Get Adobe Flash player

سیاستدان اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ عوام کا حافظہ خراب ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''صادق اور امین کے معاملے میں سختی سے عمل کیا جائے تو اچھا ہے پارلیمنٹ بچے نہ بچے پاکستان تو بچ جائے گا جن کو ملک کی سربراہی کرنی ہے وہ سچے اور ایماندار نہیں تو ملک کا کوئی مستقل نہیں قرضے لے کر ملک کو نہیں چلایا جاسکتا۔ ہماری جدوجہد ملک اور اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے ہے وزیراعظم بننے کے لئے نہیں کاش عمران خان کی جدوجہد واقعی ملک اور اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے ہوتی مگر بدقسمتی سے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں انہوں نے ہر ادارے پر الزام تراشی کرکے اس کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے انہوں نے جو بھی عمل کیا اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں کمزور اور بے توقیر کرنے کے لئے کیا' دھرنے کے دوران وہ روزانہ کسی ایمپائر کا انتظار کرتے رہے جو موجودہ جمہوری حکومت کو انگلی کے اشارے سے گھر بھیج دے کیا ان کا یہ رویہ اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے تھا؟ پارلیمنٹ کے لان پر قبضہ' پی ٹی وی پر قبضہ اور توڑ پھوڑ کیا اداروں کو مضبوط کرنے کے عمل کا حصہ تھی؟ انہوں نے تو مسلسل جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کیں' ارکان پارلیمنٹ کو چور' ڈاکو اور لٹیرے تک کہا اس کے بعد ان کی پارٹی کے ارکان نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دئیے اس کے بعد واپس لے کر دھرنوں کے دوران اور اس کے بعد اسمبلی سے غیر حاضری کے باوجود باقاعدگی سے اسمبلی سے تنخواہیں اور مراعات وصول کیں اور پھر دھرنوں کے دوران حکومت کے خلاف سول نافرمانی کا اعلان کیا اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے تھا؟ کم از کم تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ انہوں نے ملک اور اسکے اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی کردار ادا کیا ہے ان کا کردار تو اس کے برعکس تھا' انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہوچکا ہے اسے کبھی کوئی جھٹلا نہیں سکے گا' پاکستان کی سیاست میں عمران خان نے ایسی بدترین مثالیں پیش کی ہیں جو کبھی اس سے پہلے کسی سیاستدان نے پیش نہیں کیا' ہمارے سیاستدانوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عوام کا حافظہ خراب ہے اور وہ ان کے ماضی کو فراموش کر دیں گے' جس کا جو بھی ماضی اور حال ہے وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رہے گا اور اس کے حوالے سے تحسین یا نفرین اس کے حصے میں آئے گی۔