Get Adobe Flash player

ورلڈ کپ تک رسائی،پاکستان کو آسٹریلیا کیخلاف ایک فتح لازمی درکار

پاکستانی کر کٹ ٹیم کو ورلڈ کپ میں براہ راست رسائی کا عزم لیے جمعے سے آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ مچیوں کی سیریز کیلئے میدان میں اترے گی۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی درجہ بندی میں پاکستانی ٹیم 89 پوائنٹس کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہے اور کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کا خطرہ تاحال گرین شرٹس کے سر پر منڈلا رہا ہے۔30 ستمبر 2017 تک میزبان انگلینڈ سمیت آئی سی سی رینکنگ کی ابتدائی آٹھ ٹیمیں 2019 میں ہونے والے ورلڈ کپ تک براہ رسائی حاصل کر لیں گی اور آخری دو ٹیموں کو کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا پڑے گا۔اس وقت قومی ٹیم نویں نمبر پر موجود ویسٹ انڈیز سے دو پوائنٹس آگے اور ساتویں نمبر پر موجود بنگلہ دیش سے دو پوائنٹس پیچھے ہے اور ورلڈ کپ تک براہ راست رسائی کے سلسلے میں آسٹریلیا کی سیریز انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔پاکستان کو اپنے پوائنٹس کی موجودہ تعداد برقرار رکھنے کیلئے سیریز میں کم از کم ایک فتح درکار ہے اور ایک سے زائد فتوحات اسے مزید قیمتی پوائنٹس دلا دیں گی۔1992 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم اگر دو میچز جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے پوائنٹس کی تعداد بنگلہ دیش کے مساوی 91 ہو جائے گی۔ اور اگر قومی ٹیم عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے سیریز 3ـ2 سے جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ورلڈ کپ تک براہ راست رسائی کے امکانات روشن کر لے گی۔دوسری جانب سیریز 4ـ1 سے جیتنے کی صورت میں آسٹریلیا اپنے پوائنٹس کی تعداد برقرار رکھ پائے گی لیکن 3ـ2 سے جیتنے کی صورت میں بھی ٹیم ایک پوائنٹ گنوا دے گی اور سیریز 4ـ1 سے ہارنے کی صورت میں آسٹریلین ٹیم عالمی نمبر ایک کا منصب گنوا بیٹھے گی لیکن آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ 19 میں سے 15 ون ڈے میچ جیتنے والی پاکستانی ٹیم سے ایسی کارکردگی کی امید بہت کم ہے۔ادھر پاکستانی ٹیم نائب کپتان سرفراز احمد کی خدمات سے محروم ہو چکی ہے جو اپنی والدہ کی علالت کے سبب وطن لوٹ چکے یہں جبکہ محمد عرفان کا خلا پر کرنے کیلئے جنید خان موجود ہوں گے۔سرفراز احمد کی جگہ ون ڈے ٹورنامنٹ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والے کامران اکمل کو آسٹریلیا بھیجے جانے کا امکان ہے۔پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا پہلا ایک روزہ میچ جمعہ کو برسبین میں کھیلا جائے گا جس کے بعد دونوں ٹیمیں اتوار کو میلبرن میں نبرد آزما ہوں گی۔