Get Adobe Flash player

ہم عالمی عدالت میں اپنا موقف ثابت نہیں کرسکے

عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس اور ریاستی دہشتگرد کے معاملے میں جو عبوری فیصلہ دیا ہے وہ بھارت کی خواہش اور درخواست کے عین مطابق ہے اپنی درخواست میں بھارت نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دی جائے اور اس کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا جائے عدالت نے عبوری فیصلے میں کہا کہ کس  کے ضمنی فیصلے تک سزا پر عملدرآمد روک دیا جائے اور بھارتی شہری کو قونصلر رسائی دی جائے جبکہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے متعلق پاکستان کے موقف کو بھی تسلیم نہیں کیا اور قرار دیا کہ اسے کیس کی سماعت کا اختیار ہے جاسوسی کے ملزم کو ویانا کنونشن سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت خارجہ نے عالمی عدالت کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہم قومی سلامتی پر عالمی عدالت کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے بھارت کلبھوشن یادیو کے سہولت کاروں تک رسائل فراہم کرے قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرینگے ادھر اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبوری اقدام کہیں کے میرٹ اور دائرہ اختیار سے مکمل طور پر ہٹ کر ہے مشیر خارجہ اور وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ عبوری فیصلے سے کلبھوشن پر پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کیس منطقی انجام تک پہنچائیں گے اٹارنی جنرل کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکم امتناع کیس کے میرٹ اور دائرہ استعمال سے باہر ہے عبوری اقدام کا کیس کے حتمی فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا پاکستان نے مقدمہ کی سماعت میں عالمی عدالت انصاف کے احترام اور اس نوعیت کے معاملات میں عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کیلئے شمولیت اختیار کی ہے جو عدم شمولیت کی صورت میں مکن نہ تھا اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایک مسافر سروس نیوی کمانڈر کو جاسوسی کیلئے پاکستان بھیجا تھا ایک ملزم تک ہم قونصلر رسائی کیسے دے سکتے ہیں ملزم ایک سال سے زیر حراست ہے اور بھارت کو اب اس کا خیال آیا ہے بھارت کو اس مقدمے میں منہ کی کھانی پڑے گی ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہمارا موقف درست ہے یا غلط ہے۔ اٹارنی جنرل لفظوں کے ہیر پھیر سے کام لے رہے ہیں اگر یہ موقف درست بھی تسلیم کرلیا جائے کہ ہم نے عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کرنے کیلئے سماعت میں سمولیت اختیار کی ہے تو بھی ہم اپنا موقف منوانے اور ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں عدالت نے ہمارے موقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسے اس کیس کی سماعت کا اختیار حاصل ہے اب حکومت کو پورے کیس کی بھرپور تیاری کرنی ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ عجلت میں ہماری لیگل ٹیم درست تیاری نہیں کرسکی دائرہ اختیار کے علاوہ ہم قونصلر رسائی کے معاملے میں بھی اپنی بات نہیں منوا سکے بعض قانونی ماہرین کے مطابق اگر ہم کلبھوشن کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کو ثابت کردیتے تو اپنا کیس مضبوط بنا سکتے تھے دہشتگرد کسی قونصلر رسائی کا مستحق نہیں ہوتا مگر ہم نے اسے محض جاسوس  ثابت کیا چنانچہ عدالت نے جاسوس کو قونصلر رسائی کا حقدار قرار دیا مجموعی طور پر عوامی فیصلہ بھارت کیلئے ریلیف اور اس سے ہمیں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا لیکن اگر ہم نے مضبوط اور موثر طریقے سے کیس نہ لڑا تو نقصان ہو سکتا ہے اس لئے ہمیں وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیس کی بھرپور تیار کرنی ہوگی ہماری یہ بھی کوشش ہونی چاہیے کہ کیس کو طوالت نہ دی جائے جبکہ بھارت اسے طول دینے کی کوشش کرے گا ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم کس طرح اس عبوری فیصلے سے باہر نکل سکتے ہیں اور اس سے گریز کی صورت میں ردعمل کے کیا امکانات ہوسکتے ہیں۔