Get Adobe Flash player

فوجی عدالتوں پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوششیں

وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں عسکری قیادت بھی موجود تھی اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ داخلی امن کے قیام اور خارجہ پالیسی کے اقدامات کی تقویت کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے معاملے میں زیر و برداشت کی واضح پالیسی پر کار بند رہیں گے قومی پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ فوجی عدالتیں دوبارہ شروع کرنے پر مشاورت شروع کر دی گئی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان عدالتوںنے اہم کردار ادا کیا ہے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئینی ترمیم لانے پر اتفاق ہوا اجلاس میں ملک کی داخلی صورتحال بالخصوص دہشت گردی کے خلاف کئے گئے اقدامات اور آپریشن سے حاصل ہونے والے ثمرات کو پائیدار اور مستحکم بنانے پر غور کیاگیا اجلاس نے زور  دیا کہ فوجی عدالتوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایکشن کے لئے بہت ہی نازک مرحلہ پر بہت اہم کردار ادا کیا ان عدالتوں  نے آپریشن ضرب عضب کے تحت کئے گئے اقدامات کو ٹھوس اور قومی مقاصد کے حصول کے لئے عملی شکل دی' اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر قیادت حکومتی کمیٹی اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی اور فوجی عدالتوں کے معاملے پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کر ے گی وزیر قانون زاہد حامد' وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق' وزیر مملکت انوشہ رحمان اور وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین کمیٹی میں شامل ہوں گے اگر سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی توسیع پر اتفاق کیا تو حکومت اس معاملے کی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرے گی اتفاق رائے کی صورت میں چھ ماہ یا ایک سال کے لئے فوجی عدالتوں میں توسیع کی جاسکتی ہے۔مذکورہ اجلاس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت آئینی ترامیم لانے کے بجائے اتفاق رائے کی صورت میں سادہ طریقہ کار کے تحت پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرے گی بہرحال طریقہ کار جو بھی اختیار کیا جائے اہم بات سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کی ہے ہم نہیں سمجھتے اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کے پاس مخالفت کا کوئی ٹھوس جواز موجود ہے فوجی عدالتوں نے دو برسوں کے دوران جو نتائج  دئیے ہیں مروجہ عدالتوں کے نظام کے ذریعے ایسے نتائج حاصل نہیں ہوسکتے تھے' البتہ ان امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ بعض جماعتیں حکومت کی مخالفت کے طور پر فوجی عدالتوں میں توسیع کی حمایت نہ کریں یا اس معاملے کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کریں اور حکومت کو مشروط حمایت پیش کریں۔پاکستان کے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے جو جماعت بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتی ہے وہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے اور نہیں چاہتی کہ انہیں سخت سزائیں دی جائیں اور انہیں کیفر کردار کو پہنچایا جائے جن جماعتوں نے ماضی میں طالبان کی حمایت میں بیانات دئیے اس امر کے امکانات موجود ہیں وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کی مخالفت کریں اسی طرح آئین اور جمہوریت کے نام پر بھی مخالفت کرنے والے موجود ہیں مگر یہاں مسئلہ استدلال تلاش کرنے کانہیں بلکہ یہ دیکھنے کا ہے کہ کس دوا اور علاج سے قوم کو افاقہ ہوا اور ملک میں امن قائم ہوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم نے قربانیاں دے کر جو ثمرات حاصل کئے انہیں بار آور بنانے کے لئے یہ لازم ہے کہ کم از کم ایک سال کے لئے فوجی عدالتیں مزید کام کریں ہمیں یقین ہے کہ جس اجلاس میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف موجود ہوں گے فوجی عدالتوں کے معاملے میں تعاون کی فضا پیدا ہوگی اور مخالفت کم سے کم ہوگی' یہ ملک کے مفادات کا معاملہ ہے کسی حکومت کے مقاصد یا سیاسی مفادات کا مسئلہ نہیں اس لئے سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ حقائق کا ساتھ دینا ہوگا محض مخالفت برائے مخالفت کی روش سے گریز کرنا ہوگا۔