Get Adobe Flash player

حکومت افرادی قوت کی برآمد کے لئے فوری اقدامات کرے

سعودی عرب کی وزارت سول سروسز نے تمام سرکاری اداروں کو حکم دیا ہے کہ 3 سال کے اندر تمام غیر ملکیوں کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا جائے گزشتہ برس سے سعودی عرب کی تیل کی آمدنی میں کمی آئی ہے جس کے بعد حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ہے سعودی حکومت نے وژن 2030ء کے تحت ایک ایسے منصوبے کا اعلان بھی کر رکھا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرناہے اس منصوبے کے تحت سعودی حکومت تیل کی کمائی کے بغیر چھوٹے' بڑے اور درمیانے درجے کی سرمایہ کاری اور کاروبار کے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے سعودی گزٹ کے مطابق سول سروسز کے ڈپتی وزیر عبداللہ آل سلفی نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ 2020ء کے بعد کوئی بھی غیر ملکی نوکری پر نہ ہو ڈپٹی وزیر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس کے اختتام تک ملک بھر میں 70ہزار غیر ملکی افراد نوکری کر رہے تھے ڈپٹی وزیر کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت وژن 2030ء کے تحت مکمل طور پر تمام سرکاری نوکریاں قومی اور مقامی افراد کو دینا چاہتی ہے اس سے قبل سعودی گزٹ نے 2017ء میں بتایا تھا کہ سعودی حکومت نے نومبر 2016ء سے اب  تک 39ہزار پاکستانیوں کو بے دخل کیاہے رواں برس اپریل میں سعودی عرب کی وزارت محنت نے تمام شاپنگ ہالز میں غیر ملکی خواتین و مردوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے وہاں مقامی افراد کو تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کو بہت متاثر کیا ان کی معیشت کو اس صورتحال سے بہت جھٹکا لگا چنانچہ آمدنی میں کمی کے باعث متبادل راستے تلاش کئے گئے اسی پس منظر میں سعودی حکومت نے 2020ء تک تمام نوکریاں اپنے شہریوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور شاپنگ مالز سے اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے  اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان بھی متاثر ہوگا اور اس کے کارکن بے روزگار ہوں گے یہ صورتحال ہمارے لئے تشویش ناک ہے سی پیک کے ذریعے جن لاکھوں نوکریوں کی بات کی جارہی ہے ان کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح نقشہ سامنے نہیں آیا سعودی عرب سے کارکنوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو ملک میں بے روزگاری میں اضافے کا باعث ہے وزیراعظم کو ہنگامی طور پر دیگر عرب ممالک سے رابطہ کرکے اپنے ذاتی اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے افرادی قوت  کی برآمد کے حوالے سے یہ اقدامات کرنے چاہئیں اگر اس طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو ملک کی معاشی صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔