Get Adobe Flash player

برآمدکنندگان کیلئے 180 ارب روپے کا پیکج' معاشی بحالی کیلئے اہم قدم

وزیراعظم نواز شریف نے ملکی برآمدات کے فروغ کی غرض سے برآمدکنندگان کے لئے 180ارب روپے کے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی معیشت اس سے کہیں زیادہ قومی خزانے کو واپس کرے گی انہوں نے اسلام آباد میں صنعتکاروں کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کیا ملک کو تاریکی میں دھکیلنے والوں سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے بڑے مسائل پر ہم نے قابو پالیا ہے اب ملک میں ہر جگہ اچھے اچھے کام ہو رہے ہیں نیا پاکستان بن رہا ہے اور تبدیلی آرہی ہے ہر طرف ترقی ہو رہی ہے بجلی کے سینکڑوں کارخانے لگ رہے ہیں موٹر ویز اور ہائی ویز بن رہی ہیں عالمی ریٹنگ کے ادارے پاکستان کی معاشی ترقی کی تعریف کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نظر بد سے بچائے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں حکومت چلانا بہت مشکل کام ہے۔ میڈیا صبح شام درگت بناتا ہے ہم میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتے تاہم حکومتی پالیسیوں پر تنقید اصلاح کے پہلو سے کی جانی چاہیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے مایوسی نہ پھیلے ملک سے ناخواندگی' پسماندگی اور جہالت کا خاتمہ ہر صورت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا مسئلہ ماضی کی حکومتوں کی ذمہ داری تھی اگر وہ اس پر توجہ دیتیں تو پاکستان اندھیروں کا شکار نہ ہوتا آج جتنے بھی صنعتکار یہاں بیٹھے ہیں تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت کسی شعبے میں کوئی لوڈشیڈنگ نہیں گیس اور بجلی پوری ہے گھریلو صارفین کو بھی بجلی مل رہی ہے ماضی کی لوڈشیڈنگ کے مقابلے میں آج زمین آسمان کا فرق ہے وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کے بحران' امن و امان کے قیام اور معیشت کی بحالی جیسے بڑے مسائل پر قابو پالیا گیا ہے ترقی کے منصوبوں سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا180ارب روپے کے پیکج کے تحت اقدامات سے ملکی برآمدات میں کئی گنا اصافہ ہوگا 2018ء میں دس ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگی جبکہ آئندہ چند برسوں میں 30ہزار میگاواٹ پیداوار سسٹم میں آئے گی۔برآمدات میں اضافہ کے لئے 180ارب روپے کا پیکج صنعتی شعبہ اور برآمدکنندگان کے مطالبے پر دیا گیا ہے یقینا اس کے بعد ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور راستے کی بعض رکاوٹیں دور ہوں گی' مذکورہ پیکج قومی معیشت کی بحالی کے لئے حکومتی کوششوں کا حصہ ہے موجودہ حکومت نے جب جون 2013ء میں اقتدار سنبھالا اس وقت ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی حکومت کے لئے بجٹ بنانا بھی مشکل ہوگیا تھا۔اس کیفیت سے حکومت نے ایک حکمت عملی مرتب کی اور معیشت کو سنبھالا دیا یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت ملک میں دہشت گردی کے واقعات عروج پر تھے کراچی جو ملک بھر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے یہاں بھی مختلف مافیا سرگرم تھے اغواء برائے تاوان سے لے کر بھتہ خوری تک ایک معمول بن چکے تھے بجلی کا بحران بھی عروج پر تھا صنعتی شعبہ منجمد تھا۔ اس پس نظر میں حکومت نے جہاں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے حکمت عملی وضع کی وہاں بجلی کی پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دی نامساعد حالات کے باوجود ساڑھے تین برسوں کے دوران حکومت نے قومی معیشت کو تباہی سے نکال کر بہتری کی سمت دی' ملک میں امن وامان قائم کیا اور لوڈشیڈنگ میں کمی کی جبکہ سی پیک جیسے عظیم منصوبے کا آغاز کای جو سرمایہ کار ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اب ان کی واپسی شروع ہو چکی ہے مقامی سرمایہ کاروں نے بھی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے صنعتی شعبہ نے بھی پیداوار شروع کر دی ہے جس سے نہ صرف کارکنوں کو روزگار ملا بلکہ مختلف مصنوعات کی برآمدات کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ارزانی اور بہترین معیار کی بنیاد پر اشیاء جگہ پاتی ہیں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ہمارے برآمدکنندگان بہترین معیار کی مصنوعات برآمد کرنے پر توجہ دیں گے حکومت نے اس شعبہ کو ایک بڑا پیکج دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے اب اسے مطلوبہ نتائج دینے ہیں اور قوم کی امنگوں کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔