Get Adobe Flash player

طالبان کے اجتماع میں خودکش دھماکہ،کمانڈروں سمیت 30ہلاک

افغانستان میں طالبان کے اجتماع میں خودکش جیکٹس پھٹنے کے نتیجے میں متعدد سینئر کمانڈروں سمیت 30طالبان جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ مشرقی صوبہ ننگرہار میں غیر ملکی فورسز کے فضائی حملے میںبچوں اور خواتین سمیت 16شہری جاں بحق ہوگئے۔جمعہ کو افغان میڈیا کے مطابق مغربی صوبہ فراح میں طالبان عسکریت پسندوں کے اجتماع میں خودکش جیکٹس پھٹنے کے نتیجے میں 30جنگجو مارے گئے ۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ جمعرات کو ضلع بالا بولوک میں پیش آیا ۔صوبائی گورنر کے ترجمان ناصر مہری نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طالبان جنگجو وقت سے پہلے ہی 2خودکش جیکٹس پھٹنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ۔ترجمان کا کہنا تھاکہ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد میں سینئر طالبان کمانڈر بھی شامل ہیں۔مہری کاکہنا تھاکہ بڑی تعداد میں طالبان جنگجو ایک گائوں میں سیکورٹی چوکیوں پر مربوط حملوں کی منصوبہ بندی کیلئے جمع ہوئے تھے جب واقعہ پیش آگیا۔دریں اثناء طالبان نے رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسطرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ادھر مشرقی صوبہ ننگرہار میں غیر ملکی فورسز کے فضائی حملے میں 16شہری جاں بحق ہوگئے ۔صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فضائی حملے میں مارے جانے والوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے ۔ذرائع کے مطابق واقعہ ضلع ہیسکا مینا میں پیش آیا جب فضائی کاروائی میں شہریوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔دوسری جانب نیو جرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔یہ میرے لیے ایک بہت بڑا فیصلہ ہے ۔ٹرمپ نے پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے ٹائم فریم دیئے بغیر کہاکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں 17سالہ تویل جنگ جاری ہے بہت جلد ایک فیصلہ کرنے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے پر متعین افغان خواتین پر حملہ کیا گیا جس میں 3 خواتین ہلاک اور 1 زخمی ہو گئی ۔بگرام کے کمشنر عبدالشکر قدوسی نے بتایا ہے کہ یہ خواتین امریکی اڈے کے قریب بازار سے چیزیں خرید رہی تھیں کہ جن پر نامعلوم افراد نے مسلح حملہ کر دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ خواتین فوجی اڈے کی حفاظتی چوکیوں پر متعین تھیں۔اس واقعے کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔