Get Adobe Flash player

فوجی عدالتوں نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا متبادل نظام کو فوراً حرکت میں لائیں

7 جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انہوں نے کام بند  کردیا ہے جبکہ  متبادل نظام ابھی تک وضع نہیں کیا جا سکا۔ ادھر آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ان میں مقدمات قانون کے مطابق نمٹائے گئے ان کے فیصلوں کے نتیجے میں دہشتگردی میں کمی آئی ہے بیان کے مطابق فوجی عدالتوں کا قیام آئینی ترمیم کے ذریعے دہشتگردی کے سخت ماحول میں عمل میں لایا گیا جبکہ معمول کا عدالتی نظام دبائو میں تھا  عدالتیں اور جج بھی دہشتگردی  کا نشانہ تھے اس لئے خصوصی آئینی اقدامات کئے گئے  تاکہ دہشتگردوں اور دہشتگردی پر موثر انداز میں قابو پایا جا سکے اپنی مدت  کے دوران  فوجی عدالتوں کو 274  مقدمات بھجوائے گئے  جن میں سے 161  مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی  ان میں سے بارہ کو پھانسی دی جا چکی ہے 113  مقدمات میں مختلف  دورانیے کی قید کی سزا ئیں دی گئیں فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے  مقدمات کو قانونی طریقہ کار کے مطابق نمٹایا گیا یا امر قابل ذکر ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ حکومت گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے اور دیگر  اصلاحات کے ذریعے عدالتی نظام  کو طاقتور بنائے گی  تاہم اس ضمن میں ٹھوس پیش رفت دکھائی نہیں دیتی  جماعت اسلامی  جے یو آئی (ف) اور بعض دیگر جماعتوں نے فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ جوڈیشل اور قانونی ماہرین نے اصلاحات نہ کرنے پر حکومت پر تنقید کی ہے ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی  بیرسٹر ظفراللہ ن کہاکہ اصلاحات کرنا صوبوں کا کام ہے  اس ضمن میں ان سے ہی پوچھا جانا چاہیے قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اصلاحات  سمیت دیگر معاملات پر  غور کرنے کیلئے بدھ کو پارلیمانی جماعتوں کے لیڈروں کا اجلاس بلایا ہے۔دوبرسوں کے دوران فوجی عدالتوں نے مجموعی طورپر 274  مقدمات کو نمٹایا۔ کیا کوئی سول عدالت اس مدت کے دوران اتنے مقدمات کے فیصلے سنا سکتی تھی؟ یقیناً اس کا جواب نفی میں ہی دیا جا سکتا ہے  ہم ان ہی کالموں میں بار بار حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروا چکے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے بعد انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتوں کا متبادل نظام موجود ہونا چاہیے جسے فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے فوراً بعد متحرک ہو جانا چاہیے خفیہ ایجنسیاں اور پاک فوج سمیت سکیورٹی فورسز  دہشتگردی کے خلاف جو بھی کام کررہی ہیں اس کے حتمی نتائج اس وقت ہی نکل سکتے ہیں جب جلد انصاف کا نظام قائم کیا جائے  اگر دہشتگردوں کی جلد سزا دینے میں کوتاہی کی گئی اور اس معاملے کو التواء میں ڈالا گیا تو یہ نہ صرف شہیدوں کے خون سے ناانصافی ہوگی جو دہشتگردی کی جنگ میں مارے گئے بلکہ بچے کھچے دہشتگرد اور ان کے سہولت کار ایک بار پھر متحرک ہو جائیں گے۔