانون کے تحت قومی اسمبلی کے لئے انتخابی اخراجات 40 لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے لئے 20لاکھ مقررکئے گئے ہیں اس سے زائد اخراجات کرنے والا نااہل قرار دیا جائے گا تمام سیاسی جماعتیں بخوبی جانتی ہیں کہ کوئی بھی امیدوار انتخابی اخراجات کے  قانون کی پابندی نہیں کرتا یہ ایسا قانون ہے جس کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں ایسے فنی راستے نکالے گئے ہیں کہ زائد اخراجات کرنے والے امیدوار قانون کی  گرفت میں نہیں لائے جاسکتے۔ انتخابات پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے  ہیں لیکن امیدوار کی طرف سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس کے دوست احباب اور حامی یہ اخراجات کر رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے اس خرابی کو دور کرنے کے لئے یہی طریقہ ہوسکتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی انتخابی مہم سرکاری میڈیا کے ذریعے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں چلائی جائے اور کسی کو بھی انفرادی طور پر مہم چلانے کی اجازت نہ دی جائے بہت سے ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے پاکستان میں بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر انتخابی اخراجات پر قابو پانا مشکل ہوگا اور امیدوار جھوٹے حلف اٹھاتے رہیں گے کہ انہوں نے اخراجات کے حوالے سے قانون کی پابندی کی ہے  مجوزہ قانون کی رو سے الیکشن کمیشن انتخابات سے ایک ماہ پہلے جامع انتخابی منصوبہ پیش کرے گا اور ووٹر فہرستوں  پر ووٹروں  کی تصاویر ہوں گی۔ یہ شق بھی بے حد اہم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر جیتنے والے امیدوار کے ووٹوں کا تناسب 5فیصد سے کم ہوگا تو اس کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی لازم ہوگی شفاف الیکشن کے حوالے سے یہ شق مثبت نتائج کی حامل ثابت ہوگی مجوزہ قانون بلاشبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے یہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا مرتب کردہ ہے اس لئے سیاسی جماعتوں کو اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔