Get Adobe Flash player

کیا افغانستان بھارتی سکرپٹ پر عمل پیرا ہے؟

افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے کابل میں پاکستان کے سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو کسی بھی جواز کے بغیر پانچ گھنٹے تک اپنی تحویل میں رکھا اور اس کے بعد رہا کر دیا پاکستان نے اس صورتحال پر اسلام آباد میں موجود افغان ناظم الامور سے شدید احتجاج کیا ہے اطلاعات کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کے  ویزا اسسٹنٹ اور ان کے ڈرائیور کو گاڑی سمیت اس وقت اغواء کیا جب وہ سٹیشنری کی ایک دکان سے سفارتخانے کے لئے سٹیشنری خرید رہے تھے بعدازاں جب پاکستانی سفارتخانے نے افغان حکام سے رابطہ کیا تو ابتدائی طور پر افغان حکومت اور این ڈی ایس نے لاعلمی کا اظہار کیا  بعدازاں ان کی حراست کی تصدیق کی تاہم پانچ گھنٹے بعد دونوں کو رہا کر دیاگیا۔یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ یہ واقعہ اس ماحول میں پیش آیا ہے جب پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے حالیہ ہفتوں میں اعلیٰ سطح کے تین وفود افغانستان بھیجے تھے جبکہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی پاکستان کے دورے کا عزم  ظاہر کیا تھا پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان ناظم الامور کو بتایا کہ یہ واقعہ ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے اور دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کی روح کے منافی ہے پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی سفارتخانے کی حدود اور اہلکاروں کے تحفظ کے اقدامات کرے اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ کیا جائے افغانستان پر  واضح کیا گیا کہ این ڈی ایس نے سفارتکاری قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ سفارتخانے کے عملے کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں ایک کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے آپ کو پاک فوج کے سامنے سرنڈر کرنے کے بعد اپنے اعترافی بیان میں جہاں دیگر متعدد انکشافات کئے تھے وہاں یہ بھی کہا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کا افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے دونوں پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے والے دہشت گردوں کو نہ صرف اہداف دیتی ہیں بلکہ انہیں ہدف پورا کرنے پر رقوم بھی دیتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستانی سفارتخانے کے اہلکاروں کو اغواء کا مطلب کشیدگی میں اضافہ کی دانستہ کوشش ہے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لئے جب بھی کوششیں شروع ہوتی ہیں افغانستان کی طرف سے ایسے واقعات ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کوششوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے چمن کے قریب دو دیہاتوں میں مردم شماری کے دوران افغان فورسز کی طرف سے فائرنگ کے بعد اب یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ دیہات افغانستان کی حدود کے اندر واقع ہیں اور اس کی ملکیت میں بعض حلقوں کے اس نقطہ نظر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سب بھارتی سکرپٹ کا نتیجہ ہے ڈیورنڈ لائن پر اب اس قسم کے تنازعے اٹھائے جاتے رہیں گے جن میں پاکستانی حدود کو افغانستان کا علاقہ قرار دیا جائے گا اور مسلسل کشیدگی جاری رکھی جائے گی دوطرفہ تعلقات اس وقت تک بہتر سمت اختیار نہیں کر سکیں گے جب تک افغانستان کی حکومت بھارتی ڈکٹیشن سے باہر نہیں نکلتی' ہم سمجھتے ہیں اس صورتحال پر افغانستان کے سنجیدہ اور امن پسند حلقوں کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ موجودہ افغان حکومت جس انداز سے بھارتی مقاصد کے آگے بچھی جارہی ہے اس سے نہ صرف اس کی خودمختاری بلکہ اسکے مسلم تشخص کو بھی شدید نقصان پہنچ  سکتا ہے افغان طالبان جو ہندو بالادستی کے خلاف ہیں اس طرح افغان حکومت کے خلاف ان کی مزاحمت میں مزید شدت پیدا ہوسکتی ہے یہ صورتحال بلاشبہ افغانستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔