Get Adobe Flash player

افغان مہاجرین کو مردم شماری سے باہر رکھا جائے

اگرچہ مردم شماری کے انعقاد کے سلسلے میں فیصلہ ہوچکا ہے اور وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں باقاعدہ پلاننگ کرلی ہے تاہم بلوچستان سے اٹھنے والی بعض  آوازیں ایسی ہیں جو بلوچستان کی حد تک اس کے التواء کا باعث بن سکتی ہیں اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ افغان مہاجرین ہیں حکومت کی اتحادی جماعت نیشنل پارٹی نے کہا کہ جب تک افغان مہاجرین صوبے سے نہیں چلے جاتے اس وقت تک مردم شماری نہ کرائی جائے وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ میر حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ اگر افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کرائی جاتی ہے تو صورتحال خراب ہوسکتی ہے ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود کیا جائے اس کے بعد صوبے میں مردم شماری کرائی جائے جبکہ ایک اور موقف یہ ہے کہ پہلے افغان مہاجرین کا الگ سے اندراج کیا جائے ان کی مردم شماری و خانہ شماری کی جائے اس کے بعد پاکستانیوں کا شمار کیا جائے اس طرح ان مہاجرین کو مردم شماری سے  الگ کیا جاسکتا ہے پہلے مرحلے میں بلوچستان کے چھ اضلاع کوئٹہ' ژوب' سبی' نصیر آباد' قلات اور مکران میں مردم شماری ہوگی اہم بات یہ ہے کہ بعض قوم پرست جماعتوں کی مخالفت کے باوجود حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر مردم و خانہ شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں مردم خانہ شماری میں افغان مہاجرین کو شامل نہ کیا جائے البتہ  زیادہ مسائل وہاں پیش آسکتے ہیں جہاں افغان مہاجرین نے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں مردم شماری و خانہ شماری کے دوران شمار کنندگان کے ساتھ مسلح افواج کے 45ہزار فوجی تعینات کئے جائیں گے وفاقی حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ حساس مقامات کی نشاندہی کریں تاکہ مردم شماری کے لئے وہ علاقے مسلح افواج کے سپرد کئے جائیں۔مردم شماری کے دوران بڑا مسئلہ یہی ہے کہ جہاں کوئی پاکستانی اس میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے وہاں کوئی غیر پاکستانی اس میں شمار نہ کیا جائے غیر پاکستانیوں  میں اس وقت افعان مہاجرین بڑی تعداد میں موجود ہیں جو صرف بلوچستان میں نہیں خیبرپختونخواہ' پنجاب' سندھ بلکہ آزادکشمیر تک میں پھیلے ہوئے ہیں انہیں مردم شماری میں ہرگز شامل نہیں ہونا چاہیے اس ضمن میں یہ ضروری ہے کہ پاکستانی شناختی کارڈ کے حامل افراد کی ہی رجسٹریشن کی جائے اور جو کوئی شناختی کارڈ نہ دکھا سکے اسے مردم شماری میں درج نہ کیا جائے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ جو افغان مہاجرین چاروں صوبوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں مردم شماری سے کیسے باہر رکھا جائے ابھی تک وفاقی حکومت کی اس سلسلے میں کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی' ایسے افغان مہاجرین کی بھی بھاری تعداد موجود ہے جنہوں نے غلط طور پر سکونت اور تصدیق کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں نادرا کے ریکارڈ سے انہیں حذف کرنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا شفاف مردم شماری کا مقصد یہی ہے کہ کسی غیر پاکستانی اور مہاجر کو پاکستانی شہری کی حیثیت سے درج نہ کیا جائے اس سمت خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔